BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 18 October, 2004, 23:03 GMT 04:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
توہین مذہب پر عمر قید کی سزا

توہین رسالت کے قانون کے خلاف احتجاج
خیال ہے کہ یہ قوانین ذاتی مخالفین کےخلاف بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔
لاہور کی ایک مقامی عدالت نے ایک مسلمان شخص مہدی حسن کو توہین مذہب کے الزام میں عمر قید کی سزا سنائی ہے۔

ملزم کے خلاف تین سال قبل لاہور کے تھا نہ شیرا کوٹ میں ایک مقدمہ درج کرایا گیا تھا جس میں اس پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ اس نے مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن پاک کی مبینہ طور پر بے حرمتی کی تھی۔

یہ مقدمہ تین سال تک عدالت میں زیر سماعت رہا۔اس دوران مہدی حسن کے وکیل نے موقف اختیار کیا تھا کہ اس کا اپنے بھائیوں سے جائیداد کا تنازعہ ہے اور اس لیے اسے اس مقدمے میں پھنسایا گیا ہے۔

جبکہ استغاثہ نے اپنے دلائل اور ثبوت پیش کیے جس کے بعد لاہور کے ایڈیشنل سشین جج محمد انور چودھری نے پیر کو مہدی حسن کو عمر قید کی سزا سنا دی۔

تعزیرات پاکستان کے تحت توہین مذہب کے الزام میں قید کی یہ زیادہ سے زیادہ سزا ہے۔

پاکستان میں توہین مذہب کے علاوہ توہین رسالت کا قانون رائج ہے جس کے مطابق مرتکب شخص کو قید یا سزاۓ موت تک دی جاسکتی ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقلیتوں کے نمائندوں کو ان قوانین پر اعتراض ہے وہ اسے غیر منصفانہ قرار دیتے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ یہ قوانین ذاتی مخالفین کے خلاف بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔

پاکستان میں مقامی عدالتیں اکثر ایسے مقدمات میں قید یاموت کی سزاسناتی ہیں تاہم بیشتر مقدمات میں اعلی عدالتوں سے سزاؤں میں معافی دے دی جاتی ہے۔

ایسے مقدمات میں ملوث ہونے والے بغص افراد کو فیصلہ سے قبل ہی قتل کر دیا گیا جبکہ چند ایک بیرون ملک سیاسی پناہ بھی حاصل کر چکے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد