قرآن کی بےحرمتی پر سات برس قید | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب کےضِلع بہاولنگر کی تحصیل چشتیاں کی ایک عدالت نے عیسائی مذہب سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو قرآنِ پاک کی مُبینہ بے حُرمتی پر سات سال قیدِ سخت کی سزا سنائی ہے ۔ چک 109 فتح کے رہائشی بشیر مسیح پر اِسی گاؤں کے حافظ منظور احمد نے چار اگست دو ہزار چار میں قرآن کی بے حُرمتی کا الزام لگاتے ہوۓ چشتیاں کے صدر تھانہ میں دفعہ 295 بی کے تحت مقدمہ درج کرایا تھا۔ حافظ منظور کا کہنا تھا کہ اُس نے دیکھا کے بشیر مسیح چارپائی پر قرآنِ پاک رکھ کر اُس کے اوُپر لیٹا ہوا ہے ۔ مدعی نے الزام لگایا کہ بشیر مسیح جادو ٹونے کے بہانے سادہ لوح لوگوں کو لوُٹتا ہے اور مقُدس کِتاب کی بے حُرمتی بھی ملزم کے ایسے ہی کسی عمل کا حصہ تھی ۔ مقدمہ کی عدالتی سماعت کے دوران گاؤں کے تین اور افراد محمد بوٹا، محمد اسلم اور جاوید اقبال استغاثہ کے گواہان کے طور پر پیش ہوۓ ۔ سِول جج محمد اشرف بھٹی نے اپنے فیصلے میں ملزم بشیر مسیح کو قصور وار قرار دیتے ہوۓ سات سال قید کی سزا سُنائی تاہم ملزم کو سزا کے خلاف ہائی کورٹ میں تیس دِن کے اندر اپیل کرنے کا حق دیاگیا ہے ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||