BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 28 February, 2005, 21:24 GMT 02:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلدیاتی الیکشن 14 اگست تک

News image
وفاقی وزیر کے مطابق بلدیاتی انتخابات غیرجماعتی بنیاد پر منعقد کیے جائیں گے
پاکستان کے پارلیمانی امور کے وفاقی وزیر ڈاکٹر شیرافگن خان نیازی نے کہا ہے کہ حکومت قانونی طور پر رواں سال چودہ اگست تک بلدیاتی انتخابات کرانے کی پابند ہے۔

یہ بات انہوں نے قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران حزب مخالف کے رکن راجہ پرویز اشرف کے پوچھے گئے ضمنی سوال کا جواب دیتے ہوئے کہی۔

پیر کی سہ پہر شروع ہونے والے اجلاس میں پیش کردہ تحریری جواب میں وزیر نے بتایا کہ چاروں صوبائی حکومتوں کے نافذ کردہ ’لوکل گورنمینٹ آرڈیننس 2001 ‘ کے مطابق چاروں صوبوں میں چودہ اگست تک بلدیاتی انتخابات کرانا لازم ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ قانون کے مطابق بلدیاتی انتخابات غیرجماعتی بنیاد پر منعقد کیے جائیں گے۔ البتہ سیاسی جماعتیں اپنے نمائندوں کو نامزد کرتی ہیں۔

پاکستان میں بلدیاتی اداروں کی مدت چار سال ہے۔ ملک بھر میں تین مرحلوں میں الیکشن کمیشن بلدیاتی انتخابات کے انتظامات کرتی ہے اور رواں سال اپریل سے پہلا مرحلے کے انتخابات شروع ہونے ہیں۔

آئندہ بلدیاتی انتخابات کے انعقاد وقت پر نہ کرائے جانے کے بارے میں تاحال حکومت نے کوئی تاثر نہیں دیا لیکن اس کے باوجود بھی اخبارات میں اس کے برعکس خبریں شائع ہوتی رہی ہیں۔

بلدیاتی انتخابات کچھ عرصے کے لیے ملتوی ہونے کی افواہوں پر مبنی خبروں کی اشاعت کے علاوہ حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان ہونے والے رابطوں سے بھی ایسے تاثر میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

ایسی صورتحال میں حکومت کی پیش کردہ اس وضاحت سے واضح ہوگیا ہے کہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد شاید ملتوی نہیں ہوگا۔

تاہم وزیر کا دعویٰ ہے کہ بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کے لیے آئین میں ترمیم کرنی پڑے گی۔

جبکہ قانونی ماہرین کی رائے ہے کہ بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کی مدت متعلقہ آرڈیننس میں درج ہے اور اس آرڈیننس میں ترمیم کوئی بھی صوبہ صدر پاکستان کی پیشگی اجازت سے نہیں کرسکتا۔

ان کے مطابق بلدیاتی انتخابات چودہ اگست تک لازمی منعقد کرنے کی پابندی ختم کرنے کے لیے آئین نہیں بلکہ آرڈیننس میں ترمیم کی جاسکتی ہے۔

ایوان کو وزیر دفاع راؤ سکندر اقبال نے بتایا کہ پاکستان فوج کے اس وقت نو ہزار چھ سو دس فوجی جوان اور افسر اقوام متحدہ کی فوج میں شامل ہوکر دنیا کے مختلف ممالک میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد