BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 12 May, 2005, 11:57 GMT 16:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قرآن کی بے حرمتی کے ذمہ دار کون؟

News image
ان واقعات کے ذمہ دار وہ لوگ ہیں جن کے کندھوں پر چڑھ کر بش صدارت تک پہنچے ہیں
پاکستان کو کتے کی شکل میں پیش کرنے والا امریکی اخبار، واشنگٹن ٹائمز، امریکہ کے قدامت پرستوں کا نمائندہ ہے اور اسی حوالے سےصدر بش کا دائمی حامی بھی ہے۔ خلیج گونتانامو میں قائم قید خانے میں قرآن کی بے حرمتی کے واقعات بھی ان حکومتی لوگوں کے ہاتھوں ہوئے جن کو پینٹاگون سے کھلی چھٹی ملی ہوئی تھی۔ غرضیکہ صدر بش، ان کے مشیروں وزیروں اور بالخصوص نیو کانز (نئے قدامت پرست) نےامریکہ میں قدامت پسندی کا جو ماحول پیدا کیا ہوا ہے اس میں مسلمانوں کیا دوسرے اقلیتی تارکین وطن کے خلاف کچھ بھی ہو سکتا ہے۔

اسی متعصبانہ ماحول کا نتیجہ ہے کہ مسلمانوں کے خلاف جرائم کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز (کیر ) کی گیارہ مئی 2005 کی ایک رپورٹ کے مطابق سال 2004 میں مسلمانوں کے خلاف امریکہ میں تعصب کے واقعات میں 52 فیصد اضافہ ہوا۔ مسلمانوں کے خلاف متعصبانہ جرائم کی تعداد 2003 کے 93 سے بڑھ کر 2004 میں 141 ہوگئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2004 میں 1522 ایسے واقعات پیش آئے جن میں مسلمانوں کو ہراساں کیا گیا یا انہیں تعصب کا سامنا کرنا پڑا۔

امریکی مسلمانوں کے ساتھ تعصب کے بہت تھوڑے واقعات باہر کی دنیا تک پہنچتے ہیں اور ان میں چند ہی ایسے ہوتے ہیں جن پر امریکی حکومت کو چھوٹا موٹا اظہار افسوس بھی کرنا پڑتا ہے۔ اکثر واقعات تو ایسے ہیں جو میڈیا تک پہنچتے ہی نہیں ہیں اور اگر پہنچ بھی جائیں تو بش انتظامیہ بر ملا کہہ دیتی ہے کہ یہ نجی معاملہ ہے اور ان معاملات میں امریکی حکومت کچھ کہنے سے قاصر ہے جیسا کہ واشنگٹن ٹائمز کا کتے والا کارٹون چھاپنے والا معاملہ تھا (اگرچہ متذکرہ کارٹون مسلمانوں سے متعلق نہیں پاکستان سے متعلق تھا)۔ اس دلیل میں کمزوری یہ ہے کہ مسلمانوں کی تضحیک کرنے والے اور انہیں زک پہنچانے والے وہ لوگ ہیں جن کے کندھوں پر چڑھ کر بش صدارت تک پہنچے ہیں۔

اسی طرح کے لوگوں میں پادری پیٹ رابرٹسن جیسے لوگ بھی ہیں جو بائبل بیلٹ میں بش کے لئے سیاسی زمین ہموار کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے دو ہفتے پیشتر ایک مقبول ٹی وی پر بار بار زور دے کر کہا کہ امریکہ میں مسلمانوں کو عدلیہ یا انتظامیہ میں کوئی ذمہ دارانہ عہدہ نہیں ملنا چاہیے۔ جب ٹی وی میزبان نے ان کو بیان بدلنے یا تردید کرنے کا موقع فراہم کیا تو انہوں نے مزید شدت سے اپنے متعصبانہ موقف کا اعادہ کیا ۔ یعنی بقول پادری رابرٹس کے مسلمانوں کو قانونی سطح پر دوسرے درجے کا شہری بنایا جائے اور ان کو حکومت میں شامل نہ ہونے دیا جائے۔

واشنگٹن میٹروپولیٹن علاقے میں پچھلے دنوں ہی بالٹی مور شہر کی انتظامیہ نے شہر کے سکولوں کے لئے اسلام کے علاوہ ہر مذہب کی چھٹیاں منظور کی ہیں۔ مسلمان تنظیموں نے اس سلسلے میں کافی زور لگایا تھا لیکن انتظامیہ نے ایک نہ سنی اور صرف مسلمانوں کے مطالبے کو تسلیم نہیں کیا۔

واشنگٹن میں پاکستان کا سفارت خانہ مسلمانوں کے خلاف متعصبانہ سر گرمیوں کے خلاف کبھی کبھی احتجاجی بیان جاری کر دیتا ہے۔ اس کا مقصد بھی کاروائی ڈالنا ہوتا ہے تاکہ پاکستانی عوام سمجھیں کہ حکومت ان کے لئے کچھ کر رہی ہے اور ملک کی اسمبلیوں میں بھی کوئی ممبر سوال اٹھا کر حکومت کو شرمندہ نہ کرے۔ ویسے پاکستانی سفارت کاروں کو علم ہے کہ اس وقت امریکیوں کو کسی کے احتجاج کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔

حقیقت بھی یہی ہے کہ اگر امریکی روس کی آنکھوں میں جوتوں سمیت گھس سکتے ہیں اور صدر بش خود روس کے پڑوس یعنی جارجیا میں جا کر سیاسی بغاوت کی حوصلہ افضائی کر سکتے ہیں تو پاکستان ’کس باغ کی مولی‘ ٹھہری۔ پاکستان کے سلسلے میں تو بش انتظامیہ کے اظہار افسوس کے لئے جاری ہونے والے بیانات اشک شوئی کے تقاضےبھی پورے نہیں کرتے ۔

جیسا کہ پہلے کہا جا چکا ہے کہ مسلمانوں اور دوسرے تارکین وطن کے خلاف فضا پیدا کرنے میں صدر بش کی ریپبلکن پارٹی کا کافی ہاتھ ہے۔ مسلمانوں کے خلاف امریکہ کی جنوبی ریاستوں کے وہ مذہبی گروہ پیش پیش ہیں جو عیسائی-یہودی متحدہ محاذ کے حامی ہیں۔ یہی وہ گروہ ہیں جو صدر بش کو جتوانے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگائے ہوئے تھے۔ ان کے نمائندے بش انتظامیہ کے کلیدی عہدوں پر براجمان ہیں اور تنگ نظر مذہبی ایجنڈے پر اطلاق کروانے کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔ غرضیکہ قدامت پرستوں نے اس طرح کا ماحول پیدا کیا ہوا ہے کہ آزاد خیال سیاست دان بھی بے بس نظر آتے ہیں۔

تاہم امریکہ میں ہر حلقے اور ہر طبقے میں صورت حال ایسی نہیں ہے۔ اگر امریکہ میں متعصبانہ واقعات پیش آ رہے ہیں تو یہ امریکی میڈیا ہی ہے جو ان واقعات کو منظر عام پر لاتا ہے۔ گونتانامو اور ابو غریب میں ہونے والے واقعات امریکی اخباروں کے ذریعے منظر عام پر آئے۔

امریکہ میں مسلمانوں کی موجودہ صورت حال کے پیدا ہونے میں مسلمانوں کا بھی کچھ ہاتھ ہے لیکن اس کے لئے علیحدہ بحث کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد