BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 28 May, 2005, 03:32 GMT 08:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پی ٹی سی ایل ملازمین کی ہڑتال

پی ٹی سی ایل
کمپنی میں ہڑتال اور احتجاج کا تیسرا روز
پاکستان میں حکومتی ٹیلی فون کمپنی، پی ٹی سی ایل، کی نجکاری کے خلاف فون کمپنی کے ہزاروں ملازمین کا ملک گیر احتجاج اور ہڑتال آج تیسرے روز میں داخل ہوگئی ہے۔

ملک بھر میں پی ٹی سی ایل کے انکوائری نمبر اور شکایات نمبر بند کردیے گئے ہیں، خراب فون لائنوں کی بحالی بند کردی گئی ہے اور نئے ٹیلی فون کنیکشن نہیں لگائے جارہے۔

حکومت پی ٹی سی ایل کی نجکاری کے لیے دس جون کو اس کی نیلامی کرنے جارہی ہے۔ ملک میں زمینی ٹیلیفون سروس پر پی ٹی سی ایل کی اجارہ داری ہے۔

پی ٹی سی ایل ورکرز یونین کے مطابق یہ منافع بحش ادارہ ہے اور اس کی نجکاری سے ملازمین کے مفادات کو نقصان پہنچے گا۔ گزشتہ مالی سال (سنہ دو ہزار تین سے چار) میں پی ٹی سی ایل نے تیس ارب روپے کا منافع کمایا تھا۔ پی ٹی سی یل کے ستر ہزار سے زیادہ ملازمین ہیں۔

پچیس مئی تک پی ٹی سی ایل ملازمین نے نجکاری کے خلاف دو گھنٹے روزانہ علامتی ہڑتال کی لیکن حکومت سے مذاکرات کی ناکامی کے بعد چھبیس مئی سے مکمل ہڑتال کردی گئی۔

لاہور میں پی ٹی سی ایل یونین کے اہلکاروں نے جنرل منیجروں کو ان کے دفتروں سے باہر نکال کر ان کے دفتروں کو تالے لگادیے۔ اسلام آباد میں یونین کے اہلکاروں نے کئی سیکٹرو کے ٹیلی فون کاٹ دیے ہیں۔ کئی شہروں میں آپٹک فائبر ایکسچینجز بھی بند کردیے گیے ہیں۔

مختلف شہروں میں پی ٹی سی ایل ملازمین نے احتجاجی کیمپ لگائے ہوئے ہیں اور ملازمین کالی پٹیاں باندھ کر دفتروں میں جارہے ہیں۔

پی ٹی سی ایل ورکرز یونین کا کہنا ہے کہ پانچ جون تک مواصلاتی نظام کام کرتا رہے گا لیکن اگر اس وقت تک حکومت نے نجکاری کا فیصلہ واپس نہ لیا تو مواصلاتی جام شروع کردی جائے گا جس میں ملک بھر کے ٹیلی فون کام کرنا بند کردیں گے۔

پاکستان میں پی ٹی سی ایل کی زمینی سروس یا فکسڈ لائنز کے صارفین کی تعداد تقریبا پچاس لاکھ ہے۔

پی ٹی سی ایل کے اس وقت اٹھاسی فیصد حصص حکومت کی ملکیت ہیں جبکہ بارہ فیصد حصص اسٹاک مارکٹ کے ذریعے فروخت کیے گئے تھے۔ اب حکومت نے اس نجکاری کے لیے کمپنی کے پچیس فیصد حصص نجی شعبہ کو فروخت کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد