’کشمیر کشمیریوں کا ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے سابق وزیراعظم جناب اندر کمار گجرال گزشتہ دنوں پاکستان کے دورے پر آئے تھے۔ اپنے قیام کے دوران انہوں نے بڑے مزے مزے کی باتیں کیں جن کا لُبِ لباب یہ تھا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تجارت اور آمد و رفت بڑھنی چاہئے۔ انہوں نے اپنے دورے کے اختتام پر لاہور میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا کہ ہندوستان اپنے کسی علاقے اور سیکولرزم کے نظریے سے کسی طرح بھی دست بردار نہیں ہو سکتا۔ میں گجرال صاحب کی امن پسندی کا بڑا قائل ہوں اور جب وہ وی پی سنگھ کی حکومت میں وزیر خارجہ اور بعد میں ملک کے وزیراعظم بنے تھے تو مجھے بڑی خوشی ہوئی تھی۔ اس لئے کہ کوئی دانشور، ادیب، صحافی یا شاعر کسی ملک کی باگ ڈور سنبھالتا ہے تو مجھے بڑی خوشی ہوتی ہے اور یہ یقین ہو جاتا ہے کہ وہ کتنا ہی بُرا ہو کوئی ایسی بیہودہ حرکت نہیں کرے گا جس سے انسانیت کے نام پر بٹہ لگنے کا خدشہ ہو اور یہی ہوا جناب گجرال نے اپنے ہمسایوں سے تعلقات بہتر بنانے کی پالیسی اختیار کی جسے گجرال ڈاکٹرین کا نام بھی دیا گیا۔ جناب گجرال اپنی اس پالیسی میں خاصے کامیاب بھی رہے اور اس کے نتیجے میں سری لنکا اور چین سے ہندوستان کے تعلقات بہتر بنانے میں خاصی مدد ملی پاکستان سے بھی تعلقات میں بہتری آئی لیکن ابھی اس میں استحکام نہیں آیا تھا کہ گجرال صاحب کی حکومت ہی ختم ہوگئی اور اس کے بعد جو حکومت آئی وہ مرنے مارنے والی تھی پھر کارگل کا واقعہ بھی ہوگیا۔ اس کے بعد امن کی کوششیں کیا آگے بڑھتیں دونوں طرف کے رہنما جوہری بموں کی آزمائش کرنے لگے۔ دونوں ملکوں میں ’سنگ وخشت مقید اور سگ آزاد‘ ہوگئے اور ایک دوسرے کی طرف منہ اٹھا اٹھا کر بھونکنے لگے۔ لیکن اللہ میاں کو دیکھیے کیسے کیسے لوگوں سے کتنے بڑے بڑے کام لے لیتے ہیں۔ کوئی توقع کر سکتا تھا کہ دونوں ملکوں میں امن کی بات چیت جناب واجپئی اور جنرل پرویز مشرف کے ذریعے شروع ہو سکےگی۔
گجرال صاحب نے جو یہ کہا ہے کہ ہندوستان سیکولرزم اور اپنے کسی علاقے سے دست بردار نہیں ہو سکتا۔ میں ان سے سو فیصد اتفاق کرتا ہوں۔ اس لئے کہ ہندوستان ہی نہیں دنیا کا کوئی بھی ملک اپنے علاقے اور اپنے اساسی نظریات سے دست بردار نہیں ہو سکتا۔ لیکن کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ گجرال صاحب کا اشارہ کشمیر کی جانب تھا۔ میں ان لوگوں میں شامل ہوں جو یہ سمجھتے ہیں کہ کاش کشمیر ہندوستان کا حصہ ہوتا تاکہ دونوں ملکوں میں گزشتہ ستاون سال سے یہ جو مخاصمت جاری ہے وہ نہیں ہوتی۔ لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہے، یہ اب بھی ایک متنازعہ علاقہ ہے۔ اور اس کی ایک بڑی دلیل یہ ہے کہ اس کا کچھ علاقہ ہندوستان کے کنٹرول میں ہے کچھ پاکستان کے۔ مشکل یہ ہے کہ اس مسئلے کو اب تک ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ایک قضیہ تصور کیا جاتا رہا ہے۔ ہندوستان اسے اپنا اٹوٹ انگ تصور کرتا ہے اور پاکستان کا یہ دعویٰ ہے کہ یہاں چونکہ مسلمانوں کی اکثریت ہے اس لئے کشمیر کو پاکستان کی حدود میں شامل ہونا چاہئے۔ دونوں میں سے کوئی بھی اسے کشمیری عوام کا مسئلہ تسلیم کرنے پر تیار نہیں اور میرے خیال میں یہی اس کے اب تک نہ حل ہونے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ پاکستان کے رویے میں تو تھوڑی سی لچک آئی بھی ہے اور پرویز مشرف یہ کہتے رہے ہیں کہ دونوں ملکوں کو اپنے روایتی موقف سے پیچھے ہٹنا پڑے گا اور کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر بات کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس ہندوستان کے روئے میں بالخصوص اس قضیے کے بارے میں اب بھی ایک کٹرپن پایا جاتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ کشمیر ہی نہیں دنیا کا کوئی بھی خطہ ہو اس کے مستقبل کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ وہاں کے عوام ہی کر سکتے ہیں اور ان کے اس حق کو جس قدر جلد تسلیم کر لیا جائے اتنا ہی جلدی مسئلے کو حل کیا جا سکتا ہے اور جتنی تاخیر کی جائے گی اتنا ہی یہ مسئلہ پیچیدہ ہوتا جائے گا۔ اس کی ایک مثال سابق مشرقی پاکستان کی ہے اگر قومی زبان اور علاقائی خود مختاری سے متعلق مطالبات ابتداء میں ہی تسلیم کر لئے جاتے تو شاید بنگلہ دیش بننے کی نوبت نہ آتی اور اتنا خون خرابہ بھی نہیں ہوتا۔ اگر ہندوستان یہ سمجھتا ہے کہ وہ کشمیر پر طاقت کے ذریعے اپنا قبضہ جاری رکھ سکتا ہے تو یہ اس کی ناعاقبت اندیشی ہوگی اور اگر پاکستان کو یہ خوش فہمی ہے کہ ہندوستان کے زیر کنٹرول علاقے میں موجودہ شورش بالآخر اس کے حق میں جائے گی تو وہ بھی خام خیالی کا شکار ہے۔ اس لئے کہ کشمیری پہلے کشمیری ہوتا ہے، بعد میں کچھ اور۔ علامہ اقبال مرحوم کو بھی اپنے برہمن زاد کشمیری ہونے پر فخر تھا اور پنڈت نہرو، سرتیج بہادر سپرو اور آنند نرائین ملا الٰہ آباد اور لکھنؤ میں کئی پشتیں گزارنے کے بعد بھی اپنے آپ کو کشمیری کہنے میں فخر محسوس کرتے تھے۔ دونوں ممالک اگر حقیقی معنوں میں اس قضیے کو حل کرنا چاہتے ہیں تو انہیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ کشمیر کشمیریوں کا ہے اور وہی اپنے مستقبل کا تعین کرنے کے مجاز ہیں۔ اگر اس بنیادی بات کو تسلیم کر لیا جائے تو اس قضیے کے حل کی امید کی جا سکتی ہے اور اگر کسی حیلے بہانے سے اس پر قبضہ جاری رکھنے یا ایک دوسرے کو ذک دینے یا زچ کرنے کے لئے اسے استعمال کیا جاتا رہا تو یہ کبھی حل نہیں ہو سکے گا اور ہمیشہ کی طرح انسانی جانوں اور وسائل کی بے مقصد بربادی کی شکل میں اپنی قیمت وصول کرتا رہے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||