. . . مگر ہم بھی سمجھتے ہیں کہ ہاں! | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’اسامہ ساری دنیا سے کٹ کر رہ گیا ہے اورامریکی اور عراقی افواج نے فلوجہ میں مزاحمت کی کمر توڑدی ہے لیکن شورش پسندوں کا سرغنہ وہاں سے بچ کر نکلنے میں کامیاب ہوگیا ہے‘ یہ اور اس طرح کے بیانات اسامہ اور عراق کے بارے میں سنتے سنتے تھک گیا ہوں۔ پہلے نجف اشرف میں مزاحمت کاروں کی کمر توڑی گئی، اس کے بعد سمارہ میں توڑی گئی پھر فلوجہ اور رمادی میں، اب سنا ہے موصل میں توڑی جارہی ہے، یا تو امریکی افواج کو پتہ ہی نہیں ہے کہ شورش پسندوں کی کمر کہاں اور کدھر ہے یا پھر ان کی کمر کچھ ایسی ہے کہ ایک جگہ توڑی جاتی ہے ، دوسری جگہ نکل آتی ہے۔ ادھر ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر سے، حسب وعدہ ، چالیس ہزار فوجیوں کا انخلا شروع ہوگیا ہے۔ میں نے ایک اخبار میں ان کی واپسی کی تصویر دیکھی سب بس میں بیٹھے مسکرا رہے تھے، ان کے چہروں پر بڑا اطمعنان تھا۔ میری دعا ہے کہ صرف کشمیر میں ہی نہیں، دنیا میں جتنے بھی فوجی ہیں اور جہاں بھی تعینات ہیں، ان سب کو اللہ ان کے حکمرانوں کے احمقانہ فیصلوں سے نجات دلائے اور انہیں گھروں کو واپسی کی خوشی عطا کرے۔ ادھر اپنے پاکستانی وزیر اعظم جناب شوکت عزیز نے ملک کے اقتصادی اور سماجی مسائل سے نمٹنے کے لیے ایک بڑے جامع منصوبے کا اعلان کردیا ہے اب اس پر عمل کرکے دکھائیں تو جانیں ۔ لیکن میں آج ایک اور موضوع کی جانب آپ کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں۔
گزستہ دنوں سندھ کے ضلع حیدرآباد میں زہریلی شراب پینے کی وجہ سے کوئی سولہ افراد ہلاک ہوگئے ۔اس سے پہلے ستمبر میں ملتان اور مظفر گڑھ میں کوئی ایسی ہی زہریلی شراب پی کر تیس سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھےاور یہ اب ایک معمول سا بنتا جارہا ہے کہ ہر سال دو سال کے بعد کوئی زہریلی شراب پی کر دو چار درجن افراد لقمۂ اجل بن جاتے ہیں۔ پاکستان میں شراب نوشی کا سلسلہ پاکستان کے وجود میں آنے سے بہت پہلے سے جاری ہےاور ہندوستان پر مسلمان بادشاہوں کے کوئی سات سو سالہ دور حکومت میں بھی جاری رہا ہے۔ شائد ہی کوئی بادشاہ ایسا گزرا ہو جسے یہ شوق نہ رہا ہو اور بعض نے تو اپنی خود نوشتوں میں اس مشغلے کا بڑے مزے لے لے کر ذکر بھی کیا ہے شاعروں اور ادیبوں میں بھی اس کا رواج عام تھا اور ہے اور اسداللہ خاں تو اپنی خستہ حالی کے زمانے میں بھی ’اولڈ ٹام‘ اور ’پرتگالی‘ سے کبھی نیچے نہیں آئے۔ پھر یہ بھی کوئی چھپی ڈھکی بات نہیں ہے کہ پاکستان کے بڑے بڑے رہنما اور بعضوں کی بیگمات بھی اس سے شغل فرماتی رہی ہیں، بعضوں کو تو میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے بلکہ یوں کہیے کہ ان کے ساتھ ہم مشربی کا اعزاز بھی حاصل رہا ہےاوربعضوں کے بارے میں سنا اور پڑھا ہے۔ ایک زمانے میں مجھے گوادر سے سست تک سفر کرنے کا موقع ملا تھا اس میں مجھے اندازہ ہوا کہ شراب بنانے اور اس کی فروخت پر پابندی کا قانون تو ہے لیکن حقیقی معنوں میں اس پر پابندی عائد نہیں کی گئی ہے ، صرف ملک کے خزانے کو اس کی درآمدی اور برآمدی ڈیوٹی سے محروم کردیا گیا ہے اور اسمگلروں کو کھلی چھٹی دیدی گئی ہے کہ جتنی قیمت چاہیں وصول کریں۔ چنانچہ شراب اب بھی ہر علاقے میں دستیاب ہے صرف قیمتوں کا فرق ہے مثلاً گوادر میں اگر عا م وسکی کی ایک بوتل چھ سو روپے کی ملتی ہے تو اسلام آباد پہنچتے پہنچتے اس کی قیمت دو ہزار ہوجاتی ہے۔ جبکہ ڈیلکس وسکی جیسے بلیک لیبل اور شیواز ریگل وغیرہ، تو وہ کوئی چار ہزار کےپیٹے میں دستیاب ہے۔ اس تمہید کا مقصد، صرف یہ بتانا تھا کہ پاکستان میں پابندی کے باوجود شراب کا کاروبار جاری ہےاور پینے والوں کی بھی کمی نہیں ہے لیکن شراب پی کر عام طور پر مرنے والے غریب لوگ ہوتے ہیں جو بچارے صرف ایسی شراب خرید سکتے ہیں جو زہریلی ہو اس لیے کہ اصل مال خریدنے کی ان میں استطاعت نہیں ہوتی۔
امریکہ میں بھی ایک زمانے میں شراب بنانے اور اس کی فروخت پر پابندی عائد کردی گئی تھی اس کے نتیجے میں شراب نوشی کا سلسلہ تو نہیں بند ہوا ہاں اسمگلروں کے وارے نیارے ہوگئے اور صرف وہی لوگ پی سکتے تھے جو اسمگلروں کی منہ مانگی قیمت ادا کر سکتے تھے باقی بیچارے غریب لوگ ، وہ یا تو حسرت سے پینے والوں کا منہ دیکھتے تھے یا پھر اگر بہت طلب ہوتی تھی تو وہی والی پی لیتے تھے جس سے جسم میں سرور کے بجائے زہر پھیل جاتا ہے، خدا بھلا کرے آنجہانی صدر روزویلٹ کا، اقتدار میں آتے ہی انہوں نے شراب کے کاروبار پر عائد پایبندی اٹھالی، اس کے نتیجے میں اسمگلروں کا زوربھی ٹوٹا اور غریب لوگوں کو بھی ان کی استطاعت کے مطابق دستیاب ہونے لگی۔ پاکستان کے ارباب اقتدار میں بھی ایسے لوگوں کی تعداد اچھی خاصی ہوگی جو یہ شوق رکھتے ہیں لیکن ان میں روز ویلٹ کی طرح یہ ہمت نہیں ہے کہ وہ اس پابندی کو ختم کرادیں جو قانون کے نام پر ایک ڈھکوسلہ ہے۔ جس زمانے میں، یعنی بھٹو صاحب کے آخری دور میں، شراب پر پابندی لگائی گئی تھی تو اس وقت صرف سندھ کو اس مد میں کروڑوں روپے سالانہ کی آمدنی تھی۔ اب یہ رقم سرکاری خزانے کے بجائے اسمگلروں، کسٹم، پولیس اور کوسٹ گارڈ کے بد عنوان افسروں کی جیب میں جارہی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر شراب پر پابندی رکھنی ہے تو ضرور رکھیے لیکن اس طرح رکھیے کہ کسی کو بھی نہ ملے ، وہ صدر ہو یا گداگر، اور اگر ایسی پابندی لگانی ہے جیسے کہ اب ہے تو للّہ اس کو اٹھا لیجیے اس لیے کہ یہ منافقت کے زمرے میں آتی ہے اور اس کے نتیجے میں ہر سال پچیس پچاس افراد لقمۂ اجل ہوجاتے ہیں اس لیے کہ وہ شراب کے تو عادی ہیں لیکن شراب خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے اور مجبوراً اس کے نام پر زہر خرید لیتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||