BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 23 July, 2004, 10:34 GMT 15:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مسجد کا معاملہ حل نہیں ہو سکا

احمد اس جگہ کو دیوبندی فرقے کے لوگوں کو دینے کے لیے تیار نہیں
احمد ی اس جگہ کو دیوبندی فرقے کے لوگوں کو دینے کے لیے تیار نہیں
چنیوٹ کے قریب احمدی فرقہ کے مرکز چناب نگر (ربوہ) میں ایک مسجد کے معاملے پر احمدی اور سنی مسلمانوں کے درمیان سخت مذہبی کشیدگی پائی جاتی ہے۔

فریقین میں کسی متوقع تصادم کو روکنے کے لیے انتظامیہ نے علاقے میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی ہے۔

چناب نگر میں دیوبندی علما نے ریلوے اسٹیشن کی جامع مسجد میں جمعہ کی نماز کے بعد ایک اجتماع طلب کیا تھا جس میں وہ سابقہ پولیس چوکی کی جگہ پر بنی ہوئی مسجد کو جماعت احمدیہ سے لینے کے معاملہ پر حکومت سے احتجاج کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔

چناب نگر پولیس کے مطابق سہ پہر دو بجے تک دیوبندی علما جامع مسجد میں اکٹھا ہونا شروع ہوگۓ تھے اور پولیس نے جگہ جگہ ناکہ بندی کررکھی تھی۔

چناب نگر میں احمدی مسلک نے اپنی آبادی میں پولیس کو ایک چوکی بنانے کے لیے جگہ دی تھی جہاں مسلمان ملازمین نے ایک مسجد تعمیر کرلی تھی۔ کچھ عرصہ پہلے وہ چوکی وہاں سے ختم کردی گئی تو مسجد بھی جماعت احمدیہ کے پاس چلی گئی۔ اس جگہ تمام آبادی احمدی مسلک سے تعلق رکھنے والوں کی ہے۔

اب علماۓ دیوبند مطالبہ کررہے ہیں کہ مسجد چونکہ بن گئی ہے اور مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اس لیے اسے قائم رکھا جائے اور ان کے (دیو بندی مسلمانوں) سپرد کردی جاۓ۔ جماعت احمدیہ اس کے لیے تیار نہیں۔

جماعت احمدیہ خود کو مسلمان قرار دیتی ہے لیکن مسلمانوں کے دوسرے فرقے انہیں غیرمسلم سمجھتے ہیں اور پاکستان کے آئین میں ایک ترمیم کے ذریعے انہیں غیرمسلم قرار دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد