’قرآن: نیوزویک کا رپورٹ پرافسوس‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کےجریدے نیوز ویک کے ایڈیٹر نے کہا ہے کہ کیوبا میں گونتنامو بے کے نظر بندی کیمپ میں امریکی فوجیوں کی طرف سے قرآن کی مبینہ بے حرمتی کے متعلق ان کے جریدے میں چھپنے والی خبر غلط ہو سکتی ہے۔ نیوز ویک میں گزشتہ ہفتے ایک مضمون میں ذرائع کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ گوانتانامو میں نظر بندوں کو حوصلے پست کرنے کے لیے بیت الخلاء میں قرآن کے نسخے رکھے جاتے تھے اور ایک موقع پر ایک نسخہ ٹائلٹ سے بہا بھی دیا گیا تھا۔ تاہم نیوز ویک کے ایڈیٹر کا اب یہ کہنا ہے کہ جس شخص نے انھیں یہ خبر دی تھی وہ یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ اسے یہ اطلاع کہاں سے ملی تھی۔ واشنگٹن سے بی بی سی کے نامہ نگار کلیو مائر کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن کی مبینہ بے حرمتی کے الزامات نیوزویک کے نو مئی کو چھپنے والے شمارے میں پہلی مرتبہ شائع ہوئے جس سے پوری مسلم دنیا میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور اس کے خلاف افغانستان، پاکستان، اور غزہ سے انڈونیشیا تک احتجاج ہوا۔ اس مضمون کے بعد سب سے پہلے افغانستان میں مظاہرے شروع ہوئے جو چار دن تک جاری رہے اور ان میں سولہ لوگ ہلاک ہوگئے۔ امریکہ کی طرف سے یہ بیان آیا کہ کسی بھی مقدس کتاب کی بے حرمتی برداشت نہیں کی جائے گی اور امریکی فوج نے اس سلسلے میں تحقیقات کا آغاز کر دیا۔ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کا اب کہنا ہے کہ یہ خبر غلط ہے اور ایسے شواہد نہیں ملے جو ان الزامات کو ثابت کرتے ہوں۔ نیوز ویک کے ایڈیٹر ویٹ ٹیکر کا کہنا ہے کہ جس ذریعے کے حوالے سے یہ الزامات سامنے آئے تھے وہ یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ یہ الزامات درست ہیں یا نہیں اور یہ ہو سکتا ہے کہ ان کے رسالے نے غلط خبر شائع کر دی ہو۔ انھوں نے کہا کہ ان کا ادارہ اس سلسلے میں کسی بھی غلطی پر افسوس کا اظہار کرتا ہے اور احتجاج کرنے اور اس کی وجہ معتوب ہونے والوں سے افسوس کا اظہار کرتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||