توہین رسالت کے ملزم کی سزا برقرار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور ہائی کورٹ کے بہاولپور بینچ نے بہاولنگر سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو توہین رسالت کے الزام میں دی گئی سزائے موت برقرار رکھی ہے۔ اہل سُنت مسلک سے تعلق رکھنے والے بہاولنگر کے شیخ بشیر احمد پر الزام لگایا گیا تھا کہ انھوں نے پیغمبر اسلام حضرت محمد، صحابہ کرام اور اولیا کی شان میں گستاخانہ باتیں کیں جس پر ان کے خلاف دو سو پچانوے سی کے قانون کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا تھا۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ شیح بشیر احمد ایک صوفی منش آدمی ہیں اور انھوں نے اسی رو میں کچھ ایسی باتیں کیں جن پر تحریک ختم نبوت کے ایک مولوی کو اعتراض ہوا اور انھوں نے ان پر مقدمہ درج کرادیا۔ چار سال پہلے بہاولنگر کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے ملزم کو قانون کے تحت سزا سنائی تھی جس کے خلاف لاہور ہائی کورٹ کے بہاولپور بینچ میں اپیل دائر کی گئی تھی۔ گزشتہ روز بہاولپور بینچ کے دو ججوں پر مشتمل بینچ جسٹس فرخ محمود اور جسٹس اعجاز چودھری نے سیشن عدالت کی سزا کو برقرار رکھنے کا فیصلہ سنایا۔ تعزیرات پاکستان کے قانون دو سو پچانوے سی کے تحت کسی ملزم کو جرم ثابت ہونے پر سزائے موت یا عمر قید کی سز دی جاسکتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||