BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 21 May, 2005, 09:39 GMT 14:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان کا گیٹ وے لاہور

لاہور: پاکستان کا ثقافتی گیٹ وے جسےاب صنعتی گیٹ وے بنانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔
لاہور: پاکستان کا ثقافتی گیٹ وے جسےاب صنعتی گیٹ وے بنانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔
پاکستان میں صنعتی اور تجارتی قرضے دینے والے ادارے، انڈسٹریل اور کمرشل کارپوریشن (پکک) کے صدر اور بینکر محمد علی کھوجا نے کہا ہے کہ ان کے ادارے نے لاہور میں دس ٹیکسٹائل ملوں اور چار بڑے ہوٹلوں کے لیے قرضے جاری کیے ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ ہے لاہور کی معاشی ترقی زوروں پر ہے اور یہ پاکستان کا گیٹ وے بنتا جا رہا ہے۔

محمد علی کھوجا ہفتے کو لاہور چیمبر آف کامرس اور انڈسٹری میں کاروباری حضرات سے خطاب کررہے تھے۔

محمد علی کھوجا نے کہا کہ لاہور میں دن رات معاشی ترقی ہورہی ہے اور اس لیے اب ان کا ادارہ لاہور اور پنجاب پر توجہ مرکوز کررہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب اور خاص طور پر لاہور میں معاشی گہما گہمی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان کے ادارہ نے اس سال یہاں پر دس ٹیکسٹائل ملوں اور چار بڑے ہوٹلوں کے لیے قرضے جاری کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پہلے پکک اپنے قرضوں کا ستر فیصد سندھ کو دیا کرتا تھا لیکن اب اس کے قرضوں کا ستر فیصد پنجاب کو دیا جارہا ہے۔

پکک کے صدر نے کہا کہ لاہور میں بھارتی لوگوں کا بہت آنا جانا ہے اور یہ ایک گیٹ وے ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور میں اگلے پانچ سال میں زبردست ترقی ہونے جارہی ہے۔ ان کا دعوی تھا کہ لاہور میں ٹیکسٹائل ملیں، فائیواسٹار ہوٹل اور کلبوں کی ایک بڑی تعداد کھلنے والی ہے اور یہاں جس کلب کی فیس آج دس لاکھ ہے وہ پانچ سال بعد تیس لاکھ ہوجائے گی۔

محمد علی کھوجا نے کہا کہ لاہور میں بسنت کی موقع پر تو گہما ہوتی ہے لیکن یہاں پر اس نوعیت کےکم سے کم پانچ موقعے آتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے ادارے نے گزشتہ پاک بھارت کرکٹ سیریز کے موقع پر بھارت کے کاروباری افراد کی لاہور میں میزبانی کی اور بھارت کے سو بڑے کاروباری افراد ، جیسے ٹاٹا، برلا اور امبانی وغیرہ، چارٹرڈ طیارے میں بیٹھ کر لاہور کرکٹ میچ دیکھنے آئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کے سرمایہ کار دس دس ارب روپے ہاتھ پر رکھ کر انہیں ٹیلی فون کرتے ہیں کہ بتائیے کہ وہ یہاں کیسے آئیں لیکن حکومت کی اس وقت پالیسی یہ ہے کہ سیاسی مسائل پہلے حل ہوں۔

محمد علی کھوجہ نے کہا کہ بھارتی سرمایہ کار پاکستان کی کپڑے اور گاڑیوں کی صنعتوں کے علاوہ دیگر صنعتوں کے بارے میں ان کے ادارے سے معلومات حاصل کرتے رہتے ہیں جبکہ ان کا ادارہ بھارت کی صنعتوں سے متعلق بھارت سے معلومات حاصل کرتا ہے۔

پکک کے صدر نے کہا کہ ملک میں شرح سود دس فیصد تک ہوگئی ہے اور جلد ہی یہ پندرہ فیصد تک ہوجائے گی کیونکہ اب تو غیرملکی بینک بھی یہاں پر ساڑھے دس فیصد پر ڈپازٹ لے رہے ہیں جبکہ آدھا فیصد اسٹیٹ بنک کی فیس ہے، دو فیصد بنکوں کے اخراجات ہیں تو بنک اگر منافغ لیے بغیر بھی قرضہ دیں تو انہیں کم سے کم تیرہ فیصد پر قرض دینا پڑے گا۔

محمد علی کھوجا نے کہاکہ دس سال پہلے پکک کے نوے فیصد قرضے ادا نہیں کیے جارہے تھے لیکن آج اس کا ایک روپیہ کا قرضہ بھی ڈوبا ہوا نہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد