BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 12 June, 2005, 03:04 GMT 08:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پی ٹی سی ایل تنصیبات ، فوج کا پہرہ

فائل فوٹو
یونین سے مذاکرات کی ناکامی کے بعد فوج اور رینجرز نے تمام ایکسچینجز کا انتظام سنبھال لیا ہے۔
پاکستان میں ٹیلی فون کے سرکاری ادارے پی ٹی سی ایل میں ملازمین کی لیبر تنظیموں کے نمائیندوں اور حکومت کے درمیان مذاکرات ناکام ہونے کے بعد ملک بھر میں پی ٹی سی ایل کی تنصیبات پر فوج ،رینجرز اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں نے کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

لاہور میں ایجرٹن روڈ پر پی ٹی سی ایل کے ضلعی دفتر کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی جبکہ احاطے میں ایک فوجی ٹرک کھڑا تھااور متعدد فوجی اہلکار دکھائی دے رہے تھے۔

اس دفتر سے پی ٹی سی ایل کے ملازمین کو نکال دیا گیا تھا۔

ایسی ہی صورتحال لاہور کی مختلف ٹیلی فون ایکسچنجوں اور دفاتر کی بھی تھی اور مختلف ٹیلی فون ایکسچینجوں اور دفاتر اور کیبلز کے سامنے رینجرز اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے اہلکار کھڑے دکھائی دیئے۔

کراچی،اسلام آباد، کوئٹہ، پشاور، فیصل آباد، گوجرانوالہ سمیت ملک کے مختلف شہروں سے اسی قسم کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں۔

فوج کے محکمہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل شوکت سلطان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ محکمہ دفاع اورسول حکومت کے کہنے پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو پی ٹی سی ایل کی تنصیبات پر بھجوایا جارہا ہے اور مختلف مقامات پر تو تعیناتیاں ہو چکی ہیں اور بعض مقامات پر فورسز کے اہلکار جارہےہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ محکمہ ٹیلی فون کی تنصیبات پر جانے والوں میں مسلح اہلکاروں کے علاوہ تکنیکی سٹاف اور فوج کی سگنل کور کے اہلکار بھی شامل ہیں۔ کئی مقامات پر ان اہلکاروں نے تکنیکی معاملات بھی سنبھال لیے ہیں۔

حکومت اور محکمہ ٹیلی فون کی مختلف لیبر تنظیموں کے عہدیداروں کے درمیان مذاکرات ناکام ہونے کے بعد سنیچر کے روز وفاقی وزیر ٹیکنالوجی اویس لغاری اور وزیر نجکاری وسرمایہ کاری عبدالحفیظ شیخ نے دیگر دو وفاقی وزراء کے ہمراہ اسلام آباد میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں پی ٹی سی ایل کی نجکاری کے سلسلے میں نیلامی کے لیے اٹھارہ جون کی تاریخ کااعلان کیا ہے تاہم اس موقع پر انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یہ نجکاری اس کے صرف چھبیس فی صد حصص کی ہوگی جبکہ انہوں نے ملازمین کی تنخواہوں میں تیس فی صد اضافہ سمیت ملازمین کے لیے سوا چار ارب روپے کے مراعاتی پیکج کا اعلان بھی کیا۔

نیلامی کے فیصلے کے بعد پی ٹی سی ایل کی نجکاری کے مخالف مزدور تنظیموں اور ان کی ایکشن کمیٹی نے فوری ملک گیر ہڑتال اور پندرہ جون سے ملک بھر کا مواصلاتی نظام جام کرنے کی اعلان کر دیا جس کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پی ٹی سی ایل کا چارج سنبھالنا شروع کر دیاہے۔

پی ٹی سی ایل ملازمین کی تنظیموں کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ ایک انتلہائی منافع بخش ادارہ ہے اور گذشتہ سال اس کا منافع تیس ارب روپے کے قریب تھا ان کا کہنا تھا ایسے منافع بخش ادارے کی نجکاری ناقابل قبول ہے انہوں نے اسے ملکی اور ملازمین کے مفاد کے خلاف قرار دیا ہے۔

ملازمین اور حکومت کے درمیان یہ چپقلش چند ہفتوں سے جاری ہے جس سے ملک بھر میں پی ٹی سی ایل کے آپریشن متاثر ہورہے ہیں۔

اس سے پہلے حکومت نے نیلامی کے لیے دس جون کی تاریخ مقرر کی تھی لیکن ملازمین کی نوروزہ ہڑتال کے بعد ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں یہ نیلامی ملتوی کردی اور ملازمین نے بھی ہڑتال ختم کر دی تھی لیکن اب تازہ حکومتی اعلان کے بعدایک بار پھرکشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔

پی ٹی سی ایل کے ملک بھر میں پنتالیس لاکھ کے قریب زمینی فون ہیں جبکہ مختلف نجی سیلولر کمپنیوں اور دیگر ادارے بھی اس سے منسلک ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد