BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 10 February, 2005, 08:05 GMT 13:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پیپلز پارٹی انتخابی اتحاد نہیں بنائے گی

پیپلز پارٹی کے اراکین
پاکستان پیپلز پارٹی انتخابات کے لیے تیاری کر رہی ہے (فائل فوٹو)
پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین نے بلدیاتی انتخابات میں کسی جماعت سے انتخابی اتحاد نہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

پیپلز پارٹی کی قائد بینظیر بھٹو کے ترجمان سینیٹر فرحت اللہ بابر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پیپلز پارٹی بلدیاتی انتخابات میں بھر پور طریقہ سے حصہ لے گی لیکن کوئی باقاعدہ انتخابی اتحاد نہیں بنائے گی۔‘

انہوں نےکہا کہ ’ اگر کوئی سیاسی جماعت یہ دعویٰ کرے کہ وہ ان انتخابات میں پیپلز پارٹی کی اتحادی ہے تو اس کا یہ دعویٰ جھوٹ ہوگا۔‘

اگر کوئی سیاسی جماعت یہ دعویٰ کرے کہ وہ ان انتخابات میں پیپلز پارٹی کی اتحادی ہے تو اس کا یہ دعویٰ جھوٹ ہوگا۔
سینیٹر فرحت اللہ بابر
حکومتی اراکین کے مختلف اعلانات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ حکومت اپریل میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

پیپلز پارٹی کا قومی انتخابات کے بارے میں یہ دعویٰ ہے کہ اگرچہ قومی اسمبلی میں نشستوں کے حوالے سے ان کا دوسرا نمبر ہے لیکن ان کی پارٹی کو مجموعی طور پر سب سے زیادہ ووٹ ملے تھے۔

پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ نواز اور دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ اتحاد برائے بحالی جمہوریت یا ’اے آر ّی‘ کے نام سے ایک الائنس بھی بنا رکھا ہے لیکن پارٹی کے قائدین کا کہنا ہے کہ اے آر ڈی کوئی انتخابی اتحاد نہیں ہے اور اس کا مقصد صرف جمہوریت کی بحالی کے لیے مشترکہ جدو جہد کرنا ہے جو کہ جاری رہے گی۔

قائدین کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی پارلینمٹرین ان انتخابات کے لیے کسی سیاسی جماعت سے اتحاد نہیں کرے گی اور صرف پارٹی سے مخلص کارکنوں کو بلدیاتی امیدوار نامزد کیا جائے گا۔

پارٹی قیادت کے اس فیصلے سے صوبائی اور ضلعی عہدیداروں کو بھی مطلع کر دیا گیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ انہیں ان انتخابات کی تیاریوں کی ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں۔

ان ہدایات کے ساتھ ہی ملک بھر میں پارٹی کی ضلعی تنظیموں نے اپنے انتخابی اجلاس کرنا شروع کر دیئے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر کا کہنا ہے کہ پارٹی قیادت نے مقامی عہدیداروں کو اس بات کا اختیار دیا ہے کہ امیداور نامزد کرتے ہوئے اگر پارٹی کے منشور اور اس کے اصولوں پر کوئی زد نہیں پڑتی تووہ مقامی سطح پر انتخابی ایڈجسٹمنٹ کر سکتے ہیں۔

پیپلز پارٹی لاہور کے جنرل سیکرٹری سمیع اللہ خان نے کہا ہے کہ’پارٹی قیادت کی ہدایات کی روشنی میں پیپلز پارٹی لاہور نے اپنے ایک اجلاس میں انتخابی حکمت عملی طے کر لی ہے اور لاہور کی سطح پر اگر مقامی طور پر ضرورت محسوس ہوئی آزاد امیداوروں اور اے آر ڈی میں شامل جماعتوں کے امیدواروں سے خاص خاص بلدیاتی حلقے کی صورتحال کے مطابق انتخابی ایڈجسٹمنٹ پر غور کیا جاسکے گا لیکن مسلم لیگ (ق) اور ایم ایم اے کے امیدواورں سے کسی صورت ایڈجسٹمنٹ بھی نہیں کی جائے گی۔‘

صدر جنرل پرویز مشرف پنجاب کے حالیہ جلسوں میں اپنی تقاریر میں جلد بلدیاتی انتخابات کا عندیہ دے چکے ہیں جبکہ قومی تعمیر نو بیورو کے سربراہ دانیال عزیزکا یہ بیان بھی ذرائع ابلاغ میں نمایاں جگہ حاصل کر چکا ہے کہ بلدیاتی انتخابات اپریل کے وسط میں ہوسکتے ہیں۔

ملک کی مختلف سیاسی جماعتوں نے اس سلسلے میں اپنی تیاریاں پہلے سے شروع کر رکھی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد