قرآن گیلری عدم توجہی کا شکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی کے ڈی جے سائنس کالج کی تاریخی عمارت سے چند قدم کے فاصلے پر شہر کا قومی عجائب گھر قائم ہے۔ اِس کی بنیاد انیس سو اکہتر میں اس وقت کے صدر یحییٰ خان نے رکھی تھی۔ تین دہائیاں قبل قائم کیے گئے اس عجائب گھر کو اب دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ یہ وفاقی حکومت کی عدم توجہی کا شکار ہے۔ عجائب گھر کی منتظم عاصمہ ابراہیم کےمطابق وفاقی حکومت سالانہ اس گیارہ گیلریوں والے قومی عجائب گھر کی دیکھ بھال کے لیے سالانہ تین لاکھ روپے کی قلیل رقم فراہم کرتی ہے۔ اس آرکیولوجیکل میوزیم کی خستہ حالی کی ایک بڑی وجہ بقول عاصمہ ابراہیم آئے دن بدلتی حکومتوں کے اپنے مفادات اور نوادرات سے بھری اس عمارت سے عدم دلچسپی ہے۔ مقامی افراد کے لیے عجائب گھر کا ٹکٹ دس روپے کا ہے اور بقول میوزیم کے اسسٹنٹ کیوریٹر کوئی بھوُلا بسرا غیر ملکی سیاح آ نکلے تواس کی فیس دو سو روپے ہے۔
عاصمہ ابراہیم اور اسسٹنٹ کیوریٹر نے بتایا کہ سب سے زیادہ لوگ قرآن گیلری میں دلچسپی رکھتے ہیں جس میں مختلف ادوار میں کتابت کیے گئے قرآن کے دس ہزار بیش قیمت نسخے موجود ہیں۔ پچھلے کچھ برسوں سے قرآن گیلری کو مالی بحران کے باعث دیمک چاٹ رہی ہے۔ عجائب گھر کے منتظمین نے بتایا کہ سن سولہ سو پانچ کا ایک قرآن ستائیس رمضان کو نمائش کے لیے رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس کی حالت بھی اب خاصی خستہ ہو چکی ہے کیونکہ اس کو محفوظ کرنے کا کو باقاعدہ انتظام نہیں ہو سکا۔ عجائب گھر کی منتظم نے دیگر گیلریوں کے بارے میں بتایا کہ وسطی ایشیا سے ملنے والے کئی نادر ظروف اور سامان سٹور روومز میں مقفل پڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان چیزوں کی نمائش سے لوگوں کی عجائب گھر میں دلچسپی پیدا کی جا سکتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||