فوجیوں پر سندھ پولیس کا مقدمہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پولیس کی رپورٹ کے مطابق اس نے جمعہ کی شام جامشورہ ٹول پلازہ پر ڈسٹرکٹ سیشن جج محمد اسحاق میمن کو یرغمال بنانے اور ڈسٹرکٹ پولیس افسر سکندر مگسی کے دو گنمیوں سے ان کی رائفل چھیننے کے الزام میں ڈیوٹی پر موجود فوج کے لانس نائیک سمیت چار جوانوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پولیس نے بتایا ہے کہ ڈسٹرکٹ سیشن جج، جو ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر بھی ہیں، تھانہ بولا خان سے پولنگ اسٹیشنوں کا معائنہ کر کے واپس کوٹری آ رہے تھے کہ ٹول پلازہ پر ٹول ٹیکس جمع کرنے والے فوجی وردی میں ملبوس اہلکاروں نے ان کی سرکاری گاڑی کو روک لیا اور ٹیکس کی ادائیگی پر اصرار کیا۔ کار کا ایک طرف کا ٹول ٹیکس پندرہ پاکستانی روپے وصول کیا جاتا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جج صاحب نے اپنی شناخت بھی کرائی لیکن وہ لوگ ٹیکس وصول کرنے پر مصر رہے۔ جس پر ڈسٹرکٹ سیشن جج نے ڈسٹرکٹ پولیس افسر کو طلب کر لیا۔ اس کے بعد پولیس اور فوجی اس سے قبل ایک دوسرے کے ساتھ گھتم گتھا ہوتے، میجر راشد رفعت اور ڈسٹرکٹ سیشن جج نے صورتحال کو مزید خراب ہونے سے بچایا۔ جس کے بعد ڈسٹرکٹ پولیس افسر نے تھانے آکر اپنے اے ایس آئی غلام عباس کو فریادی بنا کر تعزیرات پاکستان کی مختلف دفعات کے تحت جن میں یرغمال بنانے کا الزام بھی شامل ہے، چار فوجیوں کے خلاف پرچہ درج کرا دیا ۔ ٹول پلازہ پر متعین ایک فوجی اہلکار یٰسین کا کہنا ہے کہ پولیس نے ان کے ساتھیوں کی ڈی پی او کی موجودگی میں بےعزتی کی اور انہیں گرفتار کرنے کی کوشش کی۔ یہاں اکثر شاہراہوں پر فوج کے ذیلی ادارہ ایف ڈبلیو او یعنی فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کو ٹول ٹیکس وصول کرنے کا اختیار ٹھیکے کے ذریعے حاصل ہے اور لوگوں کو شکایت ہے کہ یہ لوگ ہر کس و ناکس کی دھڑلے سے بے عزتی کرتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||