BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 13 September, 2005, 17:13 GMT 22:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’اسرائیل کو تسلیم کیا جائے‘

گاڈز پیپلز فیلوشپ آف پاکستان کے رہنما
مسیحیوں کو پاکستانی پاسپورٹ پر اسرائیل کے مقدس مقامات کی زیارت کے لیے خصوصی اجازت نامے جاری کیے جائیں
پاکستان میں کرسچن کمیونیٹی کی ایک جماعت نےحکومت سے مطالبہ کیا ہے
کہ مسیحی قوم کے عظیم ترمذہبی مفاد میں اسرائیل کو تسلیم کرتے ہوئے اس سے باقاعدہ سفارتی، سیاسی اور تجارتی تعلقات قائم کرنے کا اعلان کیا جائے۔

گاڈز پیپلز فیلوشپ آف پاکستان کے رہنما اشرف پی بٹ، یوسف ایم گل، بوعز عرف راجہ نےمنگل کی شام کراچی پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی ایک کروڑ سے زائد مسیحی پاکستانی قوم کا ایک حصہ ہیں ان کے تمام تر مذہبی مقدس مقامات اور زیارتیں سرزمین اسرائیل میں متوقع ہیں۔ پاکستان کے مسیحی قوم کے اس دیرینہ مطالبے پر کسی حکومت نے آج تک کبھی غور نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے مسیحیوں کو پاکستانی پاسپورٹ پر اسرائیلی مملکت میں واقع ان کے مقدس مقامات کی زیارت کے لیے خصوصی اجازت نامے جاری کیے جائیں۔

انہوں نے اسرائیل کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس ضمن میں لچک کا مظاہرہ کیا جائے اور دنیا بھر کے اسرائیلی سفارتخانوں کو خصوصی ہدایات جاری کی جائیں۔

اسرائیل کوتسلیم کرنےکامطالبہ
 اقلیتی رہنماؤں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ پارلیمنٹ میں اس حساس مسئلہ پر کھلے ذہن سے بحث کا آغاز ہونا چاہیے۔

مسیحی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ آرگنائزیشن آف اسلامک کنٹریز کے عرب
ممالک میں سے بتیس نے باقاعدہ اسرائیل سے سیاسی اور تجارتی تعلقات قائم کئے ہیں اسی طرح اقوام متحدہ کی ممبر ممالک میں سے ایک سو اکسٹھ ممالک نے باقاعدہ اسرائیل کو تسلیم کیا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل سے نہ تو پاکستان کی سرحدیں ملتی ہیں اور نہ ہی کوئی دشمنی ہے۔ اس سے بات چیت کے ذریعے فلسطین اور کشمیر مسئلے کے حل میں مدد ہوسکتی ہے حالانکہ فلسطینیوں کی اعلیٰ قیادت نے کشمیر کاز پر کبھی پاکستان کی حمایت نہیں کی۔ اسرائیل سے راوبط کرکے آپس کی غلط فہمیوں کو دور کیا جاسکتاہے۔

اقلیتی رہنماؤں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ پارلیمنٹ میں اس حساس مسئلہ پر کھلے ذہن سے بحث کا آغاز ہونا چاہیے۔ مصر، ترکی اور اردن اسرائیل سے دوستی کی وجہ سے مالا مال ہوچکے ہیں تو پاکستان اس سے تجارت کرکے یہ فائدے حاصل کیوں نہیں کرتا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد