BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 02 September, 2005, 17:51 GMT 22:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’صدر مشرف سے بات نہیں ہوئی‘
محمود عباس
فلسطینی حکام نے کہا ہے کہ اسرائیل کو مشرقی یروشلم اور غرب اردن بھی خالی کرے
فلسطینی انتظامیہ کے اعلی اہلکاروں نے اس بات کی تردید کی ہے کہ اسرائیل سے وزیر خارجہ کی سطح پر ملاقات سے پہلے پاکستان کے صدر مشرف نے فلسطینی صدر محمود عباس کو اعتماد میں لیا تھا۔

یروشلم سے صحافی ہریندر مشرا نے بی بی سی اردو سروس کو بتایا کہ فلسطینی حکام گزشتہ چند ہفتوں میں پاکستان کے صدر مشرف اور فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس کے درمیان کسی قسم کے رابطے کی خبر کی تردید کر رہے ہیں۔

فلسطینی انتظامیہ کے حکام کا کہنا ہے کہ پرویز مشرف اور محمود عباس کے درمیان مئی میں اسلام آباد میں ملاقات ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس ملاقات میں محمود عباس نے صدر مشرف سے کہا تھا کہ اسرائیل سے کوئی سفارتی روابط صرف اس صورت میں قائم کئے جائیں جب وہ غزہ کے علاوہ غرب اردن اور یروشلم کو بھی خالی کر دے۔

ہریندر مشرا نے کہا کہ فلسطین میں لوگ اسرائیل اور پاکستان کے درمیان رابطے پر بہت برہم ہیں اور وہ دعوے پر بھی مشتعل ہیں کہ محمود عباس اور صدر مشرف کے درمیان اسرائیل اور پاکستان کے درمیان رابطہ سے پہلے بات ہوئی تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد