BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 11 July, 2004, 15:23 GMT 20:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خواتین چیمبر آف کامرس کی نمائش

وومن چیمبر
وومن چیمبر
پاکستان میں خواتین چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے زیراہتمام پہلی ایک روزہ ’لائف اسٹائل، نمائش گزشتہ روز لاہور کے ایک ہوٹل میں منعقد ہوئی جس میں پاکستان کے مختلف شہروں سے 57 کے قریب خواتین نے سٹال لگائے۔ ان میں کپڑے ، گھریلو ملبوسات، زیورات، بیوٹی ٹیکنیشنز اور میڈیا سے تعلق رکھنے والی خواتین کے اسٹالز نمایاں تھے ۔

گورنر پنجاب کی اہلیہ بیگم روبینہ خالد نے اس نمائش کا باضابطہ افتتاح کیا اور اس موقع پر انہوں نے خواتین کے چیمبر کے قیام کو ایک مؤثر پلیٹ فارم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے خواتین کو ترقی کرنے کے بھر پور مواقع ملیں گے۔

انہوں نے اس سلسلہ میں بھرپور حکومتی تعاون کا یقین دلایا اور اس خواتین چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی کوشش کی حوصلہ افزائی کی۔

خواتین چمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی صدر ڈاکٹر شہلا جاوید اکرم نے اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ اس نمائش کا مقصد کاروبار کرنے والی خواتین کو ایک مخلصانہ پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے کیونکہ ہماری خواتین میں کام کرنے کا جـذبہ بہت زیادہ ہے لیکن ان کو بین الاقوامی سطح پر کام کرنے کا اتنا تجربہ نہیں ہے جس کی وجہ سے ہم ہمسایہ ممالک سے بہت پیچھے ہیں کیونکہ ان کے اور ہمارے کام کے درمیان معیار کا بہت فرق ہے۔

ان کے مطابق بھارت میں فیشن کونسل کافی عرصہ سے کام کر رہی ہے اور ہم اس کو اب بنا ر ہے ہیں۔ ہمیں بین الاقوامی سطح پر اپنے آپ کو منوانے کے لئے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے ۔

ان کے مطابق پاکستان میں خواتین کو زیورات کی صنعت کو فروغ دینے کی ضرورت پرزور دیتے ہوئے کہا کہ اس شعبہ پر تھوڑی سی توجہ ہمیں بھاری زرمبادلہ دے سکتی ہے ۔

ملتان سے نمائش میں شریک کڑھائی کے کپڑے تیار کرنے والی خاتون عائشہ بی بی کا کہنا تھا کہ وہ گذشتہ 16 سال سے یہ کام کر رہی ہے اس سے پہلے وہ اپنے تیار کردہ کپڑے لاہور کے پوش علاقوں کے گھروں میں جا کر فراہم کرتی تھی لیکن اب خواتین چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی صدر ڈاکٹر شہلا اکرم کی معاونت اور انکی رفیق کار کوثر ضیاء کی بدولت اس نے دو آرڈرز پر کپڑے تیار کر کے برطانیہ بھیجے ہیں جو کہ اس کے لئے انتہائی مسرت کا مقام ہے۔ ان کے مطابق وہ ملتان میں اپنے کام کے ذریعے 50 سے 60 خواتین کو روزگار فراہم کر رہی ہے ۔

ٹی وی کی نامور اداکارہ اور پروڈیوسر ثمینہ احمد کا کہنا تھا کہ انہوں نے بھی نمائش میں اپنی پروڈکشنز کے حوالہ سے سٹال لگایا ہے جس میں فیشن کی چیزوں کی بجائے ان کی اپنی پروڈیوس کیے ہوئے ڈراموں کی وڈیوز اور سی ڈیز کو رکھا ہے ۔ ان کے مطابق (WCCI) کے قیام کے بعد مرد ان کی راہ میں روڑے نہیں اٹکا سکیں گے۔

فیصل آباد سے تعلق رکھنے والی محترمہ صدف تسنیم کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ دس بارہ سال سے کاروبار سے منسلک ہیں لیکن مردوں کی کی زیادہ تعداد کے باعث وہ اپنا کاروبار بڑھانے سے قاصر تھیں لیکن اس ڈبلیو سی سی آئی کے زیراہتمام اس نمائش سے انہیں اپنے کاروبار کو بڑھانے کا موقع ملا ہے کیونکہ اس سے پہلے وہ ایسی چیزوں سے نا واقف تھیں ۔

نمائش میں خواتین چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے شعبہ ای۔کامرس کے زیراہتمام اس کی باقاعدہ ویب سائیٹ www.wcci.org.pkکا اجراء بھی کیا گیا ۔

شعبہ ای ۔ کامرس کی انچارج فائزہ جبیں نے بتایا کہ ہم نے مختلف شہروں میں ویب سائیٹ کے اجراء سے پہلے خواتین کو آن لائن کی جدید کاروبار میں اہمیت کے متعلق بتایا ہے اور کاروباری خواتین اس ویب سائیٹ کی ڈائریکٹری میں اپنا نام شامل کروا کر اپنے کام کو بین الاقوامی سطح پر روشناس کروا سکتی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد