پری لے گئی یا پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’ایک دن وہ بہت افسردہ نظر آئے اور کہنے لگے کہ کوئی مجھے بہت پریشان کر رہا ہے۔ میں نے انکی بات ہنسی میں ٹال دی لیکن ان کے غائب ہوجانے کے بعد ایک بزرگ پیر نے کہا کہ تمہارے شوہر پر پری عاشق ہوگئی ہے تو مجھے انکی پریشانی کا اندازہ ہوگیا۔ ہوسکتا ہے کہ انہیں پریاں ہی لے گئی ہوں اور وہ آزادی کی تلاش میں تڑپ رہے ہوں۔‘ مختارہ بیگم کی آنکھیں آنسوؤں سے تر ہو رہیں تھیں جب وہ مجھے اپنے شوہر کے غائب ہونے کی داستان سنا رہی تھیں۔ یہ 1978 کا زمانہ تھا جب کشمیر میں سیاسی حالات کچھ نارمل ہوگئے تھے کیونکہ بعض پاکستان نواز کشمیریوں
شاید اسی لئے کئی لوگوں نے لون کے غائب ہوجانے کے بعد فوراً کہا کہ وہ پاکستان چلے گئے ہوں گے۔ مختارہ بیگم نے اس دن کو یاد کرتے ہوۓ کہا: ’آٹھ جون کی حسین شام تھی دستر خوان پرسب انتظارکر رہے تھے کہ وہ غائب ہوگئے اور چوبیس سال گزرنے کے بعد نہ تو انکی کوئی خبر ملی اور نہ کوئی پیغام۔ کسی نے کہا کہ وہ جنگل میں کسی مزار پر بےحس پڑے ہیں۔ کسی نے کہا کہ انہیں پریاں جنت میں لے گئیں اور درویش اکبر صاحب انہیں پریوں سے آزاد کراسکتے ہیں۔ درویش ہمیں جنگل میں لے گئے اور کہا کہ انہیں دور پاتال میں پریوں سے رہا کرانا ہے۔ درویش صاحب رات بھر کمرے میں بند مصروف رہے اور پھر نہ جانے کہاں کافور ہوگئے‘۔ کشمیر میں پر اسرار طور پر غائب ہونے کا یہ معاملہ ان دنوں سیاسی نوعیت اختیار کر گیا اور حکومت وقت نے بھی لون کو تلاش کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ سابق وزیراعظم بخشی غلام محمد کے بھائی بخشی حمید نے انہیں دلی کے لاجپت نگر علاقے میں دیکھنے کی اطلاع دی جبکہ پاکستان ریلوے میں ملازم ایک کشمیری نے انہیں لاہور کے گلبرگ علاقے میں دیکھنے کی شہادت دی۔ ان کے بچے اپنی اپنی دنیاؤں میں آباد ہیں لیکن سب کے دلوں میں ایک کسک ایک رنجش اور ایک موہوم سی امید باقی ہے کہ انکے والد شاید ایک بار آجائیں اور اپنے پراسرار حالات میں غائب ہونے کی وجہ بتائیں۔ پاکستان میں ایسی کئی انجمنیں قائم ہوئیں ہیں جنہوں نے کشمیر سے لاپتہ ہونے اور پاکستان میں آنے والے لوگوں کی فہرست تیار کی اور ان کے گھر والوں کو ان کی اطلاع دی۔ لیکن مختارہ بیگم کہتی ہیں کہ وہ ان خوش قسمت عورتوں میں نہیں وہ آج بھی اپنے شوہر کے آنے کا انتظار کر رہی ہیں۔ کم از کم کوئی یہ خبر تو دے کہ وہ زندہ ہیں۔ مختارہ بیگم شرمسار ہوکر مجھ سے مخاطب ہوئیں۔ ’میں نے ایک وفادار بیوی کا فرض نبھایا۔ میں انہیں بے وفا بھی نہیں کہ سکتی کیونکہ میں نہیں جانتی کہ انکے ساتھ کیا ہوا۔ پر میں ایک بار یہ جاننا چاہتی ہوں کہ کیا پریاں اتنی خوبصورت تھیں کہ وہ اپنی پری کو بھول گیا‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||