’ہمیں ویزے نہیں عزت چاہیے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عورتوں اور بچوں پر بڑھتے ہوئے تشدد کے خلاف حقوق نسواں کی تنظیموں کی جانب سے بدھ کے روز کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ اس مظاہرے میں سندھ کے شہروں کے علاوہ دیہات کی خواتین نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔ مظاہرے کے بعد مارچ کیا گیا۔ جس میں خواتین نے ’ویزے نہیں تحفظ چاہیے‘، ’صدر مشرف ہائے ہائے‘، ’ ڈاکٹر شازیہ ہم تمہارے ساتھ ہیں‘ کے نعرے لگائے۔ اس سے قبل مظاہرے میں شامل ٹھٹہ کی ایک عورت شبانہ نے بتایا کہ اس کی آٹھ سالہ بیٹی لبنیٰ کو اغوا کرنے کے بعد ریپ کیا گیا، بعد میں گردن اور ٹانگیں توڑ کر لاش پھینک دی گئی ۔ اس کے مطابق اب تک قاتل گرفتار نہیں ہوسکے ہیں۔ اس نے آنسو بہاتے ہوئے کہا کہ میری معصوم بیٹی کو کیا معلوم تھا کہ اس دنیا میں درندے بھی ہوتے ہیں۔ سسرال اور شوہر کے تشدد کی شکار ہونے والی ٹنڈو جام کی رہائشی امبرین نے بتایا کہ اس کے سسرال والوں اور شوہر نے اس پر تشدد کیا اور اس کے جسم کو جلا ڈالا۔ بعد میں بیٹے سمیت گھر سے نکال دیا۔ نوشہرو فیروز کی ایک خاتون نے بتایا کہ اس کا رشتہ نہ ملنے پر اس کا ریپ کیا گیا مگر پولیس نے ملزمان کو ابھی تک گرفتار نہیں کیا۔ جبکہ ملزمان نے ان کے گھر کو بھی جلا ڈالا ہے۔ بدین کی رہائشی عورت نے بتایا کہ اس کی چھ سالہ بیٹی کو گزشتہ ماہ قتل کر دیا گیا مگر پولیس ملزمان کو گرفتار نہیں کرسکی ہے۔ قمبر شہر کی رہائشی ایک بزرگ عورت نے بتایا کہ زمین کے تنازعہ پر اس کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اس کی ٹانگیں توڑ دی گئیں اور سر کے بل مونڈے گئے۔ احتجاج کے دوران شیما کرمانی اور ان کے گروپ نے جنسی تشدد پر ایک تنقیدی کھیل پیش کیا۔ مظاہرے میں ایک پٹیشن پر مظاہرین کے دستخط لئے گئے جس میں صدر مشرف سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے ریمارکس پر خواتین سے معافی مانگیں اور ملک میں خواتین پر بڑھتے ہوئے تشدد کے سدباب کے لئے اقدمات کیے جائیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||