BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 24 December, 2004, 10:50 GMT 15:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
برطانیہ کے سیاسی بحران

بلئیر
اہم عالمی مسائل کے سلسلے میں برطانیہ کا اثرو رسوخ بہت محدود ہو گیا ہے
سن دوہزار چار برطانیہ کے لیے بحرانوں کے جوار بھاٹے کا سال رہا ہے۔یہ سال وزیراعظم ٹونی بلئیر کے لئے دو سنگین بحرانوں کا ایسا طوفان چھوڑ گیا ہے جس کا اثر بلاشبہ نئے سال کی سیاسی فضا پر موجود رہے گا –

اگست میں یہ انکشاف ہوا کہ برطانیہ کے نابینا وزیر داخلہ اور وزیراعظم ٹونی بلئیر کے بہت ہی قریبی دوست ڈیوڈ بلنکٹ کا پچھلے کئی سال سے ایک شادی شدہ امریکی خاتون کے ساتھ معاشقہ چل رہا تھا جو ناچاقی پر ختم ہو گیا۔گو بہت سے لوگوں کے نزدیک یہ معاملہ اخلاقی قدروں کے خلاف تھا لیکن اس پر نجی معاملات کی چادر ڈال دی گئی اور کوئی شور نہیں مچا۔

شور اس وقت مچا جب یہ الزام سامنے آئے کہ ڈیوڈ بلنکٹ نے اس خاتون کو ایسی سرکاری مراعات فراہم کیں جس کی وہ قواعد کے مطابق اہل نہیں تھیں۔ اور سب سے سنگین یہ الزام تھا کہ وزیر داخلہ نے اس خاتون کی فلیپینی آیا کے اس ملک میں مستقل قیام کے اجازت نامے کے جلد ازجلد اجراء کے لئے اپنا اثر ورسوخ استعمال کیا۔

پہلے تو ڈیوڈ بلنکٹ نے اس الزام سے صاف انکار کیا اور فورا ً اپنی وزارت کے حکام کو خود اپنے خلاف تحقیقات کا حکم صادر کیا اور وزیر اعظم ٹونی بلئیر نے بھی ان کی بھر پور حمایت کی۔لیکن جب ایک کے بعد ایک ، اس الزام کے پرت کھلنے لگے تو آخر کار ڈیوڈ بلنکٹ کو استعفٰی دینا پڑا اور ٹونی بلئیر کو سیاسی زک اٹھانی پڑی۔

News image
بلنکٹ کو ’نینی گیٹ‘ سکینڈل کی بنا پر مستعفی ہونا پڑا

وزیراعظم ٹونی بلئیر کو ڈیوڈ بلنکٹ کے استعفی کے دوسرے روز دوہرا صدمہ اس وقت برداشت کرنا پڑا جب دارالامراء کے لارڈز نے دہشت گردی کے خلاف قانون کے تحت پچھلے تین سال سے متعدد غیرملکیوں کو بغیر مقدمہ چلائے حراست میں رکھنے کو برطانیہ کی شہری آزادیوں کے بنیادی اصولوں کے خلاف قرار دیا۔ دہشت گردی کے خلاف اس قانون کے روح رواں ڈیوڈ بلنکٹ ہی تھے۔

نئے وزیر داخلہ چارلس کلارک نے ملک کی اعلی ترین عدالت کے اس فیصلہ کو ماننے سے انکار کر دیا ہے اور غیر ملکی قیدیوں کو بیل مارش جیل میں غیر معینہ مدت تک حراست میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے جو برطانیہ کا گوانتا نامو بے کیمپ کہلاتا ہے-

ڈیوڈ بلنکٹ کے جانشین کے اس اقدام نے ایک ایسا آئینی بحران پیدا کر دیا ہے جس سے عدلیہ اور حکومت کے درمیان معرکہ آرائی بھڑک اٹھنے کا خطرہ ہے-

سن دو ہزار چار جس طرح بحرانوں کے جوار بھاٹے پر ختم ہوا یہ سال شروع بھی بحرانوں سے ہوا تھا اور ان بحرانوں کا مرکز عراق کی جنگ اور اس کے لیے وزیر اعظم ٹونی بلئیر کے بدلتے جواز تھے۔

عراق کی جنگ کے فورا بعد بی بی سی کے حالات حاضرہ کے پروگرام میں دفاعی نامہ نگار اینڈریو گلیگن کی ایک رپورٹ نشر ہوئی تھی جس میں بعض ذرائع کے حوالے سے یہ کہا گیا تھا کہ جنگ کے جواز کے لیے صدام حسین کے وسیع پیمانے پر تباہی کے اسلحہ کے بارے میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر جو دستاویز تیار کی گئی تھی اسے وزیراعظم کے دفتر نے بڑھا چڑھا کر پیش کیا تھا۔

ٹونی بلئیر کی حکومت جو پہلے ہی ملک میں جنگ کی مخالفت سے پریشان تھی ، اس رپورٹ پر سیخ پا ہو گئی اور اس کے بعد حکومت اور بی بی سی کے درمیان ایسی معرکہ آرائی شروع ہو گئی جس کی نظیر نہیں ملتی۔ اس دوران یہ انکشاف ہوا کہ اینڈریو گلیگن کی اس رپورٹ کا ذریعہ وزارت دفاع کے ایک سائنسی مشیر ڈاکٹر ڈیوڈ کیلی تھے۔اس کے فورا ً بعد ڈاکٹر کیلی ایک میدان میں مردہ پائے گئے اور یہ کہا گیا کہ انہوں نے خودکشی کر لی ہے۔

ڈیوڈ کیلی
ڈیوڈ کیلی کی موت ایک معمہ ثابت ہوئی

اس واقعہ پر اٹھائے جانے والے سوالات پر وزیرِاعظم ٹونی بلئیر کو پورے معاملہ کی تحقیقات کا حکم دینا پڑا اور شمالی آئر لینڈ کے سابق چیف جسٹس لارڈ ہٹن کو یہ فریضہ سونپا گیا۔

سن دو ہزار چار کا آغاز لارڈ ہٹن کی رپورٹ سے ہوا جس میں انہوں نے ٹونی بلئیر اور ان کی حکومت کو صدام حسین کے وسیع پیمانے پر تباہی والے اسلحہ کے خطرات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کے الزام سے بری کردیا اور الزام انہوں نے بی بی سی کے ادارتی نظام میں سقم کو دیا جس کے نتیجہ میں بی بی سی کے چیئرمین اور ڈائرکٹر جنرل دونوں کو استعفی دینا پڑا۔

جب عراق میں پورے ایک سال کی کھوج کے بعد بھی وسیع پیمانے پر تباہی کے ہتھیاروں کا نام و نشان نہیں ملا جس کی بنیاد پر صدام حسین کے خلاف جنگ کی گئی تھی تو ملک کے انٹیلی جنس اداروں کی ناکامی کے مسئلہ پر ٹونی بلئیر کے لیے ایک نیا بحران پیدا ہوگیا۔

انٹیلی جنس اداروں کی ناکامی کے بارے میں تحقیقات کا کام کابینہ کے سابق سیکریٹری لارڈ بٹلر کو سونپا گیا جنہوں نے یہ فیصلہ دیا کہ عراق کے اسلحہ کے بارے میں انٹیلی جنسں غیر معتبر تھی اور عراق کے جوہری ، کیمیاوی اور جراثیمی اسلحہ کے بارے میں معتبر خفیہ اطلاعات حاصل کرنے کے لیے برطانیہ کی جاسوسی ایجنسی کے پاس ایجنٹوں کا فقدان تھا۔

لیکن لارڈ بٹلر نے اس بارے میں ایک لفظ نہیں کہا کہ آیا کہ غیر معتبر انٹیلیجنس کی بناء پر وزیر اعظم نے جنگ کے بارے میں غلط فیصلہ کیا- پھر اس سوال پر پارلیمنٹ میں بحث کی اجازت نہیں دی گئی کہ ناقص انٹیلیجنس کی بنیاد پر غلط فیصلہ کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔

عراق کے بحران کی پرچھائیوں تلے کئی اور مسائل ابھرے جن میں سب سے سنگین مسئلہ یونیورسٹیوں میں طلبا کی فیس کا تھا جو تین ہزار پاونڈ سالانہ تک بنتی ہیں- فیس کے مسئلہ پر خود لیبر پارٹی میں کافی مخالفت تھی اور پارلیمنٹ میں صرف پانچ ووٹ سے یہ فیصلہ منظور کرایا جا سکا۔ پھر کتوں کے ساتھ لومڑیوں کے شکار پر پابندی کے قانون پر ٹونی بلئیر کو دیہی علاقہ کے با اثر عناصر کی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔

برطانیہ کے بلدیاتی اداروں اور یورپی پارلیمنٹ کے انتخابات میں لیبر پارٹی کو خاصی خفت اٹھانی پڑی لیکن یہ بات اس کے لیے دلجمعی کا باعث تھی کہ اس کی رقیب جماعت ٹوری پارٹی بھی کوئی بڑی کامیابی حاصل نہ کر پائی اور لبرل ڈیموکریٹک پارٹی اور یورپ کی مخالف ایک نئی جماعت یو کے آئی پی سرفراز رہی۔

اس کے فورا بعد یہ افواہیں عام ہوئیں کہ ٹونی بلئیر سخت دباؤ کا شکار ہیں اور ممکن ہے کہ وہ وزیر خزانہ گورڈن براؤن کے حق میں دست بردار ہو جائیں لیکن ان افواہوں کے دوران ٹونی بلئیر کے اس بیان پر ہنگامہ برپا ہو گیا کہ وہ اگلے انتخاب سے پہلے وزارتِ اعظمی نہیں چھوڑیں گے اور ممکن ہے کہ وہ چوتھی مدت کے بارے میں بھی سوچیں۔

News image
صدر بش کی فتح سےٹونی بلئیر سیاسی دلدل میں دھنسنے سے بچ گئے

البتہ نومبر میں امریکی صدارتی انتخاب میں صدر بش کی فتح سے ٹونی بلئیر کو بہت تقویت پہنچی کیونکہ اگر امریکی عوام صدر بش کو مسترد کر دیتے تو اسے ان کی عراقی پالیسی کی ہار سمجھا جاتا اور اس طرح ٹونی بلئیر جو اس پالیسی کے حامی سمجھے جاتے ہیں سیاسی دلدل میں دھنس جاتے۔لیکن اب اگلا سال برطانیہ میں عام انتخابات کا ہے جس میں بلا شبہ ٹونی بلئیر کو سخت آزمائش کا سامنا کرنا پڑے گا-

برطانیہ میں سیاسی مبصر اس بات پر متفق ہیں کہ افغانستان اور عراق کے خلاف جنگ کے معاملہ پر ٹونی بلئیر کی صدر بش کے ساتھ بے انتہا قربت کی وجہ سے غیر ممالک میں اور خاص طور پر مسلم ممالک میں برطانیہ کا اثر زوال پزیر رہا ہے اور اہم عالمی مسائل کے سلسلے میں برطانیہ کا اثرو رسوخ بہت محدود ہو گیا ہے۔

بے شک موجودہ خارجہ اور داخلی سیاسی حالات ٹونی بلئیر کے لئے پریشان کن ہیں اور خود لیبر پارٹی میں دائیں اور بائیں بازو کے درمیان نظریاتی معرکہ آرائی تیز تر ہوتی جارہی ہے لیکن انہیں تسلی اس بات کی ہے کہ برطانیہ کی معیشت اس وقت خاصی مضبوط ہے۔

سن دو ہزار چار کی پہلی ششماہی میں مجموعی قومی پیداوار میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور ٹیکسوں کی آمدنی سے خسارے کی شرح مجموعی قومی پیداوار کے تین فیصد سے کم رہی ہے جسے یورپ کے دوسرے تمام ممالک کے مقابلہ میں ایک بڑی کامیابی قرار دیا جاتا ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ نئے سال میں ٹونی بلئیر مضبوط معیشت کے سہارے سیاسی بحرانوں کی دلدل سے کیسے نکلنے میں کامیاب ہوتے ہیں-

وسعت کاعجیب سال
دوہزار چار میں وسعت نے کیا کیا خبریں پڑھیں
شاہ رخ اور پریتی زنٹابالی وڈ دوہزار چار
شاہ رخ خان کا راج، پاک۔بھارت پیار۔۔۔
افغانجنگ سے جنگ تک
افغانوں کی آپ بیتیاں، عمرآفریدی کے ساتھ
صدر بش کا سالچناؤ کا سال
ایک حقیقت ایک فسانہ۔ عارف شمیم کا 2004
عرفات، برانڈو، ثریا، پکھراج اور سپر مین گئےاس سال جو چلےگئے
عرفات، برانڈو، ثریا، پکھراج اور سپر مین بھی
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد