سرحد امریکہ اور مشرف مخالف | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد میں بھی کئی مقامات پر نماز جمعہ کے بعد متحدہ مجلس عمل کی اپیل پر قرآن کی مبینہ بےحرمتی کے خلاف احتجاجی مظاہرے منعقد کئے گئے تاہم ان میں شریک لوگوں کی تعداد توقعات سے کافی کم رہی۔ صوبائی دارالحکومت پشاور میں صوبے میں حکمراں متحدہ مجلس عمل تقسیم نظر آئی جہاں جماعت اسلامی اور جمعیت علما اسلام (ف) نے الگ الگ مظاہرے کیے۔ جماعت اسلامی نے تاریخی مسجد مہابت خان سے جلوس نکالا جس کی قیادت رکن قومی اسمبلی شبیر احمد خان نے کی جبکہ جے یو آئی کا جلوس جامعہ مسجد نمک منڈی سے برآمد ہوا۔ دونوں جلوس مختلف راستوں سے ہوتے ہوئے کابلی دروازے اور قصہ خوانی بازار میں اختتام پزیر ہوئے جہاں پرامن طور پر منتشر ہونے سے پہلے مقررین نے خطاب میں امریکہ کے علاوہ صدر پرویز مشرف کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ تمام راستے مظاہرین نے ’امریکہ مردہ باد’ اور ’امریکہ کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے’ جیسے نعرے لگاتے رہے۔ مظاہرین نے ماضی کی برعکس کوئی پلے کاڈز نہیں بلکہ صرف جماعتی پرچم اٹھا رکھے تھے۔ صوبہ کے دوسرے شہروں سے بھی اسی قسم کے مظاہروں کی اطلاعات ہیں لیکن کسی ناخوشگوار واقعے کی خبر نہیں ملی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||