آئی ٹی سی این کی چوتھی نمائش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی چوتھی نمائش گیارہ اگست کو اختتام پذیر ہوگئی۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے حوالے سے اس نمائش کا آغاز سن دو ہزار میں آئی ٹی سی این ایشیا کے نام سے کیا گیا تھا جو اب چار برس کے عرصے میں خاصی ترقی کرگیا ہے۔ نو سے گیارہ اگست تک جاری رہنے والی اس نمائش میں تقریبا تین سے چار سو کے درمیان مختلف مقامی اور ملٹی نیشنل کمپنیوں نے اپنے سٹالز لگائے تھے۔ جن میں کراچی یونیورسٹی کے سٹال سے لے کر بھارتی ایکٹرانکس کی کمپنیوں کوریا کی بجلی کی اشیاء کی کمپنیاں اور امریکی کمپیوٹر فرمز کے سٹال بھی شامل تھے۔ سنگاپور کی کمپنی ای کامرس گیٹ وے کے گروپ پریزیڈنٹ ڈاکٹر خورشید جو اس نمائش کے منتظمین کی سربراہی کر رہے تھے انہوں نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سنگاپور کی طرز پر منعقد کی جانے والی کانفرنس اینڈ ایکزیبشن کے حوالے سے کانفرنس اور نمائش کا مقصد دنیا بھر میں پاکستان کا تاثر تبدیل کرنا ہے۔ ڈاکٹر خورشید کے مطابق ملک میں آئی ٹی کے گریجوئیٹس جس تعداد سے ڈگریاں حاصل کر رہے ہیں ملک میں اس لحاظ سے اس صنعت میں ترقی نہیں ہو رہی اور اس کانفرنس کا مقصد یہی ہے کہ پاکستان آئی ٹی کی صنعت میں نہ صرف غیر ملکیوں کی دلچسپی بڑھائے بلکہ ملکی سطح پر بھی غیر ملکی کمپنیوں کے ساتھ اس فیلڈ میں اشتراک کی راہیں ہموار کی جائیں۔ اس نمائش کے دوسرے روز وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی نے اس نمائش کے دورے پر ایک خطاب کے دوران ملک میں اینٹی سائبر قوانین بنانے پر بھی زور دیا اور اطلاعات کے مطابق جلد ہی پاکستان میں ان قوانین کی تیاری پر کام شروع کیا جائے گا۔ ان قوانین کا مقصد ملک میں آئی ٹی کی صنعت سے وابستہ ملکی اور غیر ملکی جملہ حقوق کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ ان قوانین کے متعارف کرائے جانے کا مقصد غیر ملکی صنعت کاری کو فروغ دینا ہے۔ اگر پاکستانی حکومت یہ قانون بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو غیر ملکی آئی ٹی کمپنیوں کو پاکستان میں سائبر جرائم کا خطرہ نہیں رہے گا۔ نمائش دیکھنے والوں میں بڑی تعداد نوجوان آئی ٹی گریجوئسٹس کی تھی۔ جو مختلف سٹالز پر اپنی دلچسپی اور تجسس کا اظہار کر رہے تھے۔ تاہم ایک بڑی تعداد کا کہنا تھا کہ یہ ایک سنہری موقع ہے پاکستان کے لوگوں کو انفارمیشن ٹیکنالوجی سے منسلک مختلف نوعیت کی اشیاء کو ایک ہی چھت کے نیچے دیکھنے اور ان کو سمجھنے کا موقع مل رہا ہے۔ آنے والوں میں جہاں طلبا بڑی تعداد میں موجود تھے وہیں اس صنعت سے وابستہ لوگوں کے لیے یہ کانفرنس اور نمائش اس فیلڈ میں کاروباری روابط بڑھانے کے ایک مفید ذریعہ بنی۔ اس سوال پر کہ کیا پاکستان کے کسی شہر کو بھی ہم اگلے پانچ برس یا دس برس کے عرصے میں بھارتی سلیکون ویلی یا بنگلور اس سے کمپیئر کر پائیں گے تو ای کامرس گیٹ وے کے گروپ صدر اور اس کانفرنس کے روح رواں ڈاکٹر خورشید کا کہنا تھا کہ بھارت میں یہ ابتدا آج سے تیس برس قبل کی گئی تھی جو ہم نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے وزیر ڈاکٹر عطاءالرحمان کے کہنے پر اب سے چار برس قبل شروع کی ہے۔ لہذا بھارت سے مقابلہ کرنا تو عقلمندی نہ ہو گا مگر جیسے امریکہ سمیت کئی ممالک بھارت سے آؤٹ سورسنگ یا ٹھیکے پر کام کرواتے ہیں ہمیں بھی بھارت سے اسی نوعیت کے تعلقات بڑھانے چاہیں۔ ہمارے پاس آئی ٹی کے گریجوئٹس زیادہ ہیں لہذا سستی شرائط پر ہمیں اپنے لوگو ں کو آؤٹ سورس کرانا چاہیے۔ کیونکہ اگر بھارت ایک بلین ڈالر کا ایکسپورٹ کرتا ہے تو ہم اس کا ایک فیصد ایکسپورٹ کرتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق تین دن تک جاری اس نمائش کو دیکھنے تقریبا ایک لاکھ افراد کراچی کے ایکسپو سنٹر آئے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||