BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 21 July, 2004, 06:48 GMT 11:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ربوہ میں مذہبی کشیدگی

علاقے میں شدید کشیدگی پائی جاتی ہے
ربوہ میں جماعت احمدیہ کی بڑی مسجد
پنجاب کے وسطی شہر چنیوٹ کے نزدیک واقع علاقہ چناب نگر(ربوہ) میں جماعت احمدیہ کی زمین پر بنی ایک پولیس چوکی کی مسماری اور مسجد کے راستے کو روکے جانے کا معاملہ کشیدگی کا سبب بنا ہوا ہے۔

یہ پولیس چوکی جماعت احمدیہ کے کارکنوں نے مسمار کی ہے جبکہ سنی مسلمانوں کو خدشہ ہے کہ اس سے ’قریبی مسجد کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔‘

پولیس کی بھاری فورس جماعت احمدیہ کے مرکز کے آس پاس تعینات ہے جبکہ منگل کو اس کشیدگی میں اس وقت سخت اضافہ ہوگیا جب متنازعہ جگہ سے ڈیڑھ کلومیٹر دور جامع مسجد ختم نبوت میں سنی مسلمانوں کی ایک کثیر تعداد جمع ہوگئی تھی جہاں سے انہوں نے جلوس کی شکل میں متنازعہ جگہ جانا تھا اور اعلان شدہ پروگرام کے مطابق اس چھوٹی مسجد میں نماز عصر ادا کرنا تھی۔

 ’پرانی عمارت (چوکی) کے صحن میں پولیس والوں نے نماز کی ادائگی کے لیے چھوٹا سا چبوتر بنایا اور بعد ازاں جماعت احمدیہ کی ملکیتی جگہ پر بلا اجازت اور غیر قانونی طور پر ایک چھوٹی سی مسجد بنادی گئی۔‘
ترجمان جماعت احمدیہ

ادھر جماعت احمدیہ کے کارکنوں کی بھاری تعداد بھی مسلح حالت میں موجود تھی ۔ اور سنی مسلمانوں کے وہاں جانے کی صورت میں تصادم کا خدشہ تھا۔ تاہم پولیس کی مداخلت کے باعث سنی مسلمانوں نے مسجد جانے کا اپنا پروگرام ملتوی کردیا ہے۔

عالمی مجلس ختم نبوت کے رہنما مولانا الیاس چنیوٹی نے جمعہ کو علماء کرام کا ایک اجلاس جامعہ مسجد ریلوے سٹیشن چناب نگر میں طلب کر لیا ہے جہاں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جاۓ گا۔

ڈی آئی جی فیصل آباد نے علماء کے ایک وفد سے ملاقات کے بعد ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر جھنگ کی سربراہی میں ایک کمشن قائم کردیا ہے جو جاۓ وقوعہ کے معائنہ کے بعد مسئلے کا پرامن حل کرنے نکالنے کی کوشش کرے گا۔

حالیہ کشیدگی کا آغاز سترہ اور اٹھارہ جولائی کی درمیانی شب اس وقت ہوا تھا جب انجمن احمدیہ کی عمارتوں کے درمیان موجود ایک پرانی پولیس چوکی کو مسمار کر دیا گیا اور اس میں موجود ایک مسجد کے وضو اور طہارت کرنے کی جگہ بھی ختم کر دی گئی، پانی کا کنکشن عملی طور پر بند کر دیا گیا اور مسجد تک جانے والی گزر گاہ روکنے کے لیے دیوار تعمیر کر دی گئی۔مقامی سنی مسلمانوں کے مطابق یہ کام انجمن احمدیہ کے کارکنوں نے کیا تھا۔

عالمی مجلس ختم نبوت اور دیگر مذہبی جماعتوں کے علماء چناب نگر(ربوہ )پہنچنا شروع ہوگئے۔ پولیس نے مداخلت کی جس پر اگلے ہی روز مسجد کا راستہ روکنے والی دیوار مسمار کر دی گئی تھی۔

سنی مسلمانوں کا کہنا ہے کہ’ جماعت احمدیہ کے لوگ اس مسجد کو مسمار کرنا چاہتے ہیں لیکن مسجد اللہ کا گھر ہے جو ایک بار بن گئی اسے ختم نہیں کیا جاسکتا سنی مسلمانوں کا مطالبہ ہے کہ یہاں پر پولیس چوکی بحال کی جاۓ اور مسجد کو آباد کیا جاۓ۔‘

متحدہ مجلس عمل چنیوٹ کے صدر مولانا عبدالوارث کے کہنا ہے کہ ’مسجد کے تحفظ کے لیے پولیس چوکی کا وہاں ہونا ضروری ہے۔‘

جماعت احمدیہ کے ترجمان راشد جاوید نے کہا کہ مسجد یہاں رہے گی لیکن پولیس چوکی کی جگہ پر جامعہ احمدیہ کے لیے ہاسٹل تعمیر کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جگہ جماعت احمدیہ نے خود پولیس چوکی کے قیام کے لیے دی تھی اور خود ہی عمارت تعمیر کرکے دی تھی اب اس چوکی کی ضرورت نہیں رہی اس لیے اس کی بوسیدہ عمارت مسمار کرکے پولیس چوکی کے لیے نئی جگہ فراہم کردی گئی ہے۔

 ’سوال یہ ہے کہ اگر کسی کو کوئی عمارت مستعار دی جائی اور وہ اس کے صحن میں مسجد بنا لے تو کیا اس سے اس بلڈنگ پر حق ملکیت ثابت ہو جاتا ہے؟‘
ترجمان جماعت احمدیہ

جماعت احمدیہ کے ترجمان ایک اور بیان میں بتایا کہ ’پرانی عمارت (چوکی) کے صحن میں پولیس والوں نے نماز کی ادائیگی کے لیے چھوٹا سا چبوتر بنایا اور بعد ازاں جماعت احمدیہ کی ملکیتی جگہ پر بلا ااجازت اور غیر قانونی طور پر ایک چھوٹی سی مسجد بنادی گئی۔‘ جماعت احمدیہ کے بیان میں پھر یہ سوال اٹھایا کہ ’اگر کسی کو کوئی عمارت مستعار دی جائی اور وہ اس کے صحن میں مسجد بنا لے تو کیا اس سے اس بلڈنگ پر حق ملکیت ثابت ہو جاتا ہے؟‘

جماعت احمدیہ کا کہنا ہے کہ یہ تمام تنازعہ غیر ضروری ہے اور ’علماء محض علاقہ کے امن و امان کو برباد کرنے کے لیے شر انگیزی پھیلا رہے ہیں۔‘

مقامی ڈی ایس پی منیر حسین نے بھی کہا ہے کہ پولیس چوکی کی جگہ انجمن احمدیہ سے مستعار لی گئی تھی اور اب عمارت بوسیدہ ہوچکی تھی اس لیے پولیس چوکی نئی عمارت میں منتقل کر دی گئی ہے۔

چنیوٹ کی یونین کونسل اکتالیس کے نائب ناظم ملک محمد اسلم واہگہ نے کہا ہے کہ نئی چوکی ، تھانہ سے صرف چھ سو گز کے فاصلے پر اور تھانے کے اتنے قریب پولیس چوکی کا کوئی جواز ہی نہیں بچتا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہاں اگر پولیس چوکی بحال نہ کی گئی اور مسجد کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی تو امن عامہ کی صورتحال قابوسے باہر ہو سکتی ہے ۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد