BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 06 May, 2005, 14:36 GMT 19:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’یہ انتخابات یاد رکھے جائیں گے‘

 بلئر
برطانوی پارلیمانی تاریخ میں پہلی مرتبہ لیبر پارٹی مسلسل تیسرے انتخابات جیتی ہے۔
یہ برطانوی انتخابات کئی وجہ سے یاد رکھے جائیں گے۔ جیسے حکمراں پارٹی کو رجسٹرڈ ووٹوں کا صرف بائیس فیصد اور ڈالے جانے والے ووٹوں کے چھتیس فیصد کے لگ بھگ ووٹ پڑے ۔ جو کہ تناسب کے اعتبار سےانیس سو تراسی کے بعد سے حکمراں پارٹی کو پڑنے وا لے سب سے کم ووٹ ہیں۔ جبکہ گزشتہ عام انتخابات کے تناظر میں حکمراں لیبر پارٹی کو سات فیصد کے لگ بھگ ووٹوں کا خسارہ ہوا ہے اور اس خسارے نے لیبر پارٹی کو کوئی چھیاسٹھ نشستوں سے محروم کردیا لیکن اس کے باوجود برطانوی پارلیمانی تاریخ میں پہلی مرتبہ لیبر پارٹی مسلسل تیسرے انتخابات جیتی ہے۔

جہاں تک حزبِ اختلاف ٹوری پارٹی کا تعلق ہے تو اگرچہ اسکی نشستوں میں اب تک کے نتائج کے مطابق پچھلی دفعہ کی نسبت کم ازکم بتیس نشستوں کا اضافہ ہوا تاہم اسکا ووٹ بینک اتنا ہی رہا جتنا کہ پچھلے انتخابات کے وقت تھا۔یعنی لگ بھگ تینتیس فیصد۔

البتہ سب سے زیادہ اگر کسی کا فائدہ ہوا ہے تو وہ تیسری بڑی جماعت لبرل ڈیمو کریٹس ہے۔جس نے انیس سو انتیس کے بعد پہلی مرتبہ انسٹھ کا ہندسہ پار کیا ہے۔اگرچہ گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں اس مرتبہ اسے اب تک آٹھ نشستیں زائد ملی ہیں لیکن اس نے کل ڈالے جانے والے وو ٹوں کا تقریباً تئیس فیصد حاصل کیا ہے۔بالخصوص جن چالیس حلقوں میں مسلمان ووٹ دس فیصد یا اس سے زائد ہیں ان سب نشستوں میں لبرل ڈیمو کریٹس کو سب سے زیادہ ووٹ پڑے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ برطانوی انتخابی منظرنامے میں یہ تبدیلیاں کیا آٹھ برس سے برسرِ اقتدار لیبر حکومت کی اندرونی پالیسیوں سے ووٹر کی بے اطمینانی ظاہر کرتی ہیں یا عراق کا سایہ ان انتخابات کا آخری وقت تک پیچھا کرتا رھا۔

اگر لیبر حکومت کی معاشی پالیسیوں کی بات کی جائے تو بظاہر انکے سبب معیشت مستحکم رہی۔سابقہ ٹوری ادوار کے مقابلے میں بے روزگاری میں کمی دیکھنے میں آئی۔کارکنوں کی کم ازکم تنخواہ مقرر ہوئی۔شرح سود بھی کم رہی۔صحتِ عامہ کے میدان میں اگرچہ لیبر حکومت معیار تو بلند نہ کرپائی تاہم مریضوں کی لائن کو پہلے جہاں ایک سے ڈیڑھ برس تک انتظار کرنا پڑتا تھااس انتظار کی اوسط میں چھ سے آٹھ ماہ کی کمی دیکھنے میں آئی۔البتہ تعلیم کے میدان میں رائے عامہ اس بات پر خاصی تقسیم ہوئی کہ یونیورسٹوں کو طلبا سے بعد از تعلیم اضافی فیسوں لینے کا اختیار دیا جانا مفید ہے یا غیر مفید۔اس سلسلے میں لیبر حکومت کو خود پارلیمنٹ کے اندر اپنی صفوں میں بھی نہایت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔

جہاں تک امن و امان سے متعلق لیبر حکومت کی پالیسیوں کا تعلق ہے تو گیارہ ستمبر کے بعد سلامتی کے نام پر پولیس کے اختیارات میں اضافے اور دہشت گردی کی پیشگی روک تھام کے تعلق سے قانون سازی جیسے معاملات پر نہ صرف خود لیبر پارٹی کے اندرونی حلقوں بلکہ عدلیہ سے تعلق رکھنے والی کئی مقتدر شخصیات اور نسلی اقلیتوں بالخصوص برطانوی مسلمانوں کی اکثریت نے طرح طرح سے اپنی بے چینی ظاہر کی۔

جبکہ عراق سے متعلق بلئیر حکومت کی پالیسیوں اور امنِ عامہ کے نام پر پالیسیوں کی یکجائی نے مبصرین کے خیال میں ووٹروں کے ایک بڑے طبقے میں اس تاثر کو پختہ کیا کہ اس حکومت نے نہ صرف عراق پر حملے کے جواز کے ذریع رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی کوشش کی بلکہ ان جواز کی بنا پر بنیادی آزادیوں کو بھی ریاستی اداروں کے ذریع محدود کرنے کی کوشش کی۔

دوسری جانب اگر کنزرویٹو پارٹی کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو اسکے ووٹ بینک کا گزشتہ انتخابات کے بعد جوں کا توں رہنا ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنے پروگرام کی بنیاد پر لیبر پارٹی سے بیزار ووٹروں کو راغب نہیں کر سکی۔کئی مبصرین اسکی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ عراق کے بارے میں چاہے بلئر حکومت کی مشکوک پالیسیوں کے بارے میں ٹوریوں کا بظاہر موقف کتنا ہی مخالفانہ کیوں نہ رہا ہو لیکن عملاً ٹوریوں نے پارلیمنٹ میں عراق پر حملے کے سلسلے میں لیبر پارٹی کی ہی تائید کی۔ اسکے علاوہ ٹوری رہمنا مائیکل ہاورڈ کو لیبر حکومت کی اقتصادی پالیسیوں میں بھی مین میخ نکالنے کا کوئی موقع نہ مل سکا۔ نہ ہی وہ امن و امان کے نام پر سخت گیر لیبر اقدامات سے خود کو فاصلے پر رکھ پائی۔ بلکہ ٹوریوں نے امیگریشن سے متعلق لیبر سے بھی زیادہ سخت موقف اختیار کیا۔ جس میں اقتصادی تارکینِ وطن کے بارے میں بے لچک پالیسی۔ امیگریشن کا سالانہ کوٹہ مقرر کرنے اور ایک نئی بارڈر سکیورٹی پولیس کی تشکیل جیسے نکات نمایاں رہے۔

اسکے نتیجے میں لیبر سے بیزار بالخصوص نسلی اقلیتی ووٹ ٹوری کو تو کوئی خاص فائدہ نہ دے سکے لیکن اسکے ثمرات لیبر کی قریب ترین متبادل جماعت لبرل ڈیمو کریٹس نے سمیٹے۔ حالانکہ اگر نسلی اقلیتی امیدواروں کا تناسب دیکھا جائے تو ٹوریوں نے لیبر پارٹی سے زیادہ نسلی اقلیتی امیدوار کھڑے کیے تھے۔

اس تناظر میں مجموعی تصویر اگر دیکھی جائے تو نظر یہی آتا ہے کہ نیا انتخابی نقشہ کنزرویٹو پارٹی یا لبرل ڈیمو کریٹس سے ووٹر کی محبت کے سبب نہیں بلکہ لیبر پارٹی کی عراق پالیسی اور بعض اندرونی پالیسیوں سے بے زاری کے نتیجے میں تشکیل پایا ہے۔

لیبر پارٹی نے کم اکثریت سے ہی سہی لیکن مسلسل تیسری مرتبہ حکومت میں رہنے کی تاریخی کامیابی تو حاصل کرلی لیکن آگے کیا ہوگا؟

جمہوریت میں بعض اوقات اگر حکمران جماعت میں کوئی خرابی نہ بھی ہو تب بھی ووٹر ایک ہی چہرہ بہت عرصے تک دیکھتے دیکھتے اکتا جاتے ہیں اور خود حکمران پارٹی میں بھی قیادت کے سلسلے میں بیزاری شروع ہوجاتی ہے۔ ٹونی بلئر بھی اس کلئیے سے مستثنی نہیں ہیں۔عراق کا معاملہ ہو یا یونیورسٹیوں کی اضافی فیسوں کا معاملہ یا پھر نئے شناختی کارڈوں کو متعارف کرائے جانے کی اسکیم یا پھر دہشت گردی کی روک تھام کے لیے متازعہ اقدامات یا ایسے ہی کسی نہ کسی مسئلے کی وجہ سے حکمراں لیبر پارٹی میں ایک سے زائد مرتبہ چھوٹی بڑی بغاوتیں ہو چکی ہیں۔ چنانچہ قیاس آرائیاں یہی ہیں کہ ٹونی بلئر کے اس برملا بیان کے باوجود کہ وہ چوتھی مرتبہ قیادت کے خواہش مند نہیں ہیں موجودہ ٹرم کے وسط تک برطانیہ ایک نیا لیبر وزیرِ اعظم دیکھ سکتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ جس لیبر پارٹی نے ٹونی بلئیر کی قیادت میں دو مرتبہ شاندار فتح حاصل کی انہی ٹونی بلئیر کی وجہ سے پارٹی نے تیسری مرتبہ کے انتخابات میں اپنی دو تہائی اکثریت کھودی وگرنہ اسی برطانیہ میں یہ روایت بھی موجود ہے کہ مسلسل تیسری دفعہ ٹوری پارٹی کو جتانے والی مارگریٹ تھیچر کو بھی اپنے ہی ساتھیوں کے ہاتھوں اقتدار کی تیسری مدت کے عین وسط میں ٹین ڈاؤننگ اسٹریٹ سے پرنم آنکھیں لیے رخصت ہونا پڑا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد