سینیٹ: یوم سیاہ اور پیار کی شادی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی پارلیمینٹ کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں پیر کے روز جہاں پانچ جولائی کو سیاہ دن کہنے پر حکومت اور حزب اختلاف کے درمیاں ہنگامہ ہوا وہاں پسند کی شادی کرنے پر قتل کی دھمکیوں کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔ پیر کے روز جب اجلاس شروع ہوا تو حزب اختلاف کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما رضا ربانی نے نکتہ اعتراض پر پانچ جون کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دن تاریخ میں یوم سیاہ کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ آج ایک فوجی آمر نے منتخب جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر شب خون مارا تھا۔ اس پر حکومتی سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ اصل میں ایک سیاہ حکومت کا پانچ جولائی کو خاتمہ ہوا تھا۔ اس دوران حکومت کے حامی سینیٹر نثار میمن نے نکتہ اعتراض پر پارلیمینٹ کے باہر پسند کی شادی کرنے پر قتل کے مبینہ خطرے کے خلاف احتجاج کرنے والے جوڑے کا ذکر کیا اور ایوان کو بتایا کہ صوبہ سندھ کے ضلع نوشہرو فیروز سے تعلق رکھنے والے پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کی زندگیوں کو خطرہ ہے حکومت انہیں تحفظ دے۔ جس کے جواب میں وزیر مملکت برائے قانون و انصاف رضا حیات ھراج نے ایوان کو بتایا کہ صوبہ سندھ کی حکوت کو ہدایت کی گئی ہے کہ اس جوڑے کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے ۔ قبل ازیں پینتالیس سالہ غلام مصطفی ٰ اور چوالیس سالہ آمنت جو کہ دونوں سولنگی برادری سے تعلق رکھتے ہیں اور ڈاکٹرز ہیں ، انہوں نے قتل کی دھمکیوں کے خلاف پارلیمینٹ ہاؤس کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ پیار کی شادی کرنے پر ڈر کے مارے پارلیمان کے آگے پناہ مانگنے کے لیے کیے گئے احتجاج کے دوران حکومت اور حزب اختلاف کے سینیٹرز نے ان سے ہمدردی کی اور تحفظ کا یقین بھی دلایا۔ ڈاکٹر غلام مصطفیٰ نے بتایا کہ انہوں نے دو برس قبل پسند سے شادی کی تھی لیکن ان کے سسرال نے ان کے اور ان کے رشتہ داروں کے خلاف جھوٹے مقدمات بنوائے جن میں ڈاکٹر آمنت کو اغوا کرنے کا مقدمہ بھی شامل ہے۔ ڈاکٹر سولنگی کے مطابق وہ پہلے سے ہی شادی شدہ ہیں اوران کے تین بچے بھی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر آمنت سے ان کی دوسری شادی ہے جو کہ انہوں نے پیار سے کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے پیار کیا ہے کوئی گناہ نہیں ۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ان کی جان کو خطرہ ہے اور گزشتہ دوبرس سے وہ گھر سے دور روپوشی کی زندگی کی گزار رہے ہیں ۔ انہوں نے مقدمات ختم کرنے، مخالفین کو گرفتار کرنے اور تحفظ فراہم کرنے کا حکومت سے مطالبہ بھی کیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||