محبت واقعی اندھی ہوتی ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کسی شاعر نے تو صرف یہی کہا تھا ، کون کہتا ہے محبت کی زباں ہوتی ہے۔ یہ حقیقت تو نگاہوں سے عیاں ہوتی ہے، پر سا ئنسدان اب کہتے ہیں کہ مبحت میں صرف زباں ہی نہیں دماغ کا استمعال بھی کچھ کم کم ہی ہوتا ہے۔ دراصل سائسدانوں کو پتہ چلا ہے کہ محبت کے جذبات دماغ کی سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت کو محدود کردیتے ہیں۔ ہوتا یوں ہے کہ جب ہم کسی شخص کے قریب جاتے ہیں تو ہمارا دماغ اس کی شخصیت اور کردار کو جانچنے یا پرکھنے کی ضرورت کا فیصلہ کرتا ہے۔ مگر جب ہم اس شخص کے قریب ہوتے ہیں جس سے محبت ہوتی ہے تو دماغ کی ایسے فیصلے کرنے خصوصًا منفی سرگرمیاں قدرے کم ہوجاتی ہیں۔ یہ صورتحال صرف رومانوی محبت کے لئے ہی نہیں بلکہ ماں کی محبت بھی اسی زمرے میں آتی ہے۔ یونیو رسٹی کالج لندن کی یہ تحقیق ایک سائنسی جریدے میں شائع ہوئی ہے۔اس تحقیق میں بیس نوجوان ماؤں کی جذباتی کیفیت کا اس وقت مشاہدہ کیا گیا جب وہ اپنے بچوں، جان پہچان کے بچوں اور دوستوں کی تصاویر دیکھ رہی تھی۔ تحقیق کاروں نے ان لمحات میں یعنی یہ تصاویر دیکھتے ہوئے ماؤں میں با کل وہی دماغی سرگرمی نوٹ کی جو وہ اس سے پہلے رومانوی جوڑوں کے دماغ میں دیکھ چکے تھے۔ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے۔ سائنسداں کہتے ہیں کہ ان دونوں مشاہدوں میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اپنے پیاروں کے قریب یا ان کا ذکر کرتے ہوئے دماغ کے خوشی اور بشاشت کے احساسات منفی فیصلے کرنے والے حصے کی سرگرمی پر غالب آجاتے ہیں۔ جانوروں کی تحقیق میں بھی ایسے ہی نتائج سامنے آئے ہیں۔ سائنسداں ڈاکٹر اندرے بارٹلس کہتے ہیں کہ اس تحقیق سے ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ انسانی دماغ کی یہ کیفیت مثبت اور منفی جذبات میں ایک توازن قائم کردیتی ہے جو دنیا میں نسل انسانی اور جانورں کی بقاء کے لئے انتہائی اہم ہے۔ البتہ ماؤں اور رومانوی محبت میں ایک فرق ضرور ہے اور وہ یہ کہ رومانوی محبت میں دماغ میں ایک ایسی سرگرمی پیدا ہوتی ہے جو جنسی جذبات کو ابھارتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||