توہین اسلام: شادی کارڈ پر مقدمہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شادی کارڈ پر السلام علیکم، انشاء اللہ اور مرحوم لکھنے پر احمدی جماعت کے پندرہ افراد کے خلاف توہین اسلام کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے- ملزمان میں تین دولہا اور تین دلہنیں شامل ہیں جن میں سے ایک دولہا اور اس کے والد کو حراست میں لیا گیا ہے- سندھ کے ضلع میرپورخاص میں کنری میں تعینات ایس ڈی او نور فاطمہ کے بھائیوں عزیزالرحمان اور استاد عبدالحق کے بیٹوں اور بیٹیوں کی شادی پچیس ستمبر کو منعقد ہوئی تھی- اس شادی کے دعوت نامے پر روایتی انداز میں السلامُ علیکم ورحمۃ اللہ، انشاءاللہ اور عزیزالرحمان کو مرحوم لکھا گیا تھا۔ اس کے خلاف عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کنری کے صدر عبدالواحد نے کنری تھانے میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298 سی کے تحت مقدمہ درج کروایا ہے- مدعو کرنے والےاور استقبال کرنے والے جن جن افراد کا نام شادی کارڈ میں لکھا گیا تھا سب شامل ہیں۔ واضح رہے کہ ان تمام افراد کا ایک ہی خاندان سے تعلق ہے- ایف آئی آر داخل ہونے کے بعد کنری پولیس نے عامر محمود اور ان کے والد ماسٹر عبدالحق کو گرفتار کرلیا ہے- مدعی نے الزام عائد کیا ہے کہ ملزمان احمدیہ جماعت سے تعلق رکھتے ہیں اس لئے انہیں اسلامی الفاظ اور اصطلاح استعمال کرنے کا قانونی حق حاصل نہیں ہے، اس کے باوجود ملزمان نے شادی کارڈ پر السلام علیکم، ورحمۃ اللہ، انشاءاللہ اور مرحوم جیسے الفاظ لکھے ہیں- احمدی جماعت کنری کے عہدیدار چوہدری ناصر حسین نے اس مقدمے کے بارے میں بی بی سی اردو آن لائن کو بتایا کہ ’السلامُ علیکم عربی لفظ ہے جس کا مطلب ہے اللہ کی تم پر سلامتی ہو، ایسا کہنا کوئی گناہ نہیں ہے۔ معاشرے میں ہر شخص السلام علیکم کہتا ہے- اسی طرح سے مرحوم کا مطلب ہے ’اللہ کی رحمت ہو۔‘ انہوں نے کہا کہ کارڈ میں جو کچھ بھی لکھا گیا ہے اس میں پیغمبر یا قرآنی آیات کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ غلط اور انسانیت کے خلاف ہے- انہوں نے کہا کہ کنری کے علاقے میں ’چار پانچ ہزار احمدی آباد ہیں- لیکن ان کو کوئی دھمکی وغیرہ نہیں ملی ہے- یہ مقدمہ کچھ شر پسندوں کا کام ہے- ‘ کنری تھانے کے ہیڈ محرر اکبر علی نے بتایا کہ دو ملزمان عبدالحق اور عامر محمود گرفتار ہیں، یہ باپ بیٹے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مقدمہ قانون کے مطابق چالان کیا جائےگا- نامور قانون دان اور سابق سول جج ظفر راجپوت نے بتایا کہ کوئی بھی احمدی مسلمان ہونے کا دعوی کرے گا یا مسلمان ہونے کا تاثر دےگا تو اس کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298 سی کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے جس کی سزا تین سال تک ہے- آئین کے تحت احمدی یا قادیانی غیر مسلم ہیں جنہیں ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تھا- ظفر راجپوت نے بتایا کہ اس قانون کے تحت احمدی فرقے کے لوگ مسلمانوں جیسا کلمہ نہیں پڑھ سکتے ہیں اور نہ ان جیسی عبادت گاہ یعنی مسجد بنا سکتے ہیں- اسی طرح سے وہ کوئی بھی ایسا مذہبی عمل نہیں کرسکتے جو مسلمان کرتے ہیں- واضح رہے کہ میرپورخاص ضلع میں خاصی تعداد میں احمدی آباد ہیں جو کہ بڑے زمیندار سمجھے جاتے ہیں- |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||