BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 16 September, 2004, 14:15 GMT 19:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
توہین رسالت کے ملزم کی سزا برقرار

توہین رسالت
غیر مسلم کینتھ مسیح جنہیں توہین رسالت کے الزام کا نشانہ بنایا گیا
لاہور ہائی کورٹ کے بہاولپور بینچ نے بہاولنگر سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو توہین رسالت کے الزام میں دی گئی سزائے موت برقرار رکھی ہے۔

اہل سُنت مسلک سے تعلق رکھنے والے بہاولنگر کے شیخ بشیر احمد پر الزام لگایا گیا تھا کہ انھوں نے پیغمبر اسلام حضرت محمد، صحابہ کرام اور اولیا کی شان میں گستاخانہ باتیں کیں جس پر ان کے خلاف دو سو پچانوے سی کے قانون کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا تھا۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ شیح بشیر احمد ایک صوفی منش آدمی ہیں اور انھوں نے اسی رو میں کچھ ایسی باتیں کیں جن پر تحریک ختم نبوت کے ایک مولوی کو اعتراض ہوا اور انھوں نے ان پر مقدمہ درج کرادیا۔

چار سال پہلے بہاولنگر کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے ملزم کو قانون کے تحت سزا سنائی تھی جس کے خلاف لاہور ہائی کورٹ کے بہاولپور بینچ میں اپیل دائر کی گئی تھی۔

گزشتہ روز بہاولپور بینچ کے دو ججوں پر مشتمل بینچ جسٹس فرخ محمود اور جسٹس اعجاز چودھری نے سیشن عدالت کی سزا کو برقرار رکھنے کا فیصلہ سنایا۔

تعزیرات پاکستان کے قانون دو سو پچانوے سی کے تحت کسی ملزم کو جرم ثابت ہونے پر سزائے موت یا عمر قید کی سز دی جاسکتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد