ڈالر یوان کی طلاق | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جوں جوں امریکہ کا تجارتی خسارہ بڑھتا گیا ہے امریکیوں کا یہ عقیدہ راسخ ہوتا گیا ہے کہ اگر چین کی کرنسی ’یوان‘ کو مہنگا کر دیا جائے توامریکہ کو یہ طعنے نہیں سننا پڑیں گے کہ اس کے سٹوروں اور دکانوں میں اگر کسی ملک کی بنی ہوئی چیزیں فروخت نہیں ہو رہیں تو وہ امریکہ کی ہیں۔ ان کو امیدیں تھیں اور ہیں کہ یوان کی قیمت بڑھتے ہی امریکی فیکٹریاں پھر سے چالو ہو جائیں گی، امریکی مزدورں کا روزگار چینیوں کے ہاتھوں برباد ہونے سے بچ جائے گا اور اور امریکہ ایک مرتبہ پھر سے اشیائے ضرورت پیدا کرنے والے ملکوں کا بادشاہ بن جائے گا۔ نامور معیشت دان کالمسٹ جناب پال کروگمین کہتے ہیں کہ کاش ایسا ہی ہوتا لیکن ایساہوگا نہیں۔ امریکیوں کا خیال تھا کہ چین کی کرنسی یوان ان کے لیے پیرِ تسمہ پا ہے یا ان کی کمر پر لدا بندر ہے جو کسی طرح اتارے نہیں اترتا اور جب تک اس بندر سے نجات نہیں ملے گے ان کا دن بدن بڑھتا ہوا کئی سو بلین ڈالروں کا تجارتی خسارہ کم نہیں ہوگا۔ اب جب چین نے امریکی دباؤ میں اپنی کرنسی یوان کو ڈالر سے آزاد کروالیا ہے تو بہت سے ماہرین کہنا شروع ہو گئے ہیں کہ اس سے نہ تو امریکی تجارتی خسارہ کم ہو گا اور نہ ہی امریکہ میں ان اشیاء کی پیداوار بڑھے گی۔ پال کروگمین تو یہاں تک کہتے ہیں کہ یوان کے ڈالر سے بے تعلق ہونے کے بعد امریکہ کی جاری و ساری مفت بری ختم ہو جائے گی۔ امریکہ کو اپنی کمر پر لدے چینی بندر یعنی یوان کے خلاف شکایت یہ تھی کہ چینی حکومت نے سرکاری سطح پر اپنی کرنسی کو ڈالر کے ساتھ نتھی کیا ہوا تھا۔ امریکیوں کی نظر میں یہ ایک طرح کا نا جائز تعلق تھا کیونکہ اگر چین کا تجارتی سرپلس بڑھ رہا ہو اور اس کے نتیجے میں امریکہ کا تجارتی خسارہ بڑھ رہا ہو تو چینی کرنسی یوان کی قیمت بڑھنی چاہئیے اور امریکی ڈالر کی قیمت گرنی چاہئیے لیکن چونکہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ نتھی تھے اس لیے وہ ایک ہی سمت میں سفر کرتے ہیں یعنی ڈالر کے ساتھ یوان بھی بڑھ جاتا تھا۔ اب جب وہ ایک دوسرے سے آزاد ہو چکے ہیں تو امریکی توقع کر رہے ہیں کہ ڈالر سستا ہو جائے گا اور یوان مہنگا۔ اس نظریے یا مفروضے کے تحت یوان کے مہنگا ہونے کی وجہ سے چینی مصنوعات مہنگی ہو جائیں گی اور ان کے خریدار کم ہو جائیں گے لہذا امریکہ میں چین کی درآمدات میں خاطر خواہ کمی ہو جائے گی۔ دوسری طرف ڈالر سستا ہونے کی وجہ سے چین میں سستی امریکی اشیاء زیادہ فروخت ہوں گی اور چین میں امریکی برآمدات میں اضافہ ہوگا۔ امریکیوں کے نقطہ نظر سے اس الٹ پلٹ کا لازمی نتیجہ یہ ہونا چاہیئے کہ چین کا امریکہ کے برخلاف سرپلس کم ہو یعنی امریکہ کا تجارتی خسارہ کم ہو۔ کوئی نہیں کہ سکتا کہ عملی طور پر میں ایسا ہوگا کہ نہیں۔ بلکہ یہ کہنا چاہئیے کہ اس کا فیصلہ دنیا کی منڈیاں کریں گی۔ عملی پہلو سےامریکیوں کو مایوسی ہوئی ہے کیونکہ پچھلے چند دنوں میں تو وہ یوان کی قیمت میں کوئی ڈرامائی تبدیلی نہیں ہوئی۔ پال کروگمین اور بش انتظامیہ کے سابقہ وزیر خزانہ پال اونیل کہتے ہیں کہ یوان اور ڈالر کے بے تعلق ہونے کے بعد امریکہ کی پیٹھ پر لدا چینی بندر تو خیالی ثابت ہوگا لیکن امریکہ کو بجٹ کے خسارے کا ریچھ چمٹ جائے گا۔ ان کے خیال میں ابھی تک چین اپنےتجارتی سرپلس سے (جو کہ 2005 کے پہلے چھ مہینوں میں 6۔39 بلین ڈالر تک پہنچ چکا ہے) امریکہ کے بانڈ خرید کر امریکہ کو سستے قرضے دیتا رہا ہے۔ بقول کروگمین یہ الٹی گنگا بہہ رہی تھی کہ ایک غریب ملک امیر ملک کو قرضے دے رہا تھا ۔1998 -1997 تک امیر ملک ہی غریب ملکوں کو قرضے دیتے تھے جب تک کہ چین نےامریکی ڈالروں کے ڈھیر کو امریکی بانڈ خریدنے میں صرف نہیں کیا۔ امریکی معیشت دانوں کو ڈر یہ ہے کہ اگر چین نے امریکی بانڈ خریدنا بند کر دیے یا پہلے سے خریدے ہوئے بانڈ بیچنا شروع کر دئیے تو امریکہ کا سستے قرضوں کا ذریعہ ختم ہو جائے گا۔ شرح سود بڑھ جائے گی اور سرمایہ کاری میں بہت کمی آجائے گی جس سے امریکہ کو کافی نقصان ہوگا۔ شرح سود بڑھنے سے امریکہ کے پاکستان جیسے غریب اتحادیوں اور لے پالکوں کو بھی بہت نقصان ہوگا کیونکہ ان کے قرضوں کی قسطیں بڑھ جائیں گی۔اس لیے یہ معیشت دان کہتے ہیں کہ امریکہ کو پہلے اپنا بجٹ خسارہ کم کرنا چاہئیے اور پھر یوان کی بڑھتی ہوئی قیمت کی برکتوں پر غور کرنا چاہیے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||