 |  پاکستان کے شہر پشاور میں مظاہرہ |
گوانتاناموبے میں واقع امریکی جیل میں قرآن کی مبینہ بےحرمتی کے خلاف سعودی عرب، پاکستان اور افغانستان میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ افغانستان کے شہر جلال آباد اور کابل میں بھی پرتشدد مظاہرے ہوئے ہیں۔ ان مظاہروں میں کئی افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ جلال آباد میں پاکستانی قونصل خانے کو نذر آتش کردیا گیا اور اقوام متحدہ کے دفتر کو نقصان پہنچا ہے۔ پاکستان کے کئے شہروں میں جمعہ کی نماز کے بعد مظاہرے ہوئے۔ سعودی حکومت نے قرآن کی بےحرمتی کے الزامات کی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے اور پاکستانی وزیر خارجہ خورشید قصوری نے کہا ہے کہ اگر قرآن کی بےحرمتی کے الزامات صحیح ہیں تو ذمہ دار افراد کو سزا ملنی چاہئے۔ آپ کے خیال میں قرآن کی مبینہ بےحرمتی کے کیا دور رس نتائج مرتب ہوسکتے ہیں؟ اس کا افغانستان پر کیا اثر پڑے گا؟ پاکستان کیسے متاثر ہوگا؟ اور امریکہ اور مغربی دنیا کے تعلقات اسلامی ممالک سے کیسے متاثر ہوسکتے ہیں؟ اب یہ فورم بند ہو چکا ہے۔ قارئین کی آراء سے ایک انتخاب یہاں دیا جاتا ہے۔
ڈاکٹرمحی الدین، کراچی، پاکستان: نیوز ویک میں یہ پڑھ کر بہت دکھ ہوا کہ مسلمان قیدیوں کو ٹارچر کرنے کے لیے قرآن کی بے حرمتی کی گئی۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ خدا نے کئی پیغمبر بھیجے ہیں اس لیے بطور مسلمان ہمارا عقیدہ ہے کہ خدا کے پیغام تمام مذہبی کتابوں میں موجود ہے، چاہے وہ قرآن مجید ہو، انجیل ہو یا حتٰی کہ گیتا ہو۔ میں تو دوسری مذاہب کی کتابوں کو ہاتھ لگانے سے پہلے طہارت کرتا ہوں، ایک علامتی احترام کے طور پر۔ قرآن کی مبینہ بے حرمتی کرنے والوں نے ھٹلر جیسی حرکت کی ہے جس نے یہودیوں کی مقدس کتاب تورات کی بے حرمتی کی تھی۔عقیل اکرم، برامپٹن، کینیڈا: یہ بدقسمتی کی بات ہے لیکن اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بُش انتظامیہ مسلمانوں کو اس مقام تک گھسیٹ رہی ہے کہ جہاں دونوں تہذیبوں کے درمیان ٹکراؤ یقینی ہو جائے۔تمام مسلمان کم از کم ایک قرآن پر تو متفق ہیں، یہ واقعہ تمام فرقوں کو متحد کر سکتا ہے۔ افغانستان میں احتجاج اس جانب اشارہ کرتا ہے کہ وہ ملک جہاں امریکہ برسوں سے اپنا اثر بڑھانا چاہ رہا ہے، وہاں صورت حال دو دنوں میں بدل سکتی ہے۔ جاوید اقبال ملک، چکوال،پاکستان: یہ واقعہ مغربی دنیا اور مسلمانوں کے درمیان فاصلے کو بڑھا سکتا ہے۔ تمام دنیا کے لوگوں کو ایک دوسرے کے مذہب کا دل سے احترام کرنا ہوگا، قرآن ہو یا بائیبل، یا کوئی اور کتاب۔ آصف اعوان، کوریا: میں سمجھتا ہوں یہ اسلام کی کھلی مخالفت ہے لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہماری حکومت غیر مسلموں کی چالیں نہیں سمجھتی۔ میرا خیال ہے صدر بُش کو تمام مسلم دنیا سے معافی مانگنا چاہیے۔  | فوج کی حرکت  یہ صرف فوجیوں کی حرکت ہو سکتی ہے لیکن ان کو کیا کہا جا سکتا ہے، ان کا تو نعرہ ہی یہی ہوتا ہے کہ ’جنگ اور محبت میں سب جائز ہے‘۔  تکلم بیگ، ٹورانٹو |
