BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 31 August, 2005, 17:16 GMT 22:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جنسی زیادتی کا الزام، افسر معطل

فائل فوٹو
سپریم کورٹ پہلے ہی اس معاملے کا ازخود نوٹس لے چکی ہے۔
حکومت پنجاب نے سونیا ناز زیادتی کیس میں فیصل آباد کے اس سپرنٹنڈنٹ پولیس کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے جن پر الزام ہے کہ ان کے ایما پر ایک شادی شدہ خاتون کو ایک دوسرے پولیس افسر نے زیادتی کا نشانہ بنایا۔

وزیر اعلی پنجاب نے اس معاملے کی عدالتی تحقیقات کا حکم بھی دیا ہے۔

فصیل آباد پولیس کے سپرنٹنڈنٹ نے اپنے اوپر عائد الزامات کی تردید کی ہے۔
فیصل آباد کی ایک خاتون سونیا ناز نے کہا ہے کہ ایک پولیس اہلکار نے انہیں پندرہ روز تک حبس بے جا میں رکھ کر زیادتی کا نشانہ بنایا خاتون کا کہنا کہ پولیس اہلکار نے ان کے ساتھ یہ سلوک اپنے ایک آفیسرکے کہنے پر کیا تھا جو انہیں پولیس کے خلاف شکائت کرنے کی سزادینا چاہتے تھا۔

یہ خاتون پہلی بار تقریبادو مہینے پہلے اس وقت ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز بنیں تھیں جب وہ اپنے گرفتار شوہر کی رہائی اور پولیس کے رویے کی شکایت لیکر قومی اسمبلی کے اندر جا پہنچی تھیں۔

حکام نے ان کی مدد کرنے کی بجائے ان کی اس حرکت کو سیکیورٹی کے منافی قرار دیکر انہیں فیصل آباد پولیس کےحوالے کر دیا تھا۔

دو بچوں کی ماں سونیا ناز نے مقامی نجی ٹی وی کو ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ایک مہینے تفیتش کے بعد انہیں چھوڑا گیا اوردو دن بعد دوبارہ پکڑ کر پندرہ روز تک ایک نجی مکان میں رکھا گیا جہاں انہیں مبینہ طور پر ایک پولیس اہلکار زیادتی کا نشانہ بناتا رہا۔

ذرائع ابلاغ میں ان سے زیادتی کا چرچا ہونے کے بعد اس معاملے کی باز گشت قومی اسمبلی میں بھی سنی گئی اور وزیر اعظم شوکت عزیز نے پولیس افسروں کے خلاف تادیبی کارروائی کے احکامات جاری کیے۔

تادیبی کارروائی کا سامنا کرنے والے ایس پی خالد عبداللہ نے سونیا کی طرف سے لگائے گئے الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ان کا شوہر گاڑیوں کے کاغذات کے جعلسازی کے ایک سے زائد مقدمات میں ملوث ہیں اور پولیس حراست سے فرار ہوچکے ہیں۔

سونیا ناز نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ پولیس نے ان کے شوہر کو خود غائب کیاہے۔
پنجاب کے انسپکٹر جنرل پولیس نےفیصل آباد کے ایس پی انوسٹی ایشن خالد عبداللہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے عہدے کا چارج چھوڑ دیں جبکہ تھانہ جڑانوالہ کے انچارج انسپکٹر جمشید چشتی کو پہلے ہی معطل کیا جاچکاہے۔ پنجاب پولیس کی ایک اعلی سطحی انکوائری کمیٹی نے تحقیقات کا آغاز کر دیاہے۔

بدھ کے روز پاکستان کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ نے بھی اس معاملے کا ازخود نوٹس لیا ہے اور چیف سیکرٹری پنجاب اور آئی جی پنجاب کوہدایت دی ہے کہ وہ دس روز کے اندر اس واقعے کی تحقیقات کرکے عدالت کو تفصیلات فراہم کرے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد