’عورتوں پر تشدد، باعثِ شرمندگی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ خواتین پر تشدد کے بارے میں پاکستان کا ریکارڈ اچھا نہیں ہے اور یہ باعث شرمندگی بھی ہے لیکن ان کے مطابق خواتین پر تشدد پوری دنیا کا مسئلہ ہے اور پاکستان کو تنہا تنقید کا نشانہ نہیں بنایا جاسکتا۔ یہ بات انہوں نے بدھ کو حکومت کے زیرانتظام خواتین پر تشدد کے عنوان سے بلائی گئی دو روزہ کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ فرانس میں خواتین کے ساتھ زیادتیوں کے ہر سال پچیس ہزار واقعات ہوتے ہیں بھارت سمیت دنیا کے دیگر ممالک میں بھی ایسے زیادہ واقعات ہوتے ہیں۔ لیکن صدر نے غیر سرکاری اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو خبرادر کیا کہ وہ صرف پاکستان کو تنقید کا نشانہ نہ بنائیں۔ صدر نے کہا کہ بعض مفاد پرست عناصر خواتین پر تشدد کے متعلق پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے اسے دنیا میں ’پوسٹر کیس، بنا رہے ہیں۔ انہوں نے خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کو آگے آنے کی دعوت دی اور کہا کہ وہ ان کے ساتھ بات کرنے کو تیار ہیں تاکہ پاکستان سے خواتین پر تشدد اور باالخصوص خاندان کی غیرت کے نام پر انہیں قتل کرنے جیسی لعنت کا خاتمہ کیا جاسکے۔ کانفرنس میں مختاراں مائی سمیت جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی بعض خواتین بھی موجود تھیں اور صدر نے مختاراں مائی کو مخاطب ہوکر کہا کہ انہیں انصاف دلانے کے لیے حکومت نے کئی اقدامات کیے ہیں۔ مختاراں مائی کو کچھ عرصہ قبل امریکہ جانے سے حکومت نے روک دیا تھا لیکن آج صدر نے انہیں کہا کہ وہ آزاد ہیں اور جہاں جانا چاہیں جاسکتیں ہیں۔ تاہم صدر نے بلوچستان کے علاقے سوئی میں زیادتی کا شکار ہونے والی شازیہ خالد پر تنقید کی اور کہا کہ وہ اپنی مرضی سے باہر گئیں لیکن اب وہ باہر جاکر پاکستان کو بدنام کر رہی ہیں جس پر انہیں دکھ ہوا ہے۔ صدر نے واضح کیا کہ وہ پاکستان کو دنیا میں کسی کو بدنام کرنے کی اجازت نہیں دیں گے اور ہرجگہ اس کا بھرپور دفاع کریں گے۔ مختاراں مائی جو پہلی صف میں بیٹھیں تھیں انہوں نے بعد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکمران جو کہہ رہے ہیں اس پر عمل کریں تو فیصل آباد اور راولپنڈی جیسے واقعات نہیں ہوتے۔ واضح رہے کہ فیصل آباد پولیس پر ایک خاتون سونیہ ناز نے جنسی تشدد کا الزام عائد کیا جبکہ راولپنڈی میں بھی ایک خاتون عابدہ یوسف کے ساتھ پولیس اہلکاروں کی زیادتی کا واقعہ ہوا ہے۔ خواتین کی ترقی کی وزارت کے بارے میں وزیراعظم کی مشیر نیلو فر بختیار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس دو روزہ بین العلاقائی کانفرنس میں چھبیس ممالک سے ایک سو کے قریب مندوب شریک ہیں۔ ان کے مطابق شرکاء میں سعودی عرب، امریکہ، کینیڈا، جرمنی، بھارت اور انڈونیشیا سمیت دیگر ممالک کے وفود بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے بلائی گئی اس کانفرنس کا بنیادی مقصد دنیا میں خواتین کے خلاف ہونے والے تشدد کی نوعیت کی نشاندہی کرنا اور اسے روکنے کے لیے قابل عمل اقدامات تجویز کرنا ہے۔ تاکہ ان کے مطابق خواتین پر تشدد کو روکا جاسکے۔ اس کانفرنس میں انسانی حقوق کے کمیشن اور عورت فاونڈیشن سمیت زیادہ تر خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کو دعوت دی گئی تھی۔ لیکن عورت فاؤنڈیشن کا اپنا پروگرام بھی بیک وقت ایک اور ہوٹل میں جاری رہا۔ تاہم کسی تنظیم کی جانب سے تاحال بائیکاٹ کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔ وزیراعظم کی مشیر نیلوفر بختیار نے کہا کہ انہوں نے پاکستان میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تمام سرکردہ تنظیموں کو دعوت دی تھی اور ایک سو کے لگ بھگ ملک بھر سے ان تنظیموں کی نمائندہ خواتین اس کانفرنس میں شریک ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ہر سال غیرت کے نام پر سینکڑوں خواتین کو قتل کیا جاتا ہے جبکہ گھریلو تشدد سمیت خواتین پر ناکام عاشقوں کی جانب سے تیزاب پھینکنے کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اس بارے میں وزیراعظم کی مشیر سے جب پوچھا تو ان کی رائے تھی کہ صدر مشرف کے دور میں میڈیا کو مکمل آزادی ہے اور ایسے واقعات کو رپورٹ کرنے پر ماضی کی حکومتوں کی طرح پابندی نہیں ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ صدر کی جانب سے خواتین کو انصاف دینے کی وجہ سے زیادتیوں کا شکار ہونی والی خواتین اب اپنا مقدمہ تھانوں اور میڈیا میں لاتی ہیں۔ کانفرنس میں وقفے کے دوران جب نیلوفر بختیار سے بات ہورہی تھی تو راولپنڈی سے تعلق رکھنے والی زیادتی کا شکار ایک لڑکی نے اپنا واقعہ بیان کرنا چاہا۔ اس پر مشیر نے انہیں کہا کہ یہ عالمی میڈیا ہے اور آپ کچھ بھی بولنے میں آزاد ہیں لیکن پاکستان کی عزت کا خیال رکھنا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||