بنیاد پرستوں میں مشترک کیا؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آجکل قرآن کی بے حرمتی کے تنازعے سے ایک سکھ دوست یاد آگیا جس نے بہت سال پہلے خالصتان کی تحریک کے بارے میں بڑے دکھ سے کہا تھا کہ اس تحریک سے پہلے بس، ریل یا کسی بھی پبلک جگہ پر ہندو یا دوسرے مذاہب کے لوگ سکھوں کی موجودگی میں احتراماً تمباکو نوشی نہیں کرتے تھے کیونکہ سکھ مذہب میں تمباکو نوشی کا وہی مقام ہے جو اسلام میں خنزیر کا ہے۔ ان کو افسوس تھا کہ تحریک کی تباہ کاریوں کے بعد ہر کوئی سکھوں کے منہ پر دھواں پھینکنا اپنا مذہبی منصب سمجھتا ہے۔ نوے کی دہائی میں اسلامی شدت پسندوں کے رویوں کو دیکھتے ہوئے احساس ہوتا تھا کہ کہ مسلمانوں کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہونے والا ہے جو سکھوں کے ساتھ ہو چکا ہے۔ خالصتانیوں اور پاکستان کےاسلامی جہادیوں میں بہت ہی دلچسپ مماثلت یہ ہے کہ دونوں تحریکوں میں شامل نوجوان ایک دوسرے کے جڑواں ہیں۔ یہ نوجوان دونوں طرف کے پنجاب کے ایک جیسے چھوٹے قصبوں اور کسان خانوادوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان دونوں کا تعلق ایسے علاقوں سے ہے جہاں روز گار اور ترقی کے مواقع معدوم ہیں۔ ان میں بڑی قدر مشترک یہ بھی ہے کہ دونوں اپنے اپنے مذہب کے بنیاد پرست ہیں اور پرانے نظام کو بحال کرنے کے لئے جہاد کو واجب گردانتے ہیں۔ جہادیوں کی طرح خالصتانی بھی پنجاب کا چار سو سال پرانا نظام نافذ کرنا چاہتے تھے۔ جب خالصتان کی تحریک زوروں پر تھی مشرقی پنجاب کے پرائمری سکولوں کے بچوں کو بھی گیروے رنگ کی پگڑی باندھنے اور اسی رنگ کالباس پہننے کے لئے مجبور کیا جاتا تھا۔ پنجاب کے ثقافتی اظہار اور خواتین پر بھی کڑی پابندیاں تھیں۔
اسی اور نوے کی دہائی میں مسلمان جہادی اور بنیاد پرست بھی ہر جگہ اپنے عقائد کو ٹھونستے تھے اور کسی طرح کی مخالفت برداشت نہیں کرتے تھے۔مصنفین پر قتل کے فتوے اور آزادی رائے پر پابندیاں جہاد کا لازمی حصہ تصور کی جاتی تھیں۔ افغانستان میں اسلام کے نام پر طالبان کا قبائلی نظام کانفاذ اسی ذہنیت کا حصہ تھا۔ افغانستان میں ہی بدھ کے قدیم مجسمے کو توڑنا اور ہندووں کو مخصوص لباس پہننے پر مجبور کرنا تنگ نظری کا اظہار تھا۔ تارکین وطن میں بھی بنیاد پرستی کا رجحان بڑھتا گیا اور انہوں نے بھی اپنے میزبان معاشروں کے ساتھ ٹکراؤ کا انداز اپنایا۔ تارکین کے بہت سے بنیاد پرست گروہوں نے اپنے میزبان معاشروں سے مطالبہ کرنا شروع کر دیا کہ وہ مہمان اقلیت کی مذہبی ترجیحات کے مدنظر اپنے اصول اور قوانین بدلیں۔ المختصر بہت سے تارکین وطن اپنے آپ کو میزبان معاشروں کے مطابق ڈھالنے کی بجائے ان معاشروں کو تبدیل کرنے پر تلے ہوئے تھے۔ مندرجہ بالا بیان کئے گئے رویوں کو دیکھ کر محسوس ہوتا تھا کہ یہ سلسلہ بہت دن تک چل نہیں سکتا۔ جلد یا بدیر غیر مسلم معاشرے اس کے خلاف سخت رد عمل دکھائیں گے: ویسا ہی رد عمل جیسا کہ خالصتانی تحریک کے خلاف پیدا ہوا تھا۔ اگر 11/9 جیسا بڑا واقعہ نہ بھی ہوتا تب بھی مسلمان بنیاد پرستوں کے خلاف رد عمل ہونا ہی ہو نا تھا۔ اس میں کوئی حیرت انگیز بات نہیں ہے۔ بہت بڑا المیہ یہ ہوا کہ امریکہ میں عیسائی بنیاد پرستی اتنا زور پکڑ گئی کہ وہ وائٹ ہاؤس پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوگئی۔ اس کے نتیجے میں بنیاد پرست امریکہ کے کلیدی اداروں میں گھس گئے اور انہوں نے مسلمان کی برملا تضحیک و تذلیل شروع کردی۔اس پس منظر میں 11/9 کا واقعہ ہوا جس نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ 11/9 کے بعد میں پیدا ہونے والے ماحول میں جیری فال ویل جیسے ایونجیلیکل عیسائی پادریوں نے پیغمبر اسلام پر کھلم کھلا حملے کرنے شروع کئے۔امریکہ میں ماحول ایسا پیدا ہوا کہ مسلمان دبک کر بیٹھ گئے۔ وہ بنیاد پرست بھی جو امریکہ کو اسلامی مملکت بنانا چاہتے تھے خاموش ہو گئے۔ غرضیکہ وہی ہوا جس کا ہمارے سکھ دوست کو دکھ تھا۔ یہ کہنا بیجا نہ ہوگا کہ مسلمانوں کے خلاف ماحول پیدا ہونے میں خود ان کا اپنا بھی ہاتھ ہے اور گردش زمانہ کا بھی۔ جیسا کہ منیر نیازی کا کہنا ہے:- کجھ شہر دے لوک وی ظالم سن ، کجھ سانوں مرن دا شوق وی سی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||