BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 22 July, 2004, 15:47 GMT 20:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسرائیلی باڑ مسمار کی جائے: سینیٹ

اسرائیلی باڑ
اسرائیل نے پہلے فلسطینی علاقوں پر یہودی آباد کاروں کو بسایا اور با ان کے گرد باڈ تعمیر کر ان علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے
پاکستان کی پارلیمینٹ کے ایوان بالا یعنی سینیٹ نے جمعرات کو اتفاق رائے سے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیلی باڑ مسمار کرنے کے متعلق اقوام متحدہ کی قرارداد پر فوری عمل درآمد کیا جائے۔

سینیٹ کے متفقہ بیان میں اقوام متحدہ کی قرارداد اور عالمی عدالت کے باڑ کے بارے میں فیصلے کا خیر مقدم بھی کیا گیا ہے۔

حزب اختلاف کے سینیٹر رضا ربانی نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل کونسل نے بھاری اکثریت سے اسرائیلی باڑ مسمار کرنے کی قرار داد منظور کی ہے جس کا ایوان کو خیر مقدم کرنا چاہیے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ امریکہ سمیت دیگر ممالک جنہوں نے عالمی عدالت کے فیصلے اور اقوام متحدہ کی قرارداد کی مخالفت کی ہے ان کی مذمت کی جائے۔

حزب اختلاف کے سینیٹر ڈاکٹر اسماعیل بلیدی کا کہنا تھا کہ اسرائیل اقوام متحدہ کی قرار داد پر عمل درآمد نہ کرے تو پاکستان اسرائیل پر اقتصادی پابندیاں لگانے کے متعلق سلامتی کونسل میں معاملہ اٹھائے۔

حکومت کی جانب سے قائد ایوان وسیم سجاد نے حزب اختلاف کی تجویز کی مخالفت نہیں کی البتہ رضا ربانی کے بقول امریکہ اور دیگر کی مذمت کا نکتہ متفقہ ایوان کے بیان سے نکال دیا گیا۔

جس کے بعد افسر صدارت ڈپٹی چیئرمین سینیٹ خلیل الرحمٰن نے کہا کہ ایوان میں اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے لہٰذا ایوان سے متفقہ پیغام جانا چاہیے اور انہوں نے کہا کہ ’ یہ ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ اسرائیلی باڑ کے خلاف عالمی عدالت کے حکم اور اقوام متحدہ کی جنرل کونسل کی قرارداد پر فوری عمل کیا جائے۔

انہوں نے متفقہ بیان میں کہا کہ یہ ایوان اسرائیل کے توسیع پسندی کے عزائم کی مذمت بھی کرتا ہے۔

یاد رہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے بھاری اکثریت سے منظور کی گئی ایک قرارداد میں اسرائیل سے کہا گیا تھا کہ وہ غرب اردن کے فلسطینی علاقوں کے درمیان بنائی جانیوالی اپنی باڑ مسمار کردے۔

اس قرارداد کے حق میں ایک سو پچاس ممالک نے ووٹ دیے جبکہ امریکہ سمیت چھ ملکوں نے اس کی مخالفت کی اور دس ارکان نے ووٹِنگ میں حصہ نہیں لیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد