سینما گھروں کی بدحالی اور ہڑتال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کیبل کے ستائے ہوئے لاہور کے سینما مالکان نے اعلان کیا ہے کہ وہ چھ جولائی سے احتجاج کے طور پر ہڑتال کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کا نقصان اتنا زیادہ ہوگیا ہے کہ ان کے لئے کاروبار جاری رکھنا ممکن نہیں رہا۔ سینما گھروں کے مالکان کا مطالبہ ہے کہ حکومت انھیں ہندوستانی فلموں کی نمائش کی اجازت دے۔ سینما مالکان کی ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ملک میں بیس سال پہلے پندرہ سو سینما گھر تھے اب ان کی تعداد کم ہوکر دو سو ستر رہ گئی ہے۔ صرف گزشتہ چند ماہ میں پچاس کے قریب سینما گھر بند ہوئے ہیں۔ لاہور میں پلازا، رتن ، ریگل، امپائر، کیپری، اوڈین، مبارک، سوزو ورلڈ جیسے سینما گھر بند پڑے ہیں۔ کراچی میں لیرک، کالا اور نشاط تو بند ہوگئے اور اب بمبینو بھی بکنے جارہا ہے۔ سینما مالکان کی ایکشن کمیٹی کے چئرمین زوریز لاشاری نے بی بی سی کوبتایا کہ جو سینما چل رہے ہیں وہ بھی نہ چلنے کے برابر ہیں کیونکہ ان کی روزانہ آمدن پانچ سو روپے سے ایک ہزار روپے رہ گئی ہے جبکہ یہ سینما گھر کروڑوں روپے کی لاگت سے بنے ہیں۔ مسٹر لاشاری کا کہنا ہے کہ کیبل پر ہندوستانی اور ہالی وڈ کی فلمیں دن رات چل رہی ہیں جس کی وجہ سے لوگوں نے سینما گھروں کا رخ کرنا بند کردیا ہے۔ لاشاری کا موقف ہے کہ کیبل پر جعلی سی ڈیز کے ذریعے ہندوستانی اور ہالی وڈ کی فلموں کا چربہ دکھانا غیر قانونی ہے لیکن حکومت ان کے خلاف کوئی اقدام کرنے کے لیے تیار نہیں اور وہ ہمیں مشورہ دیتے ہیں کہ عدالت سے رجوع کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ سینما مالکان کے پاس اتنا پیسہ نہیں کہ عدالتوں میں مقدمے لڑیں۔ سینما مالکان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملک میں فلمیں بننے کی تعداد کم ہوگئی ہے جہاں چند سال پہلے ایک سال میں سو کے قریب فلمیں بنتی تھیں اب وہاں گزشتہ سال ان کی تعداد بیس پچیس رہ گئی۔ سینما ایسوسی ایشن کےمطابق انھیں اپنے کاروبار کے لیے ہر ہفتہ ایک نئی فلم چاہیے۔ ہالی وڈ کی فلمیں بھی درآمد نہیں ہورہیں۔ جعلی سی ڈیز کی وجہ سے فلمیں درآمد کرنے والے اب کنارہ کش ہوگئے ہیں۔ سینما مالکان کے مطابق اس سال پاکستان میں کوئی انگریزی فلم درآمد نہیں کی گئی۔ لاشاری کا کہنا ہے کہ کوئی شخص ایک لاکھ امریکی ڈالر کے عوض ہالی وڈ کی کوئی فلم ریلیز ہونے کے پانچ چھ ماہ بعد پاکستان میں دکھانے کے لیے منگواۓ اور اس سے پہلے اس فلم کی سی ڈی دن رات کیبل پر چل چکی ہو تو اسے سینما میں کون دیکھنے آۓ گا۔ اب سینما ایسوسی ایشن کا مطالبہ یہ ہے کہ جو سینما گھر بچ گئے ہیں انھیں بند ہونے سے بچانے کے لیے حکومت ہندوستانی فلمیں منگوانے اور دکھانے کی اجازت دے کیونکہ وہ ان کی نمائش اسی وقت کریں گے جب ان کی نمائش ہندوستان میں ہوگی اور یوں کیبل والوں سے مقابلہ نہیں ہوگا اور دوسرے حقوق ملنے پر وہ کیبل والوں سے قانونی طور پر نپٹ سکیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہندوستانی فلمیں منگوانے کی ایک تجویز سینما مالکان اورفلم سازوں کے مشورے تیار ہوئی تھی جسے وفاقی وزارت برائے ثقافت نے منظور کیا تھا لیکن وہ سمری تین ماہ سے دوسری چار وزارتوں سے منظوری کے لیے ان کے پاس گئی ہوئی ہے جو اسے دبائے بیٹھی ہیں۔ اگر وہ اسے منظو رکریں تو یہ معاملہ کابینہ میں پیش ہو۔ سینما مالکان کا کہنا ہے کہ جب ہندوستانی فلمیں کیبل پر چل سکتی ہیں اور ان کی ویڈیو اور سی ڈیز بازار میں بک سکتی ہیں تو سینما میں چلنے پر اعتراض کیوں ہے۔ اور اگر حکومت کو ہندوستانی فلمیں سینما پر چلانے پر اتنا ہی اعتراض ہے تو وہ فلمی صنعت کو ساٹھ کروڑ ورپے سالانہ کے حساب سے دو سال کے لیے آسان شرائط پر قرضہ دے تاکہ پچیس تیس اچھی فلمیں بنائی جاسکیں اورسینما گھر انھیں دکھا سکیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||