BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکہ کا حسبہ بل

یوآن اور ڈالر
چین کی سستی اشیاء امریکہ کی ضرورت ہیں
یہ بات حیرت انگیز بھی ہے اور سچ بھی کہ دنیا میں معاشی ترقی کا فیصلہ واشنگٹن لندن اور پیرس میں نہیں بلکہ بیجنگ اور شنگھائی میں ہو رہاہے۔

مزے کی بات یہ ہے کہ چینیوں کی خاموش اور میٹھی باتیں ان کے اس اہم ترین کردار کے بارے میں دنیا کو احساس بھی نہیں ہو نے دے رہیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ اگر چین اور کسی حد تک ہندوستان دنیا کی منڈیوں میں اپنی سستی اشیاء سے قیمتوں کو اتنا کم نہ رکھیں تو امریکہ جیسے ملکوں کی بھی معاشی ترقی ’ٹھس‘ ہو جائے۔

پاکستان کے معاشی ناخدا بھی ہندوستان سے مختلف اجناس صرف سیاسی تعلقات بہتر بنانے کے لیے نہیں بلکہ ضروری اشیاء کی قیمتیں نیچے رکھ کر اپنی معاشی ترقی کو جاری رکھنے کے لیے کر رہے ہیں۔خیال کیا جا رہا ہے کہ اب ہندوستان سے درآمد کیا گیا پیاز، لہسن، ٹماٹر اور گوشت ہی پاکستان کی ترقی کی رفتار کو موجودہ سطح پررکھ سکتا ہے۔۔۔ ورنہ افراط زر سب کچھ ہڑپ کر جائے گا۔

دنیا کے معاشی منظر پر یہ عجوبہ روزگار ہے کہ پٹرول کی قیمت 65 ڈالر فی بیرل تک پہنچ جائے اور بازار میں اشیائے ضرورت کی قیمت چار گنا نہ ہوں۔اور پھراگر افراط زر یا مہنگائی اتنی بڑھ جائے تو دنیا کے تمام مرکزی بینک شرح سود کو آسمان پر لے جانے پر مجبور ہوں گے۔ اس کے نتیجے میں دنیا کے ہر حصے میں آسمان سے باتیں کرتی ہوئی ریئل اسٹیٹ کی قیمتیں دھڑام سے زمین پر آ گریں گی۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 1973 میں پٹرول آج کی قیمتوں پر بھی نہیں پہنچا تھا کہ امریکہ میں دس سالہ معاشی بحران شروع ہو گیا تھا۔ اس امکان کو حقیقت بننے سے روک رہا ہے تو چین۔

چین سے دنیا بھر میں سستی اشیاء کی فراہمی سے افراط زر میں کوئی قابل قدر اضافہ نہیں ہو رہا جس کی بنا پر دنیا بھر کے مرکزی بینک زر کی پالیسیاں (مونیٹر پالیسی) آسان رکھ رہے ہیں۔ اس سے دنیا بھر میں ریئل اسٹیٹ مارکیٹ میں طوفان برپا ہے اور دنیا بھر میں سرمایہ کاری پھل پھول رہی ہے۔ اس کس سہرا زیادہ تر چین کے سر پر ہی ہے۔ لہذا کچھ معیشت دان یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ دنیا کی ترقی کا ایجنڈا چین لکھ رہا ہے۔

پاکستان کی معاشی پالیسی بنانے والے جانتے ہیں کہ انہوں نے سستے اور آسان قرضوں سے معاشی ترقی پیدا کی ہے۔ اس طرح کی پالیسی کا نتیجہ ہے کہ اب افراط زر گیارہ بارہ فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ شرح سود بڑھ رہی ہے۔ اگر یہ رجحان رہا تو جاری و ساری ترقی ختم ہو جائے گی۔اس کا وقتی حل یہ نکالا گیا ہے کہ ہندوستان سے سستی اشیاء درآمد کر کے افراط زر کو نیچا رکھا جائے اور معاشی ترقی کو اوپر۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

صدر بش
صدر بش کہتے ہیں کہ نصاب میں دنیا کے ذہین ڈیزائن کا نظریہ بھی پڑھایا جانا چاہئے

چین امریکہ کی معاشی ترقی کو تو بحال رکھ سکتا ہے لیکن اسے پاکستان جیسے حسبہ بلوں کی منظوری سے نہیں روک سکتا۔ اگر پاکستان کی مذہبی جماعتیں صوبہ سرحد میں حسبہ بل منظور کروا سکتی ہیں تو امریکہ میں ان کے ہم پلہ بھی یہی کچھ کر رہے ہیں۔

فرق صرف یہ ہے کہ پاکستان کے سربراہ جنرل مشرف حسبہ قانون کو لاگو ہونے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں تو صدر بش امریکی حسبہ بلوں کے ذریعے مذہب کو سائنس پر ٹھونس رہے ہیں۔ انہوں نے چند روز پیشتر ایک بیان میں کہا ہے کہ ہے کہ سکولوں میں ارتقاء کے نظریے کے ساتھ ساتھ دنیا کے ذہین ڈیزائن کا نظریہ بھی پڑھایا جانا چاہئے۔ یعنی سائنس کے طلباء کو بتانا چاہیے کہ ضروری نہیں کہ ڈارون کا پیش کردہ ارتقاء کا نظریہ درست ہو کیونکہ ہوسکتا ہے کہ اس کائنات کا ڈیزائن کسی سوچے سمجھے ذہین و فطین منصوبے کے تحت بنا ہو۔

امریکہ کے طاقتور مذہبی حلقے کئی دہائیوں سے اس کوشش میں ہیں کہ وہ مذہب کو سائنس کی پڑھائی پر حاوی کردیں۔ ان کا پہلا شکار ڈارون کا نظریہ ارتقاء ہے۔ ان کا اصل مقصد یہ ہے کہ طلباء کو یہ پڑھایا جائے کہ یہ دنیا ارتقائی عمل سے نہیں بنی بلکہ کسی طاقت نے اسے تخلیق کیا ہے۔

کینساس کی ریاست میں قانون منظور ہو چکا ہے کہ طلباء کو نظریہ تخلیق پڑھایا جائے۔ بہت سی دوسری ریاستوں میں بھی اس طرح کے قوانین منظوری کے لیے پیش کیے جا رہے ہیں ۔ صدر بش کا بیان اس طرح کی کوششوں کو بڑھاوا دینے کے لیے تھا۔

مذہبی طاقتوں کی اس طرح کی کوششوں کے بارے میں ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے سائنس کی پڑھائی کمزور ہو جائے گی ۔ پھر ان سوالوں کے جواب کون دے گا کہ اگر اس دنیا کا ایک خالق ہے تو کیا وہ خالق کالا ہے یا گورا، انصاف پسند ہے یا ظالم۔ دنیا میں منافرت اور تعصب کا پیدا کرنے والا کون ہے؟ جنگیں کون کرواتا ہے اور تباہی کا ذمہ دار کون ہے؟ وغیرہ وغیرہ ان کا کہنا ہے کہ سائنس کے استاد ان سوالوں کا جواب دیتے دیتے یا پاگل ہو جائیں گے اور یا پھر سائنس کی بجائے مذہب پڑھایا کریں گے۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

رولنگ سٹون راک بینڈ کے مک جیگر نے اسی پہلو سے صدر بش کے بارے میں گانا لکھا ہے جس کے الفاظ ہیں:
’تم اپنے آپ کو عیسائی کہتے ہو میں تمہیں منافق کہتا ہوں، تم اپنے آپ کو محب وطن کہتے ہو میرے خیال میں تو تم غلاظت ہو۔ تم یہ تو بتاؤ کہ تم اتنے گمراہ کیوں ہو میرے پیارے نیو کان‘۔

اس گانے کانام ہی ’میرے پیارے نیوکان‘ ہے۔ اس گانے میں وزیر خارجہ کانڈا لیزا رائس کا بھی بہت مذاق اڑایا گیا ہے۔ یہ مشہور بینڈ چند دنوں میں بوسٹن کے شہر سے اپنا امریکہ کا دورہ شروع کرے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد