BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 09 July, 2005, 10:22 GMT 15:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فوج لگانے سے مت ہچکچائیں: کمشنر

الیکشن کمشنر عبد الحمید ڈوگر
چیف الیکشن کمشنر عبد الحمید ڈوگر نے بلدیاتی انتخابات میں فوج کو تعینات کرنے کی حمایت کی ہے۔
پاکستان کے چیف الیکشن کمشنر عبدالحمید ڈوگر نے پنجاب حکومت سے کہا ہے کہ مقامی انتخابات کے موقع پر حکومت حساس مقامات پر فوج بلانے اور اسے تعینات کرنے سے مت ہچکچائے۔انہوں نے حکومت کو یہ ہدایت بھی کہ پولنگ سے پہلے فوج کاگشت کرایا جائے۔

چیف الیکشن کمشنر نے لاہور میں پنجاب کے چیف سیکریٹری کامران رسول ، انسپکٹر جنرل آف پولیس میجر (ر) ضیاالحسن اور دوسرے اعلی سرکاری افسروں کے ساتھ میڈیا کی موجودگی میں اجلاس کیا اور ہدایات جاری کیں۔

چیف الیکشن کمشنر نے حساس جگہوں پر فوج تعینات کرنے، انتخابات کو غیر جماعتی بنیادوں پر کرانے کے قانون پر سختی سے عمل درآمد کرانے، سرکاری افسروں کی تعیناتی اور تبادلوں پر پابندی پر عمل کرنے کی ہدایت کیں اور کہا کہ پیر کے روز تک الیکشن کمیشن ضابطہ اخلاق جاری کردے گا۔

ایک سوال کے جواب میں چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ یہ ضابطہء اخلاق سب کے لیے ہوگا جس میں صدر مملکت اور وزیراعظم بھی شامل ہیں۔ جب اُن سے پوچھا گیا کہ یہ تاثر ہے کہ صدر اور وزیراعظم سرکاری پارٹی کی انتخابی مہم چلارہے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ضابطہ اخلاق آنے کا انتظار کریں۔

جب ان سے کہا گیا کہ وزراء اور دوسرے سرکاری عہدیداروں کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی گئی ہے جس پر حزب اختلاف نے اعتراض کیا ہے کہ یہ دھاندلی کے مترادف ہے تو چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ قانون میں اس کی اجازت ہے جسے تبدیل کرنا حکومت کا کام ہے لیکن وہ ضابطہ اخلاق میں یہ طے کریں گے کہ یہ لوگ کن قواعد کے تحت انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں۔

پنجاب کے انسپکٹر جنرل ضیاالحسن نے الیکشن کمشنر کو بتایا کہ انہوں نے صوبہ کے ڈی آئی جی حضرات کا اجلاس بلایا ہے لیکن ابھی تک حساس پولنگ اسٹیشنوں کی فہرست کو حتمی شکل نہیں دی گئی۔

آئی جی نے یہ بھی کہا کہ انتخابات کے موقع پر پولیس ہی پولنگ اسٹیشنوں پرتعینات کی جائے گی اور فوج انتظامیہ کی مدد کے لیے تیار رہے گی۔ چیف سیکرٹری پنجاب نے کہا کہ ہماری پالیسی یہ ہے کہ فوج انتظامیہ کی مدد کے لیے تیار رہے لیکن سامنے نہ آئے۔

اس پر چیف الیکشن کمشنر نے تین چار بار یہ بات کہی کہ اگر ضرورت پڑے تو حساس مقامات پر فوج کو تعینات کرنے سے مت ہچکچائیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پولنگ سے چوبیس گھنٹے پہلے فوج کا علاقہ میں گشت کروائیں تاکہ کسی بدامنی کے خطرہ کو کم سے کم کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ پولنگ سے دو تین روز پہلے فوج ان مقامات پر پہنچ جانی چاہیے۔

چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ دنیا ہمارے مقامی انتخابات دیکھ رہی ہے اور اگر ہم انہیں منصفانہ طور پر شفاف طریقے سے کرانے میں کامیاب ہوگئے تو اس سے الیکشن کمیشن اور ملک کی ساکھ میں اضافہ ہوگا۔

چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ یورپی یونین، سارک ممالک، دولت مشترکہ کے نمائندوں اور غیر ملکی صحافیوں کو انتخابات دیکھنے کے لیے دعوت دی جائے گی اور حکومت کو انہیں تحفظ فراہم کرنا ہوگا۔

عبدالحمید ڈوگر نے زور دے کر کہا کہ یہ انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر ہورہے ہیں اور اس قانون پر عمل درآمد کرانا لازمی ہے تاہم یہ اس مشق کا سب سے مشکل کام ہے۔

اس پر چیف سیکرٹری پنجاب کامران رسول نے کہا کہ اس قانون پر لفظی طور پر تو عمل درآمد کرایا جاسکتا ہے لیکن اس کی روح پر عمل کرانا مشکل ہے۔

اس پر چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ کسی سیاسی جماعت کا رکن انتخابات میں حصہ لے سکتا ہے لیکن جب وہ امیدوار بن جائے تو اسے بظاہر یا خفیہ طور پر کسی سیاسی جماعت کی حمایت حاصل نہیں ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ہم امیدواروں کو اجازت نہیں دیں گے کہ وہ سیاسی جماعت سے وابستگی ظاہر کرنے کے لیے کوئی نشانی استعمال کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم اس بات میں ناکام ہوگئے تو پورے انتخابات کی ساکھ متاثر ہوگی۔

چیف سیکرٹری نے کہا کہ الیکشن کمشن کے حکم کے مطابق صوبہ میں تیس جون کو انتخابی شیڈول آنے کے بعد سے نئی تقرریوں اور تبادلوں پر پابندی لگادی گئی ہے اور اس تاریخ سے پہلے جن تبادلوں پر تیس جون تک عمل نہیں ہوا ان پر بھی دو ماہ کے لیے عمل درآمد روک دیا گیا ہے۔

تاہم چیف سیکرٹری نے چیف الیکشن کمشنر سے کہا کہ بعض بہت ضروری تبادلوں کی اجازت دی جائے اور اس کے لیے طریقہ کار وضح کیا جائے ۔چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ایسی صورت میں وہ انہیں درخواست دے سکتے ہیں اور وہی اس پر فیصلہ کریں گے۔

مقامی حکومتوں کے صوبائی سیکرٹری نجیب اللہ نے چیف الیکشن کمشنر سے کہا کہ بعض آسامیاں خالی پڑی ہیں وہاں پر تقرریوں کی اجازت تو ہونی چاہیے جس پر چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ جب حکومت کومعلوم تھا کہ انتخابات کا شیڈول آنے والا ہے تو اس نے یہ آسامیاں خالی کیوں چھوڑیں۔ الیکشن کمشنر نے چیف سیکرٹری کامران رسول کو مخاطب ہوکر کہا چیف سیکرٹری صاحب دیکھ لیں کیا ہورہا ہے۔

ننکانہ کو نیا ضلع بنانے اور پنجاب کے چار شہروں، راولپنڈی، گوجرانوالہ، فیصل آباد اور ملتان کو شہری ضلعی حکومت کا درجہ دینے اور ان کو ٹاؤنز میں تقسیم کرنے سے پیدا ہونے والے انتظامی مسائل پر بھی چیف الیکشن کمشنر مطمئن نہیں تھے۔

سیکرٹری مقامی حکومت نے کہا کہ ننکانہ کو اٹھارہ جون کو ضلع بنایا گیا تھا جس سے کچھ یونین کونسلوں کی حدود سے پٹوار سرکل ٹوٹ جاتے ہیں۔

چیف الیکشن کمشنر نے آئی جی پنجاب کو ایک سے زیادہ بار یہ بات کہی کہ وہ کم سے کم ڈی ایس پی اور ایس ایچ او حضرات کے تبادلوں پر انتخابات تک مکمل پابندی لگائیں۔

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ہم لوگ کام کا اعلان پہلے کرلیتے ہیں اور اس کے مضمرات کا بعد میں سوچتے ہیں اور ایسی صورتحال سندھ میں حیدرآباد ضلع کو چار ضلعوں میں تقسیم کرنے سے بھی پیدا ہوئی ہے جہاں بدین ضلع کے بعض علاقے ایک نئے ضلع کی حدود میں شامل کردیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہاں پر نئے ضلعوں میں عدالتی افسران موجود نہیں۔

چیف الیکشن کمشنر نے یہ بھی کہا کہ انتخابات کے انعقاد تک سیلاب کی صورتحال ٹھیک ہوجائے گی اور اس کا انتخابات کے انعقاد پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔

الیکیش کمیشن کے سیکرٹری کنور دلشاد نے اجلاس میں بتایا کہ کمیشن نے مقامی انتخابات کی تمام تیاریاں مکمل کرلی ہیں، ووٹروں کی فہرستیں تیار ہیں، پولنگ اسٹیشنوں کی فہرستیں بھی تیار ہیں اور سامان حاصل کرلیاگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ووٹر فہرستوں میں اس بار اٹھارہ لاکھ ووٹروں کا اضافہ ہوا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد