BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 02 September, 2005, 17:01 GMT 22:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پاکستان نےپیٹھ میں چھراگھونپا ہے‘
پاکستان کے خلاف مظاہرے
مظاہرین نےبیت لحہیا سے جبالیا کے پناہ گزیں کیمپ تک مارچ کیا۔
فلسطین میں شدت پسند تنظیم اسلامی جہاد کے ہزاروں کارکنوں نے جمعہ کو غزہ کے شمالی علاقے میں اسرائیل کےساتھ رابطہ کرنے پر پاکستان کے خلاف زبردست مظاہرہ کیا ہے اور فلسطینی انتظامیہ نے اسرائیل اور پاکستان کے رابطے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

مظاہرین نے پاکستان اور اسرائیل کے درمیان ترکی میں ہونے والی ملاقات کی مذمت کرنے کے لیے بیت لحہیا سے جبالیا کے پناہ گزیں کیمپ تک مارچ کیا۔

اس مظاہرے میں اسرائیلی اور امریکہ جھنڈوں کو نذر آتش بھی کیا گیا اور مظاہرین نے ’دشمن کے ساتھ رابطے نامنظور‘ کے نعرے لگائے اور انتفادہ جاری رکھنے کا عزم کیا۔

اسلامی جہاد کے رہنما محمد الہندی نے فرانسیسی

 اسرائیل کے ساتھ اس طرح کے رابطے اُس وقت تک قائم نہیں کرنے چاہیں جب تک وہ تمام مقبوضہ فلسطینی علاقوں کو خالی نہ کر دے اور فلسطینی مہاجرین کا مسئلہ حل نہ کردے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اس مظاہرے سے پاکستان اور ترکی پر یہ واضح ہوجانا چاہیے کہ ہماری جدوجہد ختم نہیں ہوئی ہے اور غزہ سے اسرائیلی انخلاء فلسطینی علاقوں کی آزادی کے مترادف نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان اور تمام مسلمان ممالک سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اسرائیل سے روابط استوار نہ کریں کیونکہ اسرائیل ابھی بھی فلسطینی علاقوں پر قابض ہے۔

حماس نے بھی اس ملاقات کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ غزہ سے اسرائیلی انخلاء پر اسلامی اور عرب ملک دھوکہ نہ کھائیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ اسرائیل اور کسی بھی اسلامی ملک کے درمیان رابطے کی مذمت کرتے ہیں اور پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس رابطے کو فوری طور پر ختم کر دے۔

حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ خالد مشعل نے کہا ہے کہ پاکستان نے اسرائیل کے ساتھ رابط قائم کرکے فلسطینوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے۔

فلسطین کے نائب وزیر اعظم نبیل شات نے پاکستان اور اسرائیلی وزراء خارجہ کے درمیان ملاقات کے فوراً بعد اپنے رد عمل میں کہا تھا کہ اسرائیل جب تک حقیقی معنوں میں امن کے قیام کے لیے سنجیدہ نہیں ہوتا اس کو ’تحفے‘ نہیں دیے جانے چاہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ اس طرح کے رابطے اُس وقت تک قائم نہیں کرنے چاہیں جب تک وہ تمام مقبوضہ فلسطینی علاقوں کو خالی نہ کر دے اور فلسطینی مہاجرین کا مسئلہ حل نہ کردے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد