کیمیائی حملے کی سازش ناکام | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے مبینہ طور پر برطانیہ میں کیمیائی بم دھماکے کی ایک سازش کو ناکام بنا دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق مبینہ دہشت گردوں نے برطانیہ میں مختلف شہری اہداف پر دھماکہ خیر مواد اور اوسمیئم ٹیٹرآکسائیڈ نامی ایک کیمیائی مادے کے ذریعے حملے کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کیمیائی مادے سے نکلنے والی گیس تنگ جگہ پر خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق القاعدہ تنظیم کے مقاصد سے ہمدردی رکھنے والے مبینہ دہشت گرد برطانیہ میں عام شہریوں کو نشانہ بنانے کی سازش کر رہے تھے۔ اگرچہ اوسیمیئم ٹیٹرآکسائیڈ کو جائز طور پر سائنسی تحقیق میں استعمال کیا جا سکتا ہے لیکن یہ لوگوں کی آنکھوں، پھیپھڑوں اور جلد کے لئے انتہائی خطرناک ہے۔ ذرائع کا خیال ہے کہ دہشت گردی کا یہ منصوبہ برطانیہ اور امریکہ کے خفیہ اداروں کی طرف سے مبینہ دہشت گردوں کے درمیان ہونے والی گفتگو کے پکڑنے کی وجہ سے ناکام ہوا۔ خفیہ اداروں کے اہلکاروں کو ابھی تک اس بات کا یقین نہیں ہے آیا کہ مبینہ دہشت گرد کیمیائی مواد حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے یا نہیں۔ یاد رہے کہ گیارہ مارچ کو میڈرڈ میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد سے برطانیہ میں خفیہ ادارے اور سکیورٹی اہلکار انتہائی چوکسی کی حالت میں ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے میٹروپولیٹن کمشنر سر جان سٹیونز نے کہا تھا کہ لندن میں دہشت گرد حملہ ناگزیر ہے لیکن ہوم سکریٹری نے کہا تھا کہ لندن میں دہشت گردی کے خطرات اتنے سنگین نہیں ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||