فوجی ریپ میں ملوث نہیں: وزیر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں حکام کا کہنا کہ تحقیقات میں یہ ثابت نہیں ہوا ہے کہ پاکستان کی فوج کے جوان کشمیری خاتون کی مبینہ عصمت دری کے واقعہ میں ملوث ہیں۔ پولیس نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے وادی نیلم میں گزشتہ ماہ میں تین پاکستانی فوجیوں کے خلاف اس وادی کی ایک خاتون کی اجتماعی عصمت دری کی رپورٹ درج کی تھی جس پر پاکستان کے فوجی حکام نے ان الزامات کی تحقیقات کے لئے مقامی سطح پر کورٹ آف انکوائری قائم کی تھی۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں حکام کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوجیوں پر وادی نیلم کی ایک طلاق یافتہ خاتون کی عصمت دری کے الزام کی تحقیقات کے لئے ایک مقامی فوجی کمانڈر لیفٹنٹ کرنل جاوید اقبال کی سربراہی میں قائم فوجی کورٹ آف انکوائری نے پاکستانی فوجیوں کو اس واقعہ میں ملوث نہیں پایا۔ وادی نیلم کے صدر مقام اٹھمقام میں 26 جولائی کو پولیس نے پاکستان کی فوج کے تین جوانوں کے خلاف ایک خاتون کی اجمتماعی عصمت دری کی رپورٹ درج کی تھی۔ اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ وادی نیلم کے پالڑی گاؤں کی ایک خاتون کو تین پاکستانی فوجیوں نے پندرہ جولائی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا جب وہ ایک چھوٹی بچی کے ہمراہ جنگل میں جلانے کی لکڑی اکٹھی کر رہی تھی ۔ لیکن اس رپوٹ میں جو خاتون کے بہنوئی نے مبینہ واقعے کے گیارہ دن بعد درج کرائی تھی میں ان فوجیوں کو نامزد نہیں کیا تھا البتہ یہ کہا تھا کہ ان کا تعلق مجاہد بٹالین سے ہے ۔ اس واقعہ پر وادی نیلم اور کشمیر کے کچھ علاقوں میں مظاہرے بھی ہوئے ۔مقدمہ درج ہونے کے بعد اس واقعہ کی تحقیقات کے لئے وادی نیلم میں مقامی سطح پر فوج نے لیفٹنٹ کرنل جاوید اقبال کی سربراہی میں کورٹ آف انکوائری قائم کیا۔ اس کورٹ کا انکوائری میں فوجی حکام کے علاوہ ضلع وادی نیلم کے دو سول افسر بطور ممبر شامل تھے۔ حکام کہا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران علاقے کے معززین کے موجودگی میں فوجیوں کی شناختی پریڈ کرائی گئی لیکن مبینہ زیادتی کی شکار ہونے والی خاتون کسی کو پہچان نہیں پائی اور اس واقعہ کی واحد گواہ جو ایک چھوٹی بچی ہے بھی کسی کی نشاندہی نہیں کر سکی۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر سیاحت مفتی منصورالرحمان نے کہا کہ تعقیقات کے دوران پاکستان کی فوج کے اہلکاروں پر الزام ثابت نہیں ہوا۔ ان کا کہنا ہے کہ پولیس نے بھی اپنے طور پر تحقیقات کی انھوں نے بھی پاکستانی فوجیوں کو اس مبینہ زیادتی کے واقعہ میں ملوث نہیں پایا۔ انھوں نے کہا کہ مبینہ طور پر زیادتی کا شکار ہونے والی خاتون اور اس کے خاندان والے تحقیقات کے نتیجے پر مطمئن ہیں اور یہ کہ ان پر کسی طرح کا کوئی دباؤ نہ تھا اور نہ ہی ہے ۔ منصورالرحمان جنکا تعلق بھی وادی نیلم سے ہی ہے کا کہنا تھا کہ تعقیقات کھلے عام، شفاف اور منصفانہ طریقے سے علاقے کے معززین کے سامنے ہوئی اور اس لئے تحقیقات پر کسی طرح کے شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ اسی دوران خاتون کے بہنوئی نے وادی نیلم کے ڈپٹی کمشنر کو ایک تازہ درخواست دی ہے جس میں انھوں نے کہا کہ وہ مقدمے پر مزید کاروائی یا تفتیش کے خواہاں نہیں ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||