تکلم بیگ، ٹورانٹو: امریکہ کے خلاف نفرت میں اضافہ ہوگا اور دہشت گردی میں بھی اضافہ ہوگا۔ پاکستان میں دہشت گردی خلاف جنگ بھی متاثر ہو سکتی ہے۔تمام مغربی ممالک کو موردِالزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا اور میں نہیں سمجھتا کہ اس واقعہ میں حکومتی سطح پر کسی کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ یہ صرف فوجیوں کی حرکت ہو سکتی ہے لیکن ان کو کیا کہا جا سکتا ہے، ان کا تو نعرہ ہی یہی ہوتا ہے کہ ’جنگ اور محبت میں سب جائز ہے‘۔ عبدا لملک، ایوبیہ، پاکستان: اس واقعہ کے بعد ہر مسلمان اندازہ کر سکتا ہے کہ امریکہ اسلام کے بارے میں معاندانہ رویہ رکھتا ہے۔ شہاب احمد شہاب، کراچی: ہونا کیا ہے۔ کچھ دن تک اسلامی ملکوں کے معصوم عوام احتجاج کریں گے، اس کے بعد اللہ اللہ خیر سلا۔ جب ہمارے حکمران امریکہ کے ہیں تو پھر فائدہ کیا؟ سکندر بلوچ، بنکاک، تھائی لینڈ: ویسے تو امریکہ خود کو انسانی حقوق کا سب سے بڑا علمبردار اور امریکی لوگ خود کو مہذہب قوم سمجھتے ہیں لیکن ان کے یہ دعوے اب پوری دنیا کے سامنے ہیں۔ جتنے ظلم امریکہ نے دنیا پر ڈھائے ہیں شاید ہی کسی دوسرے ملک نے کیے ہوں گے، ھیرو شیما سے لے کر، ویت نام اور ویت نام سے لے کر عراق تک۔ جنگ کے نام امریکہ نے بہت گری ہوئی حرکتیں کی ہیں۔قرآن کی بے حرمتی سے امریکہ کو افغانسنتان میں بہت نقصان ہوگا اور دنیا میں جہاں بھی مسلمان ہیں وہاں اس کے خلاف شدید نفرت پیدا ہوگی۔چاہے کوئی بنیاد پرست نہ بھی ہو، اس واقعہ کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کر سکتا۔ سعودی عرب اور پاکستان نے ملزموں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ تو کیا ہے لیکن امریکہ کو یہ سوچنا چاہیے کہ ’ہر عروج کا زوال ہوتا ہے۔‘ ذاکر وہرا، کلیر ویؤ، کینیڈا: میرا خیال ہے اس سے مغربی دنیا اور مسلمان دنیا کے درمیان فاصلہ بڑھ جائے گا۔ حکومتوں کو چاہیے کہ وہ یقینی بنائیں کہ اس قسم کے واقعات آئندہ کبھی نہ ہوں ورنہ یہ تمام ملکوں کے لیے تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔ میں یہ بھی کہنا چاہوں گے کہ مولوی حضرات ’کاروکاری‘ جیسی معاشرتی برائیوں کے خلاف احتجاج کیوں نہیں کرتے؟ محمد انور حسین، ٹورانٹو: اس واقعہ کے افغانستان پر گہرے اثرات ہوں گے۔ دیگراسلامی دنیا احتجاج سے آگے کچھ نہیں کرے گی کیونکہ اسلامی ملک بے حسی کا شکار ہیں۔
 | حد سے تجاوز  امریکی انتظامیہ کو ہر بات کا علم تھا لیکن انہوں نے ایسی حرکات کو روکنے کے لیے کچھ نہیں کیا۔اسے کہتے ہیں حد سے تجاوز کر جانا۔  سہیل خان، امریکہ |
احمد علی کمبہار، جامشورو، پاکستان: امریکہ مسلمانوں کا دشمن ہے اور اس کا مقصد مسلمانوں کو نقصان پہنچانا ہے۔ امریکہ پاکستان کے ساتھ بھی مخلص نہیں۔ افغانی، پاکستانیوں سے بہتر مسلمان ہیں کیونکہ وہ لوگ اسلام کے دشمن امریکہ سے لڑ رہے ہیں۔ریحان اعوان، سرے، برطانیہ: مجھے اس بار پر حیرت نہیں کہ اسلام دشمن کیا کرتے ہیں، دکھ اس بات کا ہے کہ مسلمان آج بھی آپس میں اتحاد کے لیے معلوم نہیں کس دن کا انتظار کر رہے ہیں۔ حیف ہے صد حیف! عبدالسلام، تیمارگرہ، پاکستان: کچھ بھی نہیں ہونے والا جی۔ ہم مسلمان اسلام سے پھر چکے ہیں اور قرآن کو بھول چکے ہیں۔ مسلمان ممالک امریکہ کے بغیر سانس بھی نہیں لے سکتے۔ امریکی ہماری اسلام سے دوری کو جان چکے ہیں ورنہ وہ ایسی حرکت نہ کرتے۔ جبران حسنین، کراچی: اس واقعہ سے ہمیں سمجھ لینا چاہیے کہ مسلمان ممالک، خاص طور پر افغانستان میں ہماری کیا اہمیت ہے۔ قرآن کی بے حرمتی امریکہ نے کی اور سفارتخانہ جلایا گیا پاکستان کا، یعنی افغانی بھی اپنی تباہی کا ذمہ دار پاکستان کو سمجھتے ہیں۔ ساجل احمد، نویڈا، امریکہ: کسی بھی انسان یا ملک کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی مذہب کی مقدس کتاب کی بے حرمتی کرے، اس واقعہ کے ذمہ دار لوگوں کو سخت سزا ملنا چاہیے۔ سہیل خان، امریکہ: فوج میں ایک بات کہی جاتی ہے ’حکم مانو یامرجاو‘۔ فوج کا جوان وہی کرتا ہے جس کا حکم اس کا افسر دیتا ہے اور امریکی افسران کو احکام پینٹاگون سے ملتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکی انتظامیہ کو ہر بات کا علم تھا لیکن انہوں نے ایسی حرکات کو روکنے کے لیے کچھ نہیں کیا۔اسے کہتے ہیں حد سے تجاوز کر جانا۔ انہوں نے ایسا اس وجہ سے کِیا کہ انہیں معلوم ہے کہ مسلمانوں کی کوئی عزت نہیں ہے۔ کرن جبران، واٹر لو، کینیڈا: وہ تو غیر ہیں ان سے تو توقع ہی یہی تھی مگر ہم کونسا قرآن کو عزت دے رہے ہیں، بس خوبصورت غلافوں میں لپیٹ کر تاق کی زینت بنا رکھا ہے۔ نہ تو کوئی پڑھتا ہے نہ ہی عمل کرتا ہے۔ کیا یہ بے حرمتی نہیں؟ اس کی کیا سزا ہونا چاہیے؟ محمد ندیم، کینیڈا: یہ مسلمان ملکوں کی بد قسمتی اور بد بختی ہے کہ ان کی سب سے بڑی اور قابل احترام کتاب کی بے حرمتی کے باوجود خاموش بیٹھے ہیں۔ ان کو تو چاہیے تھا کہ امریکہ کا جینا حرام کر دیتے لیکن مسلمان ہیں کہ اپنی بدمستیوں میں گم ہیں۔  | مذہب کی تعلیم  افسوس ہم مسلمان مذہب کے نام پر تو مرنے کو تیار بیٹھے ہیں مگر مذہب کی تعلیم کیا ہے، یہ کسی کو نہیں پتا اور نہ ہی کبھی پتا کرنے کی کوشش کی ہے۔  جُبران خلیل، لاہور | جُبران خلیل، لاہور: قرآن کی بے حرمتی امریکہ نے کی، ان سے امید بھی اور کیا تھی لیکن ہر روز ہم اپنے ملک میں قرآن کی تعلیم کے خلاف عمل کر کے بے حرمتی کر رہے ہیں اس پر سوچا ہے کسی نے؟ افسوس ہم مسلمان مذہب کے نام پر تو مرنے کو تیار بیٹھے ہیں مگر مذہب کی تعلیم کیا ہے، یہ کسی کو نہیں پتا اور نہ ہی کبھی پتا کرنے کی کوشش کی ہے۔
خان اظفر، ٹورانٹو: قرآن سے محبت تو جان سے بڑھ کر ہے مگر ابھی تو امریکہ سے نفرت دکھانے کا جواز چاہیے۔ بابر راجہ، جاپان: کوئی بھی مذہب کسی کو بھی مذہبی کتاب کی بےحرمتی کی اجازت نہیں دیتا۔ اگر کوئی کرے تو اس کو ایسی سزا دینا چاہیے کہ وہ عبرت کا نشان بن جائے۔ شرجیل سعید، پاکستان: اگر یہ بات صحیح ہے تو امریکہ کے خلاف اسلامی ممالک میں جو نفرت پائی جاتی ہے اس میں کئی گنا اضافہ ہو جائے گا۔ ایم جاوید انور،ٹورانٹو: آپ جو بوتے ہیں ، ایک دن کاٹنا پڑتا ہے۔ بے چارے امریکی عوام کو کل وہ کچھ کاٹنا پڑے گا جو آج ان کی حکومت بو رہی ہے۔دنیا کے تمام جمہوری ملک آخر ایک دن امریکہ کے خلاف اکھٹے ہو جائیں گے۔ یہ بُش انتظامیہ کا اصلی چہرہ ہے۔ |