صنعتی ترقی کس قیمت پر؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صنعتی ترقی کس قیمت پر؟ یہ تھا موضوع فیصل آباد شہر میں میں بی بی سی اردو سروس کی طرف سے اتوار کومنعقد کی جانے والی سنگت کا۔ سنگت میں شہریوں نے صنعتکاروں اور ارباب اقتدار پر تنقید کی اور پینل میں شامل صنعتکاروں نے ان کے سوالات کے جواب دیئے۔ شہریوں نے مزدوروں کی حالت، خواتین کے لیے کام کرنے کے بہتر ماحول، شہر کے بنیادی ڈھانچے کی خراب حالت، طبی سہولیات کی کمی، آبی اور فضائی آلودگی اور بغیر مناسب منصوبہ بندی کے ترقی پر اظہار خیال کیا اور سوالات پوچھے۔ سنگت کے دوسرے حصے میں حاصرین کا بی بی سی اردو سروس کی فیصل آباد کا دورہ کرنے والی ٹیم سے تعارف کروایا گیا۔ حاضرین نے بی بی سی کی ادارتی پالیسی اور ریڈیو سروس سننے میں درپیش تکنیکی مسائل کے بارے میں پوچھا۔ بی بی سی کی سنگت میں شرکت کے لیے شہر کے باہر سے بھی لوگ فیصل آباد میں طے شدہ مقام پر پہنچے۔ حاضرین میں ایک بہت بڑی تعداد نوجوانوں کی تھی جو بی بی سی اردو ویب سائٹ کے بارے میں جاننے میں دلچسپی رکھتے تھے۔ سنگت کے پینل میں وفاقی وزیر برائے ٹیکسٹائل مشتاق چیمہ، رکن قومی اسمبلی اور صنعتکار ریحان لطیف، حکومت کے قائم کردہ انسانی حقوق کے ایک ادارے کے رکن مرزا شفیق، ماحولیات کے تحفظ سے متعلق ایک غیر سرکاری ادارے سے تعلق رکھنے والی حمیرا خان، ڈاکٹر زاہد اقبال اور یارن مرچنٹ ایسوسی ایشن کے اشرف گاندھی شامل تھے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ شہر جن مسائل سے دو چار ہے ان میں یرقان سر فہرست ہے۔ انہوں نے فیصل آباد کی صنعتی ترقی کی تاریخ پر مختصر روشنی ڈالی۔ ریحان لطیف نے کہا کہ صنعتکاری سے مسائل پیدا ہوتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ منصوبے تیار کرتے ہوئے ماحول پر ان کے اثرات کا خیال نہیں رکھا جاتا تھالیکن اب ایسا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈبلیو ٹی او پر دستخط کے بعد اب ماحول اور سماجی اثرات کا خیال رکھنا لازمی ہو گیا ہے۔ انہوں نے اس بات سے اختلاف کیا کہ صنعتکار شہر کی ترقی میں دلچسپی نہیں لیتے۔ اپنے موقف کے حق میں انہوں نے محتلف ہسپتالوں میں قائم کیے گئے وارڈوں کا ذکر کیا۔ اشرف گاندھی نے شہر کے ثقافتی ورثہ کے تحفظ پر زور دیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ شہر کا نام دوبارہ لائل پور رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگرشہر کا نام فیصل آباد ہی نام رکھنا ہے تو اس کے لیے لوگوں کو ایک نیا شہر بنانا چاہیے نہ کہ کسی دوسرے کے بنائے ہوئے شہر کو اپنا نام دے دیا جائے۔ ڈاکٹر زاہد اقبال نے بتایا کہ مثانے کے کینسر کے مریضوں میں اضافہ ہوا اور اب یہ مرض نوجوانوں میں بھی پیدا ہو رہا ہے۔ انہوں نے صنعتکاروں سے کہا کہ وہ آگے آئیں اور اپنا کردار ادا کریں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||