BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 04 February, 2005, 12:27 GMT 17:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسلام آباد میں ناظمین کا مظاہرہ

News image
پاکستان کے مختلف حصوں سے آئے ہوئے ناظمین نے آئندہ بلدیاتی انتخابات سے قبل انہیں ہٹائے جانے کے بعد’ایڈمنسٹریٹر‘ تعینات کر کے ان کی نگرانی میں انتخابات کرانے کے معاملے پر پارلیمینٹ کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اور جلوس نکالا۔

مظاہرین نے صدر جنرل پرویز مشرف اور قومی تعمیر نو بیورو کے سربراہ دانیال عزیز کے حق میں جبکہ بیوروکریسی کے خلاف نعرے بلند کیے۔ احتجاج کرنے والوں میں حکومتی اتحاد اور حزب مخالف کی جماعتوں کے ہم خیال اور حمایت یافتہ ناظمین بھی شامل ہیں۔

ناظمین پارلیمنٹ کے ’ڈی چوک‘ سے ہوتے ہوئے وزیراعظم سیکریٹریٹ کے سامنے سے گزرے اور نیشنل لائبریری پہنچے۔ جہاں طے شدہ پروگرام کے مطابق دانیال عزیز نے ان سے ملاقات کی اور انہیں یقین دلایا کہ وہ ان کا موقف صدر تک پہنچائیں گے۔

تین چار سو کے لگ بھگ مظاہرین میں زیادہ تر یونین اور تحصیل ناظمین اور کونسلر تھے لیکن ان کے علاوہ کچھ اضلاع کے ضلعی ناظمین بھی شامل تھے۔

ان کا موقف ہے کہ صوبائی حکومتیں سرکاری اہلکاروں کو’ایڈمنسٹریٹر‘ تعینات کر کے انتخابات پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے بلدیاتی اداروں میں سیاسی مداخلت بند کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

صوبہ سرحد کے ناظمین اس معاملے پر دیگر صوبوں کے ناظمین کی نسبت زیادہ زور دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کے صوبے میں متحدہ مجلس عمل کی حکومت قائم ہے جو نہ صرف صدر کے دو عہدے رکھنے کے خلاف ہے بلکہ مرکز میں مذہبی جماعتوں کا وہ اتحاد حزب مخالف کا کردار ادا کر رہا ہے۔

تاحال حکومت نے دو ماہ بعد اپریل میں شروع ہونے والے بلدیاتی انتخابات سے قبل ناظمین کو ہٹا کر ان کی جگہ ’ایڈمنسٹریٹر‘ تعینات کرنے کے بارے میں فیصلہ نہیں کیا۔

البتہ بعض صوبائی حکومتوں نے ایسا کرنے کے بارے میں وفاقی حکومت کو باضابطہ طور پر سفارشات بھیج رکھی ہیں۔

نیا بلدیاتی نظام بنانے والے ادارے’قومی تعمیر نو بیورو‘ کے سربراہ دانیال عزیز نے صوبائی حکومتوں کی’ایڈمنسٹریٹر‘ تعینات کرنے کی سفارشات کے بعد اپنے بیان میں اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کی قانون میں گنجائش نہیں ہے۔

بلدیاتی ادارے اور قوانین یوں تو صوبائی معاملات ہیں لیکن آئندہ دس برس تک ان قوانین میں ترمیم صدر پاکستان کی پیشگی اجازت کے بغیر آئینی طور پر ممکن نہیں۔

اولاد اور فقہ
ڈی این اے سے اولاد کے تعین پر بحث
جمعہ کے اخبارات
بش اور شوکت عزیز کے ساتھ بلوچستان دھماکے
آج کے اخبارات
سارک سربراہ کانفرنس کا التوا شہ سرخیوں میں
فوج ’عدالت مجاز نہیں‘
ہائیکورٹ فوج کے معاملات میں دخل نہیں دے سکتی
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد