BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 26 May, 2005, 00:06 GMT 05:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مذہبی انتہا پسندی کی آکاس بیل

فائل فوٹو
فائل فوٹو
مذہبی انتہا پسندی آکاس بیل کی طرح ہے جو شروع میں کسی ایک ٹہنی پر چھوٹی سی پیلے رنگ کی خوبصورت سی تار سی نظر آتی ہے اور پھر پھیلتے پھیلتے پورے درخت کو اپنے قابو میں کر لیتی ہے۔ نہ صرف ایک درخت کو بلکہ پورے جھنڈ کو قابو میں کر لیتی ہے۔

مذہبی انتہا پسندی بھی شروع میں بظاہر جمعے کی چھٹی جیسے بے زرر عمل سے شروع ہوتی ہے اور پھر آخر میں فرقہ وارانہ منافرت جیسی گھناؤنی سماجی بیماری میں بدل جاتی ہے۔ شروع میں سیدھے سادھے شہریوں کو پتہ بھی نہیں چلتا کہ کیا ہورہا ہے اور جب پتہ چلتا ہے تو وقت ہاتھ سے نکل چکا ہوتا ہے۔

عام امریکیوں کو بھی ابھی سمجھ میں نہیں آرہا کہ مذہبی انتہا پسندی کی آکاس بیل آہستہ آہستہ ان کے سماجی پیڑوں کو نگلنا شروع ہو چکی ہے۔ ابھی نیوز ویک سے شروع ہونے والی قرآن کی بے حرمتی کی کہانی مکمل نہیں ہوئی تھی کہ شمالی کیرولائنا کی ریاست میں ایک پادری نے اس سلسلے کو آگے بڑھا دیا ہے۔ اس نے ایک بورڈ چرچ کے باہر نصب کیا ہوا ہے جس پر لکھا ہوا ہے کہ ’قرآن کو ٹائیلٹ میں ہی بہایا جانا چاہئیے۔‘

پادری کی حرکت اشتعال انگیز بھی ہے اور افسوسناک بھی۔ اس سی زیادہ اہم وہ بیانات ہیں جو

’میرا ایمان ہے کہ یہ بیان خدا کے کلام (بائبل) کی حمایت کے لیے ہے جس کے مطابق ہر وہ مذہبی کتاب غلط ہے جو کہ یسوع علیہ االسلام کو 66 پاروں پر مشتمل کتاب (بائیبل) کے مطابق مسیحا اور ذریعہ شفا نہیں مانتی۔
پادری لولیس
لولیس نامی پادری نے اپنی اس حرکت کے بارے میں دیے۔ اس نے کہا کہ ’میرا ایمان ہے کہ یہ بیان خدا کے کلام (بائبل) کی حمایت کے لیے ہے جس کے مطابق ہر وہ مذہبی کتاب غلط ہے جو کہ یسوع علیہ االسلام کو 66 پاروں پر مشتمل کتاب (بائیبل) کے مطابق مسیحا اور ذریعہ شفا نہیں مانتی۔ مجھے معلوم تھا کہ ہم جب یہ بورڈ لگائیں گے تو کچھ لوگ ہمارے ساتھ اتفاق نہیں کریں گے اور کچھ کریں گے لیکن ہمیں تو سچائی کے لئے ڈٹے رہنا ہے۔‘

اگرچہ بہت سے عیسائی بھی اس حرکت پر ناخوش ہیں اور یہ موضوع اس علاقے میں شدید بحث کا موضوع بنا ہوا ہے لیکن کوئی بھی اس معاملے کی سنجیدگی پر غور نہیں کر رہا ۔

پاکستان میں بھی جب مذہبی منافرت کا سلسلہ شروع ہوا تھا تو بہت سے لوگ سمجھتے تھے کہ چند معمولی تبدیلیوں سے انتہا پسند مطمئن ہو جائیں گے لیکن ایسا نہ ہوا ہے اور نہ ہی ہوگا۔ امریکہ کا بھی حکمران طبقہ سمجھ رہا ہے کہ وہ بائیبل بیلٹ کے کٹر عیسائیوں کو خوش کر کے سکون سے حکومت چلاتے رہیں گے لیکن ایسا ہو گا نہیں۔ ہوگا یہ کہ آج مسلمانوں کی باری ہے تو کل کسی اور غیر عیسائی مذہب کی ہوگی اور پھر اس کے بعد ایک فرقہ دوسرے فرقے کے خلاف جنگ آزما ہو جائے گا۔

امریکہ میں آنے والے زمانے کے عنوان دیکھنے ہوں تو پادری موصوف کے اس دعوے پر غور کیجئیے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ہر وہ کتاب یا مذہب جو بائبل نہیں ہے لوگوں کو گمراہ کر رہا ہے۔ بلکہ پادری موصوف فرماتے ہیں کہ اگر قرآن کے خلاف بورڈ لگانے سے کسی کو کوئی تکلیف ہوئی ہے تو ان کا مقصد حل ہو گیا ہے کیونکہ اس کا مطلب ہے کہ انہوں نے کوئی اچھا کام کیا ہے۔

پاکستان کی پچھلی پینتیس سال کی تاریخ کے جاننے والوں کو امریکہ کی موجودہ صورت حال شناسا لگنا چاہئے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
پاکستانیوں کو امریکہ کا یہ پہلو بھی شناسا لگنا چاہئیے

امریکی فوج کے بارے میں لکھی ہوئی رپورٹیں محکمہ دفاع میں ایڈٹ کی جاتی ہیں۔
کہ فوج کے خلاف بات کرنا منع ہے جیسا کہ قومی اسمبلی کے سپیکر امیر حسین نے پچھلے دنوں قوم کو آگاہ کیا تھا۔ قرآن کی بے حرمتی کی سر گذشت سے یہ بات بھی کھل کر سامنے آئی ہے کہ امریکہ کے صحافی فوج کے بارے میں کہانیاں فوج سے پوچھ کر ہی لکھتے ہیں۔ یعنی وہ بھی جابر حکران کے سامنے کلمئہ حق جابر حکمران کی اجازت سے ہی ادا کرتے ہیں۔

نیوزویک کے صحافی مائیکل آئساکوف نے تسلیم کیا ہے کہ کہ انہوں نے نیوزویک کی قرآن کی بے حرمتی کے بارے میں کہانی پہلے امریکی محکمہ دفاع کو دکھائی تھی اور انہوں نے اس کے قرآن والے حصے پر اعتراض نہیں کیا تھا بلکہ کچھ اور باتیں بتائی تھیں۔ وہ ایک مشہور ٹی وی کمپیئر چارلی روز کو انٹرویو دی رہے تھے۔ جناب آئیساکوف کے بیان سے یہ صاف ظاہر ہے کہ امریکی فوج کے بارے میں لکھی ہوئی رپورٹیں محکمہ دفاع میں ایڈٹ کی جاتی ہیں۔

جناب آئساکوف نے مزید کہا کہ ان کو اس خبر دینے والے سے مزید اطلاعات اکٹھا کرنا چاہئیے تھا لیکن انہوں نے وہ موقع ضائع کر دیا۔ انہوں نے اس سلسلے میں انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کاش ایسا نہ ہوتا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
پچھلے دنوں پاکستان کے جاری کئے گئے افراط زر کے اعداد و شمار

 پاکستان کی 11/9 کے بعد شروع ہونے والی عیش کی پارٹی اختتام پر آگئی ہے اور آئندہ حالات خراب ہوں گے۔
عالمی بینک کے ماہر
سے لگتا ہے کہ سٹیٹ بینک کے گورنر جناب عشرت حسین نے معیشت کو سنبھالنے کا موقع ضائع کردیا ہے۔ اگر افراط زر اسی طرح بڑھتا رہا تو پاکستان کی معیشت سخت مشکلات کا شکار ہو سکتی ہے۔

افراط زر پر تبصرہ کرتے ہوئے عالمی ادارے کے ایک کہنہ مشق معیشت دان نے کہا کہ پاکستان کے سٹیٹ بینک نے سود کی شرح نیچے رکھنے کے لیے دولت کی سپلائی بہت زیادہ بڑھائے رکھی ہے۔ اس سے شرح سود تو نیچے آگئی لیکن افراط زر بڑھ گیا ہے اور اب اس میں مزید اضافہ ہوتا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ گورنر عشرت حسین کا یہ مفروضہ بھی نا قابل عمل ہے کہ شرح سود نیچے رکھنے سے ملک میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہوتا ہے۔ سرمایہ کاری کو بہت سے عوامل متاثر کرتے ہیں اور شرح سود ان میں ایک معمولی عنصر ہے۔ اگر ملک میں سیاسی استحکام کی وہ حالت ہو جو پاکستان میں ہے ضفر شرح سود پر بھی کوئی سرمایہ کاری نہیں کرے گا۔

عالمی ادارے کے اس ماہر کا خیال ہے کہ چند مہینوں میں شرح سود پندرہ فیصد ہو جائے گی۔ مزید برآں تجارت کا خسارہ پانچ ارب سے تجاوز کر جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی 11/9 کے بعد شروع ہونے والی عیش کی پارٹی اختتام پر آگئی ہے اور آئندہ حالات خراب ہوں گے۔

66اسامہ مزید مہنگے
خوش قسمتی یا بے وفائی کس کے نام؟ منظور اعجاز
66واشنگٹن ڈائری
ایف سولہ کا متبادل کیا: منظور اعجاز
66اچھا شگون نہیں
ایٹمی مواد کی خبروں پر منظور اعجاز کی ڈائری
66پوپ اورذرائع ابلاغ
پوپ یا سیکولر ریاست کا جنازہ: منظور اعجاز کا کالم
66واشنگٹن ڈائری
امریکی بلیئر کی جیت سے لاتعلق: منظور اعجاز
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد