امیگریشن کے قانون میں تبدیلی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یورپی برداری میں مشرقی یورپ سے تعلق رکھنے والے دس نئے ملکوں کی شمولیت سے پہلے برطانوی حکومت امیگریشن کو مزید سخت بنانے کے لیے نئے اقدامات کا اعلان کرنے والی ہے۔ وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے یورپی برادری کے چند ملکوں کی تقلید کرتے ہوئے امیگریشن کے قوانین کو مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ امیگریشن کے قوانین کو سخت بنانے کے لیے کئے جانے والے اقدامات میں برطانوی ’ویلفیر‘ کے تحت شہریوں کو حاصل سہولیات کے نظام میں تبدیلی کی جائے گی اور نئے آنے والوں کے لیے قواعد کو مزید سخت کر دیا جائے گا۔ برطانوی حکام کا خیال ہے کہ یورپی برادری میں ان دس ملکوں کے شامل ہونے کے ساتھ ہی تقریباً تیرہ ہزار افراد برطانیہ کا رخ کریں گے۔ تاہم کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ برطانیہ آنے والوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو گی۔ نئے اقدامات کا اعلان برطانوی وزیر داخلہ ڈیوڈ بلنکٹ پیر کے روز کسی وقت کریں گے۔ ان اقدامات کا مقصد مزدوری کی عرض سے برطانیہ آنے والے افراد اور سرکاری سہولیت کا فائدہ اٹھانے والوں کے درمیان تفریق کرنا ہے۔ ان اقدامات کے ذریعے سرکاری طور پر ملنے والی ’انکم سپورٹ‘ اور کونسل کی طرف سے ملنے والے گھروں کی سہولیات کے حصول کو مشکل بنادیا جائے گا۔ اس سال مئی میں پولینڈ، سلواکیا، چیک رپبلک، سلوانیا، لتھونیہ ، لیٹویا، ہنگری ، اسٹونیا، مالٹا اور قبرص یورپی برادری میں شامل ہو رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||