قرآن کی بےحرمتی قبیح فعل ہے: رائس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کی وزیر خارجہ ڈاکٹر کونڈولیزا رائس نے کہا ہے کہ قرآن کی بے حرمتی کرنا یا اسے برداشت کرنا امریکہ کی نہ تو ماضی میں پالیسی رہی ہے اور نہ حال میں اور نہ ہی مستقبل میں ایسا ہوگا۔ انہوں نے سینیٹ کی ایک اہم ترین کمیٹی کے سامنے پیش ہونے سے پہلے خصوصی طور پر اعلان کیا کہ وہ اپنا محکمانہ بیان دینے سے پہلے دنیا بھر کے مسلمانوں سے خطاب کرنا چاہتی ہیں۔ فارن آپریشنز اور دوسرے پروگراموں کے لئے فنڈ مہیا کرنے والی سینیٹ کی کمیٹی کے سامنے بیان دیتے ہوئے ڈاکٹر رائس نے کہا کہ ہم سب عظیم مذاہب کی مقدس کتابوں کا احترام کرتے ہیں اور قرآن کی بے حرمتی کرنے کو انتہائی قبیح فعل گردانتے ہیں۔ ڈاکٹر رائس نے کہا ’کہ الزام لگایا گیا ہے کہ گوانتانامو میں تفتیشی افراد نے قرآن کی بے حرمتی کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو صدمہ پہنچا ہے۔ ہمارے فوجی حکام اس الزام کی پوری طرح سے تفتیش کر رہے ہیں۔ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوئے تو مناسب اقدامات اٹھائے جائیں گے۔‘ انہوں نے کہا ’ہر فرد کی مذہبی آزادی کا احترام امریکہ کا بنیادی اصول رہا ہے۔ ہر کسی کے آزادانہ اور بلا خوف و خطر عبادت کے حق کی حفاظت کا اصول ایسا ہے جس کو امریکی عوام اور حکومت بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ صدر اور میں خود مذہبی آزادی کے تحفظ کو بہت ہی ذاتی اہمیت کا مسئلہ سمجھتے ہیں۔‘ ڈاکٹر رائس نے پچھلے چند دنوں میں ہونے والے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’دنیا بھر سے مسلمان دوستوں نے ہمیں اپنے تحفظات سے آگاہ کیا ہے۔ ہمیں ان کے خدشات کا علم ہے اور ہمیں یہ بھی افسوس ہے کہ متشدد جلوسوں میں کچھ لوگ اپنی جان گنوا بیٹھے۔ انہوں نے دنیا بھر میں امریکہ کے دوستوں سے درخواست کی کہ وہ اشتعال انگیزی کو مسترد کردیں اور ہماری نیت کو غلط رنگ نہ دیں۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||