’قرآن کی بےحرمتی‘ پر اشتعال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ بلوچستان کے شہر دالبندین میں افغان پناہ گزینوں کے کیمپ گردی جنگل میں نا معلوم افراد نے ایک امریکی امدادی ادارے کے بنیادی مرکز صحت کو آگ لگا دی ہے۔ دالبندین ضلع چاغی کی تحصیل ہے جو کوئٹہ سے تقریباً اڑھائی سو کلو میٹر مغرب میں افغان سرحد کے قریب واقع ہے۔ یہ کارروائی اس وقت عمل میں آئی جب کیمپ کے قریب ایک قبرستان میں قرآن پاک کے ضعیف نسخے بوریوں میں پڑے پائے گئے۔ دالبندین کے انتظامی افسر ظفر مسعود نے بتایا ہے کہ کیمپ میں بعض لوگوں نے احتجاج شروع کر دیا اور اسی دوران انہوں نے بنیادی مرکز صحت کو آگ لگا دی۔ مرکز میں موجود عملے کو باہر نکال دیا گیا اس کارروائی میں عمارت اور فرنیچر کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ اگرچہ مشینیں بچ گئی ہیں لیکن ادویات غائب ہیں۔ ظفر مسعود نے کہا ہے کہ ایسے شواہد نہیں ملے جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ اس میں امدادی ادارے کا ہاتھ ہو۔یہ قرآنی نسخے بڑی تعداد میں یہاں قبرستان لائے گئے تھے اور اس وقت انہیں انتظامیہ نے اپنی تحویل میں لینے کے احکامات جاری کیے لیکن لوگوں میں اس بارے میں اشتعال پایا جاتا ہے۔ دریں اثناء امدادی ادارے کے اسلام آباد میں تعینات ترجمان نیر نے بتایا ہے کہ وہ اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ اس بارے میں پشتو زبان میں ایک تحریری بیان گردی جنگل کے کیمپ میں تقسیم کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ قرآن پاک کے نسخوں کی بے حرمتی شر پسند عناصر کا کام ہے جو انتہائی قابل مذمت ہے۔ اس ادارے کے زیر انتظام تین بنیادی صحت کے مراکز اور کوئی چار سکول اس علاقے میں پناہ گزینوں کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ادارے نے تا حکم ثانی یہ مراکز اور سکول بند کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||