پولیس پر جنسی زیادتی کا مقدمہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے شہر راولپنڈی میں ایک خاتون کے ساتھ مبینہ اجتماعی جنسی زیادتی کے الزام میں چار پولیس اہلکاروں کو نوکری سے معطل کیے جانے کے بعد ان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ ملزمان میں سے ایک کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ تین پولیس اہلکار ابھی تک مفرور ہیں۔ راولپنڈی کے ڈسٹرکٹ پولیس افسر سعود عزیز نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایک پولیس اے ایس آئی الیاس کلیار کو عابدہ نامی خاتون کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے جبکہ اس واقعے میں ملوث تین پولیس کانسٹیبل ابھی تک پکڑے نہیں جا سکے ہیں۔ ڈی پی او کے مطابق عابدہ نامی خاتون نے پیر کو ڈی پی او آفس میں بذات خود آ کر درخواست دی تھی کہ چار ستمبر کو چار پولیس اہلکاروں الیاس،نوید،بلال اور صادق نے ڈھوک چوہدریاں میں واقع ان کے گھر میں ان کے خاوند اور چچا کی موجودگی میں ان کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی۔ پولیس کے مطابق ان خاتون کا میڈیکل ٹیسٹ کروا لیا گیا ہے جس کی رپورٹ آج متوقع ہے۔ عابدہ یوسف کے مطابق پولیس اہلکار ان کے شوہر کو کچھ عرصہ قبل گرفتار کر کے لے گئے تھے اور ان کی رہائی کے بدلے ایک لاکھ روپے رشوت طلب کی تھی۔ عابدہ کے مطابق انہوں نے پولیس والوں کو تیس ہزار روپے ادا کیے تھے جس کے بعد ان کے شوہر کو چھوڑ دیا گیا تھا۔ تاہم عابدہ کے مطابق ان پولیس افسران نے ان کے شوہر کی رہائی کے بعد چار ستمبر کو ان کے گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کی۔ یہ کیس ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فیصل آباد سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون سونیا ناز کے ساتھ پولیس کی مبینہ جنسی زیادتی کا کیس پاکستان میں گذشتہ ایک ہفتے سے اخبارات کی سرخیوں میں شائع ہو رہا ہے اور وزیر اعظم شوکت عزیز اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار چوہدری نے اس واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||