اسرائیل اور پاکستان کے وزرائے خارجہ نے ترکی کے شہر استنبول میں پہلے باضابطہ اعلیٰ سطحی مذاکرات کئے ہیں۔ اس پیش رفت پر بی بی سی اردو ڈاٹ کام نے مختلف پاکستانیوں کا رد عمل حاصل کیا ہے۔ محمد عمر ، کراچی
 |  ’یہودی ہمارے خیرخواہ نہیں۔‘ | یہودی ہمارے خیرخواہ نہیں ہیں وہ امریکیوں کے ساتھی ہیں آپ نے دیکھا نہیں کہ عراق میں کتنے لوگ مرگئے ہیں۔ وہ مسلمان تھے اور امریکہ ان کی موت کا ذمہ دار ہے۔ صدر مشرف کے اسرائیلی حکومت اور یہودیوں سے راوبط سے مسلمانوں کو دھچکہ لگے گا۔ مشرف کو اگر تعلقات بڑھانے ہیں تو مسلم ممالک سے بڑھائے۔غلام قادر، لاہور
 |  ’ہمیں بھی دوستی کرنا چاہئیے۔‘ | ہماری اس (اسرائیل) سے دوستی بالواسطہ ہے اور جہاں تک ہمارا اور یہودیوں کا تعلق ہے تو وہ بھی اسلام کو تسلیم کرتے ہیں اور ہم بھی ان کے مذہب کو مانتے ہیں ان سے دوستی کرنی چاہیے اگر عربی ان سے دوستی کر سکتے ہیں۔اردن اور شام ان سے دوستی کر سکتا ہے تو ہمیں بھی ان سے دوستی کر لینی چاہیے۔محمد یوسف، کراچی
 |  ’ہم نے تو پوری مسلم قوم سے ہی منہ موڑ دیا ہے۔‘ |
ہمیں تو ایسا لگتا ہے پاکستان اسرائیل کو بھی تسلیم کرلیگا اور پاسپورٹ پر بھی اسرائیل کے ویزہ لگنے لگیں گے۔انہوں نے کہا کہ بزنس مین یہ تھوڑی دیکھتا ہے کہ سامنے والا یہودی ہے یا عیسائی اسے تو اپنا بزنس کرنا ہے ایسے لوگ اسرائیل جائینگے۔ فلسطینیوں کی کیا بات ہے۔ ہم نے تو پوری مسلم قوم سے ہی منہ موڑ دیا ہے۔ غلام حیدر، لاہور
 |  ’اس نے ہمارے بیت المقدس پر قبضہ کر رکھا ہے۔‘ | اسرائیل سے اس لیے دوستی نہیں ہو سکتی کہ ہم مسلمان ہیں اور وہ یہودی ہیں۔ہمارا ان کا مذہب ایک دوسرے سے نہیں ملتا اور اس لیے بھی دوستی نہیں ہوسکتی کہ اس نے بہت ظلم کیا ہے اس نے ہمارے بیت المقدس پر قبضہ کر رکھا ہے اس نے فلسطینیوں کی تباہی کی صرف اس لیے کہ وہ مسلمان ہیں۔میں اس (دوستی پر) کیا کہہ سکتا ہوں؟ انہوں (پاکستانی حکام) نے تو امریکہ سے بھی دوستی کرلی ہے اور اس کا پہلا دوست تو امریکہ ہے پتہ نہیں کیا کررہے ہیں حالانکہ اللہ نے صاف کہا ہے کہ یہود ونصاریٰ سے دوستی نہ کرو۔منور حسن، جماعت اسلامی، کراچی
 |  ’دامن کو ذرا دیکھ ، ذرا بندِ قبا دیکھ۔۔۔‘ | بنیادی بات یہ ہے کہ اسرائیل جب تک سلامتی کونسل کی قرارداد کے مطابق 1968 کی پوزیشن پر واپس نہیں جاتا اس کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی کوشش کرنا درست نہیں ہے۔ عالمی عدالت کے اصرار کے باوجود اسرائیل مسلسل فلسطینی علاقوں کے گرد دیوار کی تعمیر بھی کررہا ہے تو ایسے حالات میں اس سے تعلقات قائم کرنا بالکل غلط ہے۔ جہاں تک غزہ سے یہودی آبادکاروں کے انخلاء کا تعلق ہے تو عالمی میڈیا اس پر بہت رقت آمیز مناظر تو دکھا رہا ہے لیکن یہ بات لوگ بھول رہے ہیں کہ چالیس سال قبل یہاں سے فلسطینیوں کو نکالا گیا تھا۔ اور جہاں تک پاکستان کی طرف سے عرب دنیا میں کوئی کردار ادا کرنے کا تعلق ہے تو میں یہی کہوں گا کہ دامن کو ذرا دیکھ ، ذرا بندِ قبا دیکھ۔۔۔ یہ کشمیر کے بارے میں تو کچھ کر نہیں پائے تو عرب دنیا میں کیا کر پائیں گے۔افراسیاب خٹک، عوامی نیشنل پارٹی، پشاور
 |  ’امن کے عمل سے باہر رہنا ممکن نہیں۔‘ | یہ مسلہ پچھلے دو سال سے چل رہا ہے۔ جنرل مشرف نے اس معاملے پر پاکستانی عوام کی رائے جاننے اور پھر فیصلہ کرنے کی بات بھی کی تھی۔ ہمارے ملک میں اس معاملے پر مختلف جماعتوں کے الگ الگ نظریات ہیں لیکن ایک بات طے ہے کہ پوری دنیا میں امن کا عمل بڑھ رہا ہے اور عرب ممالک کے بھی اس مسلے پر الگ الگ نکتہ نظر ہے۔ میرے خیال میں پاکستان کو اپنا مفاد سامنے رکھتے ہوئے بات چیت تو کرنا ہی چاہئیے کیونکہ جن معروضی حالات میں ہم رہ رہے ہیں اس میں جذبات اور خواہشات کو الگ رکھ کر زمینی حقائق کو دیکھنا چاہئیے۔ پاکستان کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ پوری دنیا میں جاری امن کے عمل سے باہر رہ سکے۔ارشاد احمد، لاہور
 |  ’یہ اچھا قدم ہے۔‘ |
یہ اچھی بات ہے ملاقات ہونی چاہیے اس میں کوئی برائی نہیں ہےاور اچھائی یہ ہے کہ فلسطین آزاد ہوگا اور سب کے آپس میں تعلقات بہتر ہونگے۔(ان کے قریب ہی کھڑے ایک نوجوان کا کہنا تھا) اچھائی یہ ہے کہ امریکہ اصل میں اسرائیل کے ساتھ ہے اور اس نے وہی کرنا ہوتا ہے جو اسرائیل کہتا ہے اس لیے اگر دوستی نہ ہوئی تو پاکستان کا بھی وہی (حشر) ہوسکتا ہے جو عراق کا ہواہے۔ عامر خان، کراچی
 |  ’یہود و نصار ہمارے دشمن ہیں۔‘ |
صدر مشرف کے مسلمان ہونے پر ہی شک ہے۔ وہ سب کچھ امریکی دباؤ کے تحت کر رہے ہیں۔ ان سے کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا یہود و نصار ہمارے دشمن ہیں۔ ان سے نہ دنیاوی اور نہ دینوی فائدہ ہوسکتا ہے۔ |