دہشت گردی کے خلاف قوانین | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی وزیرِ داخلہ کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں دہشت گرد حملے ناگزیر ہیں۔ڈیوڈ بلنکیٹ دہشت گرد مخالف ممکنہ نئے منصوبے تیار کر رہے ہیں۔وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ وہ اس معملے پر قومی بحث کرانا چاہتے ہیں۔ اسکے علاوہ ہوم سیکیورٹی سروس ایم آئی فائیو کی توسیع کا منصوبہ بھی بنایا جا رہا ہے۔ تاہم اراکین پارلیمان ان موجودہ قوانین پر بحث چاپتے ہیں جنکے تحت دہشت گردی کے شبہ میں غیر ملکیوں کو بغیر کسی مقدمے کے حراست میں لیا جا سکتا ہے ۔ برطانیہ نے گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد دہشت گردی کے خلاف نئے قوانین بنائے تھے لیکن یہ قانون دو ہزار چھ تک کے لئے تھے۔ ڈیوڈ بلینکٹ نے کہا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے جو منصوبے بنائے جا رہے ہیں ان میں حکومت کے اپنے خیالات کی تفصیل نہیں ہوگی بلکہ ان میں یہ دکھایا جا ئے گا کہ دوسرے ممالک اس سلسلے میں کیا کر رہے ہیں اوربرطانوی قوانین کے جائزے کے بعد مرتب کی گئی سفارشات بھی ان میں شامل ہوں گی۔ غالباً اس میں یہ تجویز بھی شامل ہوگی کہ کچھ مقدمات کی سماعت خصوصی طور پر منتخب ججوں کے سامنے بند کمروں میں کی جائے اور جس میں جیوری بھی نہ ہو تاکہ انٹیلی جنس ذرائع کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ مدعاعلیہ کو کچھ گواہیاں سننے سے محروم رکھا جا سکتا ہے او ر اپنا مقدمہ لڑنے کے لئے انہیں خصوصی وکلا کی ضرورت ہوگی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مشتبہ غیر ملکی شدت پسندوں کے لئے کس طرح کے قوانین ہیں اور ڈیوڈ بلنکٹ پارلیمان میں ان اقدامات کا دفاع کریں گے۔ وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ ان تجاویز پر ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ مشتبہ لوگوں کو اگر حملہ کرنے سے پہلے ہی گرفتار کر لیا جائے تو دہشت گردی کی روک تھام کی کوششیں کامیاب ہو سکتی ہیں۔ یہ بات ایک اشارہ سمجھی جا رہی ہے کہ برطانوی اور دووسرے شہریوں کے خلاف صرف انٹیلی جنس رپورٹ کی بنیاد پر کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ جمہوریت کو فروغ دینا چاہتے ہیں اور اپنے ناقدین سے اپیل کی ہے کہ اپنے خیالات ظاہر کریں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||