BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 05 September, 2005, 20:32 GMT 01:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستانی پریس: پاک اسرائیل تعلق

News image
’تاریخی‘ ملاقات کے سلسلے میں بہت زیادہ منفی ردِ عمل سامنے نہیں آیا۔
اکتیس اگست کو وزیر خارجہ خورشید قصوری اور ان کے اسرائیلی ہم منصب سلوان شلوم کے درمیان استنبول میں ہونے والی ملاقات پر پاکستان کے قومی اخبارات کا موقف عمومی طور پر حکومتی اقدام کے حق میں ہے۔

تاہم اخبارت نے اسرائیل سے رابطہ اور تعلقات کے ممکنہ قیام کی نزاعی حیثیت کو اجاگر کیا ہے اور اس معاملہ پر پارلیمنٹ میں بحث اور عوام کو اعتماد میں لینے پر زور دیا ہے۔ انگریزی اخباروں نے متحدہ مجلس عمل کی مخالفت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

روزنامہ جنگ اپنے اداریہ (تین ستمبر) میں لکھتا ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے کا مسئلہ بے حد نازک بھی ہے اور جذباتی بھی۔ اخبار کی رائے ہے کہ اس معاملے پر قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اس کے مثبت اور منفی پہلوؤں پر کھلی گفتگو ہونی چاہیے اور ریسرچ کرنے والے اداروں کو اس پر اپنی رائے سے عوام کو آگاہ کرنا چاہیے۔

اخبار کہتا ہے کہ جب تک پارلیمنٹ اور رائے عامہ اس بارے میں کسی نقطے پر متفق نہیں ہو جائیں اس وقت تک اس سلسلے میں کوئی یک طرفہ فیصلہ قوم و ملک پر مسلط کرنے سے گریز کیا جانا چاہیے۔

روزنامہ ڈان نے بھی اپنے ادارتی نوٹ (تین ستمبر) میں اس سے ملتا جلتا موقف اختیار کیا ہے اور کہا ہے کہ حزب اختلاف کے اس موقف میں وزن ہے کہ اسرائیل پر پالیسی میں تبدیلی کرنے سے پہلے سیاسی جماعتوں سے مشاورت کی جانی چاہیے تھی۔ اخبار نے امیر ظاہر کی ہے کہ حکومت پہلی فرصت میں پارلیمنٹ میں اپنا موقف پیش کرے گی اور تمام بڑے فیصلے جمہوری بحث مباحثے سے گزریں گے۔ اخبار کا کہنا ہے کہ فلسطین پر جذبات جنوبی ایشیا میں ایک طویل سیاسی روایت رہے ہیں جن پر ملاؤں کی اجارہ داری قائم نہیں ہونی چاہیے۔

جنگ کے کالم نگار نذیر ناجی نے پاکستان اور اسرائیل کے رابطہ کی حمایت میں لکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف مہم، بھارت کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی پالیسی اور اب اسرائیل کے ساتھ مکالمے کی ابتدا صدر پرویز مشرف کے ایسے اقدامات ہیں جو پاکستان کو ایک محفوظ اور پر امن ملک بننے میں مدد دیں گے اور یہی وہ صورتحال ہوگی جب ہم حقیقی اور مکمل جمہوری نظام کی طرف پیش قدمی کرسکیں گے۔

روزنامہ جنگ کے کالم نگار ارشاد احمد حقانی نے بھی اس ملاقات کے حق میں لکھتے ہوئے اس درست سمت میں اہم اقدام کی عنوان دیا ہے۔ انہوں نے یہودیوں کی سب سے بڑی تنظیم کے اجلاس سے سترہ ستمبر کو صدر مشرف کے خطاب کے فیصلہ کو بھی درست قدم قرار دیا ہے۔ ان کاموقف ہے کہ اس طرح پاکستان نے دنیا کے یہودیوں کی بے پناہ طاقت کو اپنے مفادات اور مقاصد کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کی ایک کامیاب کوشش کی ہے۔

ارشاد حقانی کا کہنا ہے کہ اگر صدر مشرف امریکہ کے مجوزہ دورہ میں اسرائیلی وزیراعظم سے ملاقات کرتے ہیں تو یہ نئی پالیسی کا منطقی نتیجہ ہوگی اور اس پر بھی اعتراض کا جواز نہیں ہوگا۔

روزنامہ نوائے وقت نے تین ستمبر کو اسی موضوع پر اپنے اداریہ میں کہا ہے کہ حکومت پاکستان نے اسرائیل کو ابھی تک تسلیم نہیں کیا مگر یہ ملاقات اس کا پیش خیمہ ہوسکتا ہے۔ اخبار کا کہنا ہے کہ ملک کے عوام اس کڑوی گولی کو نگلنے کے لیے تیار نہیں ہوسکتے۔ اخبار کہتا ہے کہ حکومت عوام کو اعتماد میں لینے کے لیے اقدامات کرے اور ان حقائق سے عوام کو آگاہ کرے جن کی وجہ سے اچانک اس ملاقات کی نوبت پہنچ گئی ہے۔ تاہم اخبار نے اسرائیل سے اس رابطہ اور ممکنہ تعلقات کے قیام کی دو ٹوک مخالفت نہیں کی۔

انگریزی اخبار دی نیوز نے اپنے اداریہ (تین ستمبر) میں لکھا ہے کہ اسرائیل سے پاکستان کے تعلقات کا قیام تو ایک ایسی بات ہے جسے ہر حال میں ہوکر رہنا ہے اور جنرل ضیاالحق کے دور سے اس کا ہونا دکھائی دے رہا تھا۔ اخبار نے حزب اختلاف، خاص طور سے متحدہ مجلس عمل، سے کہا ہے کہ وہ اس معاملہ پر تخریبی مخالفت سے گریز کرے کیونکہ ملک کی امن و امان کی صورتحال ایسی ہے کہ احتجاج کے نتیجہ میں تشدد ہوسکتا ہے اور حزب اختلاف بھی اپنا کوئی مقصد حاصل نہیں کرپائے گی۔

ڈیلی ٹائمز نے جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد کی پاکستان اسرائیل رابطہ کی مخالفت کے موقف پر شدید تنقید کی ہے۔ اخبار نے قاضی حسین احمد کے اس بیان کو ان کی ناقص منطق قرار دیا ہے جس میں قاضی حیسن احمد نے اسرائیل سے رابطہ کو نظریہ پاکستان کے خلاف قرار دیا تھا۔ اخبار کا کہنا ہے کہ اگر نظریہ کو بنیاد بنایا جائے تو پاکستان کو دنیاکے آدھے ملکوں سے اپنے تعلقات ختم کرنا پڑیں گے اور اگر اسی منطق کی پیروی کی جائے تو پاکستان کے امریکہ سے بھی تعلقات کیوں قائم رکھے جائیں جو اسرائیل کا سرپرست ہے اور یہی صورت بھارت سے تعلقات کی بھی ہوگی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد