’اسرائیل کو تسلیم کیا جائے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں کرسچن کمیونیٹی کی ایک جماعت نےحکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مسیحی قوم کے عظیم ترمذہبی مفاد میں اسرائیل کو تسلیم کرتے ہوئے اس سے باقاعدہ سفارتی، سیاسی اور تجارتی تعلقات قائم کرنے کا اعلان کیا جائے۔ گاڈز پیپلز فیلوشپ آف پاکستان کے رہنما اشرف پی بٹ، یوسف ایم گل، بوعز عرف راجہ نےمنگل کی شام کراچی پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی ایک کروڑ سے زائد مسیحی پاکستانی قوم کا ایک حصہ ہیں ان کے تمام تر مذہبی مقدس مقامات اور زیارتیں سرزمین اسرائیل میں متوقع ہیں۔ پاکستان کے مسیحی قوم کے اس دیرینہ مطالبے پر کسی حکومت نے آج تک کبھی غور نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے مسیحیوں کو پاکستانی پاسپورٹ پر اسرائیلی مملکت میں واقع ان کے مقدس مقامات کی زیارت کے لیے خصوصی اجازت نامے جاری کیے جائیں۔ انہوں نے اسرائیل کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس ضمن میں لچک کا مظاہرہ کیا جائے اور دنیا بھر کے اسرائیلی سفارتخانوں کو خصوصی ہدایات جاری کی جائیں۔
مسیحی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ آرگنائزیشن آف اسلامک کنٹریز کے عرب انہوں نے کہا کہ اسرائیل سے نہ تو پاکستان کی سرحدیں ملتی ہیں اور نہ ہی کوئی دشمنی ہے۔ اس سے بات چیت کے ذریعے فلسطین اور کشمیر مسئلے کے حل میں مدد ہوسکتی ہے حالانکہ فلسطینیوں کی اعلیٰ قیادت نے کشمیر کاز پر کبھی پاکستان کی حمایت نہیں کی۔ اسرائیل سے راوبط کرکے آپس کی غلط فہمیوں کو دور کیا جاسکتاہے۔ اقلیتی رہنماؤں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ پارلیمنٹ میں اس حساس مسئلہ پر کھلے ذہن سے بحث کا آغاز ہونا چاہیے۔ مصر، ترکی اور اردن اسرائیل سے دوستی کی وجہ سے مالا مال ہوچکے ہیں تو پاکستان اس سے تجارت کرکے یہ فائدے حاصل کیوں نہیں کرتا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||