جنسی زیادتی کا الزام، افسر معطل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت پنجاب نے سونیا ناز زیادتی کیس میں فیصل آباد کے اس سپرنٹنڈنٹ پولیس کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے جن پر الزام ہے کہ ان کے ایما پر ایک شادی شدہ خاتون کو ایک دوسرے پولیس افسر نے زیادتی کا نشانہ بنایا۔ وزیر اعلی پنجاب نے اس معاملے کی عدالتی تحقیقات کا حکم بھی دیا ہے۔ فصیل آباد پولیس کے سپرنٹنڈنٹ نے اپنے اوپر عائد الزامات کی تردید کی ہے۔ یہ خاتون پہلی بار تقریبادو مہینے پہلے اس وقت ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز بنیں تھیں جب وہ اپنے گرفتار شوہر کی رہائی اور پولیس کے رویے کی شکایت لیکر قومی اسمبلی کے اندر جا پہنچی تھیں۔ حکام نے ان کی مدد کرنے کی بجائے ان کی اس حرکت کو سیکیورٹی کے منافی قرار دیکر انہیں فیصل آباد پولیس کےحوالے کر دیا تھا۔ دو بچوں کی ماں سونیا ناز نے مقامی نجی ٹی وی کو ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ایک مہینے تفیتش کے بعد انہیں چھوڑا گیا اوردو دن بعد دوبارہ پکڑ کر پندرہ روز تک ایک نجی مکان میں رکھا گیا جہاں انہیں مبینہ طور پر ایک پولیس اہلکار زیادتی کا نشانہ بناتا رہا۔ ذرائع ابلاغ میں ان سے زیادتی کا چرچا ہونے کے بعد اس معاملے کی باز گشت قومی اسمبلی میں بھی سنی گئی اور وزیر اعظم شوکت عزیز نے پولیس افسروں کے خلاف تادیبی کارروائی کے احکامات جاری کیے۔ تادیبی کارروائی کا سامنا کرنے والے ایس پی خالد عبداللہ نے سونیا کی طرف سے لگائے گئے الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ان کا شوہر گاڑیوں کے کاغذات کے جعلسازی کے ایک سے زائد مقدمات میں ملوث ہیں اور پولیس حراست سے فرار ہوچکے ہیں۔ سونیا ناز نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ پولیس نے ان کے شوہر کو خود غائب کیاہے۔ بدھ کے روز پاکستان کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ نے بھی اس معاملے کا ازخود نوٹس لیا ہے اور چیف سیکرٹری پنجاب اور آئی جی پنجاب کوہدایت دی ہے کہ وہ دس روز کے اندر اس واقعے کی تحقیقات کرکے عدالت کو تفصیلات فراہم کرے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||